امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب تیل بردار جہاز پر قبضےکے بعد 6 بحری جہازوں اور وینزویلا کے صدر کے خاندان کے 3 افراد پر پابندیاں عائد کر دیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والے بحری جہازوں کا تعلق وینزویلا سے ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اس اقدام کی وجہ غیر قانونی تیل کی تجارت روکنے کو قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے گزشتہ روز وینزویلا کے قریب پکڑے گئے ٹینکر کا تیل ضبط کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا۔
اس حوالے سے ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ ٹینکر ایران کے لیے غیرقانونی طریقے سے تیل لے جارہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹینکر کے عملے سے پوچھ گچھ جاری ہے، شواہد بھی اکٹھے کیے جارہے ہیں۔
ادھر وینزویلا کے وزیرخارجہ نے امریکی کارروائی سمندری ڈکیتی قرار دے دی اور کہا کہ امریکا وینزویلا کے وسائل ہتھیانے کا منصوبہ بنارہا ہے ۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ چند ماہ سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر سیاسی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مادورو پر الزام لگایا ہے کہ وہ مجرموں کو امریکا بھیجنے اور منشیات کی اسمگلنگ میں سہولت کاری میں ملوث ہیں۔
دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