22 جمادی الثانی تاریخِ اسلام کا وہ دن ہے جب امتِ مسلمہ نے اپنے سب سے قریبی اور وفادار خلیفہ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو کھو دیا۔ یہ دن ہمیں نہ صرف ان کی عظیم خدمات یاد دلاتا ہے بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا بھی آئینہ دار ہے کہ ہم ایسی ہستیوں کے دنوں کو بھی فراموش کر بیٹھے ہیں، جن کی قربانیوں کے نتیجے میں آج ہم مسلمان ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام آتے ہی ذہن میں صداقت، وفا، اخلاص، قربانی اور قیادت کی وہ روشن مثالیں ابھرتی ہیں جن کی نظیر تاریخ انسانیت میں نایاب ہے۔ آپؓ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اعلانِ نبوت کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لایا۔ آپ کا ایمان اس قدر مضبوط، آپ کی وفاداری اس قدر بے مثال تھی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا” (صحیح بخاری)۔
ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تنہا ساتھی ہونے کا شرف بھی حضرت ابوبکرؓ ہی کو حاصل ہوا۔ قرآن نے اس منظر کو سورۃ التوبہ کی آیت 40 میں محفوظ کر لیا: "جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے: غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”
یہی "یارِ غار” جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں کی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے، تو امت ایک آزمائش میں مبتلا تھی۔ مرتدین کے فتنے، جھوٹے مدعیانِ نبوت، زکوة سے انکار کرنے والے قبائل اور اندرونی خلفشار کے باوجود حضرت ابوبکرؓ نے مضبوط قیادت کا مظاہرہ کیا اور امت کو بکھرنے سے بچا لیا۔ ان کا مشہور قول آج بھی قیادت کے اصولوں میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے: "تم میں سب سے کمزور، میرے نزدیک وہی سب سے زیادہ طاقتور ہے جب تک اسے اس کا حق نہ دلا دوں، اور تم میں سب سے طاقتور وہ ہے جو دوسروں کا حق دبا لے، جب تک کہ میں اس سے وہ حق چھین نہ لوں۔”
حضرت ابو بکر صدیقؓ کا دور خلافت صرف سوا دو سال پر محیط رہا، مگر ان چند سالوں میں انہوں نے وہ بنیادیں رکھیں جن پر خلافت راشدہ کی عمارت کھڑی ہوئی۔ قرآن کو جمع کرنے کا کام، اسلامی لشکروں کی تشکیل، ریاستی نظم و نسق کی بحالی، ان سب کی ابتدا آپ ہی کے دور میں ہوئی۔
22 جمادی الثانی کو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات ہوئی۔ اس دن کو ہمیں ایسے نہیں گزرنے دینا چاہیے جیسے عام دن۔ یہ دن ہمیں ان کے کردار، قربانی اور ایمان کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے اپنی دینی اور تاریخی شخصیات کے ایامِ وفات و ولادت کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ اگر ہم مسیحی، ہندو یا دیگر اقوام کی تاریخوں پر نظر ڈالیں تو وہ اپنی مذہبی اور قومی شخصیات کو یاد رکھنے کے لیے باقاعدہ دن مناتے ہیں، انہیں نصاب کا حصہ بناتے ہیں، ان پر سیمینارز، اجتماعات اور مذاکرے کرتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ 22 جمادی الثانی کو کم از کم تعلیمی اداروں میں ایک فکری دن کے طور پر منائیں۔
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور اہل سنت والجماعت جیسے پلیٹ فارمز ہر سال 22 جمادی الثانی کو مساجد ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں اس حوالے سے لیکچرز، سٹڈی سرکلز اور تقریبات کا انعقاد کررہے ہیں تاکہ نئی نسل ان عظیم ہستیوں کو سمجھے، ان سے جڑاؤ محسوس کرے۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ صرف تقاریر سے نہیں، بلکہ ان کے کردار کو اپنانے سے ہی ہم سچے عاشقِ صدیقؓ کہلائیں گے۔ صداقت، عدل، قربانی اور اخلاص آج بھی ہمارے معاشرے میں نایاب ہو چکے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں حضرت ابوبکرؓ کی سیرت کو اپنائیں۔