میں نے وہ تالا کھولا جس کا پاس ورڈ آفاق بھائی نے کمرے کے نمبر کے ساتھ واٹس ایپ پر بھیجا تھا۔ پاس ورڈ چار ہندسوں پر مشتمل تھا، جب کہ تالے پر صرف تین ہندسے موجود تھے۔ ایک تو پہلے ہی تھکا ہوا تھا، دوسرا کچھ زیادہ ہی کنفیوز۔ خیر، ہندسوں کو آگے پیچھے کیا قسمت آزمائی کی، اور دروازہ کھل ہی گیا۔
اندر داخل ہو کر بیگ رکھا اور سب سے پہلا کام یہ کیا کہ چارپائی پر دراز ہو گیا۔ وجہ صاف تھی تین بجے شاپنگ کے لیے نکلنا تھا اور آفاق بھائی کے آنے تک کچھ آرام لازم تھا۔
آفاق بھائی میرے وہ ہم سفر ہیں جن سے رفاقت کا آغاز پشاور لٹریری فیسٹیول سے ہوا، پھر سمر کیمپ میں ایوبیہ اور ناران، اور اب ینگ لیڈرشپ کانفرنس کے لیے کراچی یہ ہمارا اگلا پڑاؤ تھا۔ سمر کیمپ کے حوالے سے میں نے کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں لکھا بھی تھا، جو آئی بی سی اردو اور میرے آفیشل فیس بک پیج پر موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب سے پشاور آیا ہوں، حلقۂ اربابِ ذوق دیکھا، اہلِ قلم کی صحبت ملی، تب سے لکھنے کا شوق کچھ زیادہ ہی جاگ اٹھا ہے۔ لکھنے کی باقاعدہ رسم سے تو پوری طرح واقف نہیں، مگر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش ضرور کر لیتا ہوں۔
کچھ دیر آنکھ لگی ہی تھی کہ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔ اندازہ یہی تھا کہ آفاق بھائی ہوں گےاور واقعی وہی تھے، اپنے ان دوستوں کے ساتھ جو اسی ہاسٹل روم میں مقیم تھے۔ علیک سلیک کے بعد آفاق نے بتایا کہ ایک اور دوست آ رہا ہے، جو ہمارے ساتھ سفر میں شامل ہوگا، اس لیے تھوڑا سا انتظار کر لیتے ہیں۔
اسی دوران تعارف ہوا
“یہ میرا دوست حمزہ ہے، پشاور یونیورسٹی میں ایل ایل بی کر رہا ہے۔
اور حمزہ سے مخاطب ہو کر فرمایا
یہ حسین احمد ہے، آئی ٹی کا طالب علم ہے… اور افسانہ نگار بھی ہے، بہت اچھا لکھتا ہے۔
یہ تعارف کچھ زیادہ ہی مبالغہ آمیز تھامگر میں نے خاموشی میں ہی اس سخاوتِ الفاظ پر شکر ادا کیا۔
میں نے سوچا کہ یونیورسٹی ٹاؤن میں رہنے والے اپنے کزن محمود الحسن کو بھی بلا لوں، تاکہ وہ بھی شاپنگ میں شامل ہو جائے۔ اسے پیغام بھیجا کہ بہت دنوں بعد پشاور آیا ہوں، ملاقات کا یہی موقع ہے، پشاور یونیورسٹی کے مین گیٹ پر آ جاؤ۔ جواب آیا کہ انٹرنیٹ پیکج نہیں ہے، کال کرتے رہنا۔ میں نے حامی بھر لی۔
اسی اثنا میں آفاق کا وہ دوست بھی آ پہنچا، جس کا انتظار تھا۔ اب قافلہ مکمل ہوا تو روانگی کا فیصلہ ہوا۔ راستے میں آفاق نے تعارف کروایا
یہ روح اللہ ہے تعلق دیر سے ہے اور یہاں کامرس کر رہا ہے۔
دیر کا نام سنتے ہی میں نے بے ساختہ پوچھا:
دیر میں کہاں سے؟
جواب آیاکنبڑ میدان۔
یہ سن کر دل خوش ہو گیا، اس لیے کہ وہاں میری خالہ رہتی ہیں اور بدقسمتی سے یاد پڑتا ہے کہ زندگی میں بس دو بار ہی وہاں جانا نصیب ہوا ہے خالہ اس بات کا گلہ بھی بہت کرتی ہیں مگر کیا کیجیے دو ہزار پچیس کی مصروفیات نے اس سال بھی اجازت نہ دی۔
روح اللہ بھائی سے خوب گپ شپ چل رہی تھی۔ آفاق آگے آگے چل رہے تھے، بس ٹکٹ کے معاملات میں مصروف میں نے سوچا جب تک ہم مارٹ پہنچتے ہیں، یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ اور واقعی، سب معاملات طے ہو گئے۔
