مسٹر فیض حمید! لیفٹینٹ جنرل (ر) فیض حمید سے مسٹر فیض حمید تک کا سفر

پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ میں ایک نام ایسا تھا جو برسوں تک سیاست، حکومت، ریاستی فیصلوں اور اقتدار کے کھیل میں مرکزی کردار سمجھا جاتا تھا—لیفٹینٹ جنرل (ر) فیض حمید۔ وہ نام جو کبھی سیاسی جماعتوں، میڈیا ہاؤسز، بیوروکریسی اور حتیٰ کہ عدالتی فیصلوں تک پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا تھا، آج عدالت کے روبرو ایک ایسے ملزم کی حیثیت سے کھڑا ہے جسے 14 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ یہ منظر شاید چند برس پہلے تک کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔

فیض حمید کا عروج خاموشی سے شروع ہوا۔ وہ اندرونی نظام میں کام کرنے والے، کم بولنے والے مگر انتہائی مؤثر افسر سمجھے جاتے تھے۔ ان کے کیریئر کا اصل موڑ اُس وقت آیا جب وہ آئی ایس آئی کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔ ان کی تعیناتیوں کے ساتھ ہی ملکی سیاست کا دھارا بھی بدلتا محسوس ہوا۔ 2018 کے انتخابات ہوں، حکومتوں کی تشکیل ہو، یا سیاسی انجینئرنگ کی بحث ہر جگہ ان کا نام موجود تھا۔ انہیں عمران خان کا قریبی ساتھی، ایک مضبوط سہارا اور طاقت کا بڑا مرکز سمجھا جاتا رہا۔

ان کے اردگرد تنازعات کی دھند کبھی چھٹی نہیں۔ اپوزیشن کیسز، میڈیا پر دباؤ، بیوروکریسی کی تقرریوں میں کردار، سیاسی معاملات میں مداخلت انہیں ہر الزام کا سامنا رہا۔ طاقت کی وہ چوٹی جہاں وہ کھڑے تھے، پاکستان میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے، مگر تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ایسی بلندیوں پر کھڑے لوگوں کے قدم اکثر غیر یقینی زمین پر ہوتے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد جیسے ان کی طاقت کا توازن پلٹنے لگا۔ وہ خاموشی اختیار کر گئے، منظر عام سے ہٹ گئے، لیکن ریاست کے ادارے ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے رہے۔ اثاثوں، اختیار کے غلط استعمال اور دیگر معاملات میں ان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ تنگ ہوتا گیا۔ آخرکار وہ لمحہ بھی آ پہنچا جس نے ان کے کیریئر اور شخصیت دونوں کو بدل ڈالا عدالت نے 14 سال قید کی سزا سنا دی۔

آج وہی شخص جو کبھی ملک کی سب سے طاقتور شخصیات میں شمار ہوتا تھا، عدالتوں کے سامنے ’’مسٹر فیض حمید‘‘ کہلا رہا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی سزا نہیں بلکہ طاقت کے ڈھانچے میں آنے والی تبدیلی، نئے دور کی شروعات اور پرانے کھیل کے خاتمے کی علامت ہے۔ یہ یاد دہانی بھی ہے کہ بااختیار ترین لوگ بھی قانون سے بالاتر نہیں۔

فیض حمید کا سفر ایک ایسے سبق کے طور پر سامنے آتا ہے جو پاکستان کے ادارہ جاتی مستقبل کو سمجھنے میں اہم ہے۔ طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر قانون اور احتساب کا عمل مستقل اور ناگزیر۔ شاید یہ لمحہ پاکستان کے نظام کے لیے ایک نئے دور کی بنیاد بن جائے جہاں فرد نہیں، بلکہ ریاست کی رٹ مقدم ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے