مشکلات اور پریشانیاں زندگی کا لازمی حصہ ہیں، لیکن انہیں اعصاب پر سوار کر لینا زندگی کو مزید دشوار بنا دیتا ہے۔ زیادہ تر خواتین روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اسٹریس لیتی ہیں، جن میں شوہر کے خراٹوں سے لے کر پڑوسن کی وقت بے وقت آمد تک شامل ہے۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ صبح سویرے اٹھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ دودھ کا برتن رات کو کچن میں ہی رہ گیا تھا، جس کی وجہ سے دودھ خراب ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ کوئی بڑی بات نہیں، لیکن چونکہ گھر کی زیادہ تر ذمہ داریاں عورت پر ہوتی ہیں، اس لیے اسے بھاگ دوڑ بھی کرنی پڑتی ہے، کیونکہ بچے اسکول اور شوہر آفس کے لیے لیٹ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ سب کی خفگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یوں سب کو کسی نہ کسی طرح تیار کر کے ان کی منزل کی جانب روانہ کیا جاتا ہے، مگر اس ساری افراتفری کے بعد دن کا آغاز ہی بوجھل ہو جاتا ہے اور کوئی کام ٹھیک طرح سے نہیں ہو پاتا۔
یہ چھوٹی چھوٹی مگر مسلسل پریشانیاں کسی جہاز پر لدے اضافی بوجھ کی مانند ہوتی ہیں، جو کسی بھی وقت اسے ڈبو سکتی ہیں۔ جس طرح جہاز کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے اضافی بوجھ اتارنا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح زندگی میں ان غیر ضروری پریشانیوں سے نجات حاصل کرنا بھی ناگزیر ہے۔
عموماً ہم بہت سی باتوں کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس لاپرواہی کی قیمت ہمیں ذہنی دباؤ اور تھکن کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ اکثر خواتین یہ نہیں سمجھ پاتیں کہ ان چھوٹی چھوٹی پریشانیوں اور زندگی کے بڑے مقاصد کے درمیان کتنا گہرا تعلق ہے۔
جب تک وہ ان چھوٹی الجھنوں، مسائل اور پریشانیوں سے نمٹنا نہیں سیکھتیں، بڑے اہداف کیسے حاصل کر پائیں گی؟ اس لیے بہتر یہی ہے کہ چھوٹے کاموں کو التوا میں نہ ڈالیں اور اگلے دن کے لیے ضروری امور پر رات ہی میں ایک نظر ڈال لیا کریں۔ خود کو اس بات کا عادی بنائیں کہ ہر چیز استعمال کے بعد اس کی مقررہ جگہ پر ترتیب سے رکھیں۔
یہ عادات آپ کی ذاتی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ جب آپ ذہنی طور پر پرسکون ہوں گی تو گھر کے تمام افراد، خصوصاً شریکِ حیات کے ساتھ آپ کے تعلقات بھی خوشگوار رہیں گے۔
رہے وہ مسائل جن کا تعلق دوسروں سے ہے، جیسے رات گئے دوستوں کی بلا وجہ فون کالز یا پڑوسن کی بے وقت آمد، تو ایسی صورت میں اپنی ترجیحات دوسروں پر واضح کر دیں۔ انہیں بتائیں کہ آپ کب دستیاب ہو سکتی ہیں اور کب نہیں۔ اکثر لوگ یہ بات سمجھ لیتے ہیں اور تعاون بھی کرتے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں کو بدلنا ممکن نہیں ہوتا، ایسے میں اپنی ذہنی سلامتی کے لیے مناسب حد تک فاصلہ رکھنا ہی بہتر حل ہوتا ہے۔