ہم اسلامیہ کالج کے گیٹ تک پہنچے، جب کہ محمود الحسن کو میں نے پشاور یونیورسٹی کے مین گیٹ پر کھڑا ہونے کا کہا تھا۔ میں کالز کرتا رہا مگر شاید سگنل کی خرابی نے رابطہ ممکن نہ ہونے دیا۔ اس بےچارے نے خاصی خوار ی اٹھائی، مگر آخرکار وہ بھی ایک شاپنگ مال میں ہم تک پہنچ گیا۔
مغرب کی نماز وہیں ادا کی۔ آفاق نے کہا کہ کچھ شاپنگ یہاں ہو گئی ہے، باقی کراچی جا کر کر لیں گے، اور اب ہاسٹل واپس چلتے ہیں۔ میں نے محمود کے ساتھ ہوٹل میں بریانی کھائی، پھر ہاسٹل لوٹ آئے۔
کمرے میں حمزہ بھائی موجود نہیں تھے۔ میں نے محمود کے ساتھ بیگ سیٹ کیا۔ کچھ دیر بعد آفاق اور روح اللہ بھی آ گئے۔ گپ شپ ہوئی، پھر محمود اپنے ہاسٹل واپس چلا گیا۔ آفاق نے اپنی خریدی ہوئی شرٹ اور دیگر سامان دکھایا۔ اتنے میں حمزہ بھی آ گئے، ان کی رائے لینا ضروری تھی کیونکہ صاف ظاہر تھا کہ وہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔
پھر کھانے کا پروگرام بنا، کسی ہاسٹل ہوٹل میں کھانا کھایا، آفاق نے کچھ اور چھوٹے موٹے کام نمٹائے، اور ہم واپس ہاسٹل پہنچ گئے۔ حمزہ بھائی نے “رات کا ماحول” بنا دیا، اور میں شدید تھکن کے باعث سو گیا۔
اگلی صبح تقریباً دس بجے آنکھ کھلی تو نماز یاد آئی۔ شدید تھکن کے باعث فجر میں آنکھ نہ کھل سکی یہ اعتراف ضروری تھا۔ ناشتہ کیا تازہ دم ہوئے میں کپڑے استری کرنے لگا تو حمزہ بھائی نے فوراً استری میرے ہاتھ سے لے لی اور فرمایا
آپ کراچی میں نہیں خیبر پختونخوا میں ہیں یہاں مہمان یہ کام نہیں کرتے۔
میں نے بہت اصرار کیا، مگر وہ نہ مانے۔ چارپائی پر بیٹھ گیا، اور حمزہ بھائی کپڑے استری کرتے ہوئے قانون کی کئی شقیں بھی سناتے رہےیوں علم اور کپڑے دونوں استری ہوتے رہے۔
آفاق بھائی دو ٹینشنوں میں مبتلا تھے ایک بیگ جو گاؤں سے آنا تھا، اور دوسرا موبائل کی فل اسٹوریج۔ ہر طرح کا جگاڑ آزمایا گیا، مگر مسئلہ حل نہ ہوا۔ البتہ گپ شپ خوب ہوئی۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے حمزہ اور روح اللہ نئے نہیں، صدیوں پرانے دوست ہوں۔
آفاق نے مشورہ دیا کہ ینگ لیڈرشپ کانفرنس پر ایک سفرنامہ لکھوں، اور اس کا آغاز اسی کمرے سے کروں۔ حمزہ اور روح اللہ نے بھی تائید کی۔ یوں میں نے ہر لمحے کو سنجیدگی سے نوٹ کرنا شروع کر دیا۔
تیاری مکمل ہوئی بیگ اٹھائے تو حمزہ بھائی نے میرا بیگ بھی مجھ سے لے لیا اور کہا:
یہ میں لے کر جاؤں گا
باہر تک ہمیں چھوڑنے آئے۔ رائیڈ بک کی اور بس اڈے کی طرف روانہ ہوئے۔ میں نے گروپ میں حریرہ اور ثروت کو میسج کیا وہ بھی راستے میں تھے۔ بس تاخیر کا شکار تھی، اس لیے انتظار کرنا پڑا۔ شام چھ بجے بس آئی، ہم سوار ہوئے۔
میں اور آفاق بزنس کلاس میں تھے، حریرہ اور ثروت نارمل سیٹوں پر۔ میں نے شیشے والی سیٹ مانگی، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایئر بڈز لگائے، نصرت فتح علی خان سننے لگا۔ آفاق نے اپنی اسکرین سے کنیکٹ کرنے کی کوشش کی، مگر آپشن ہی موجود نہ تھا۔ بالآخر معاہدہ ہوا کہ جب میں سوؤں گا، سیٹ بدل لیں گے۔
راستے میں فلم دیکھی، ایک ہوٹل پر کھانا کھایا، وہیں حریرہ اور ثروت کو گلوبل شیپر میں منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ واپسی پر نیند نے آ لیا۔
صبح چار بجے آنکھ کھلی نیند نہ آئی، تو موبائل کے نوٹس میں لکھنا شروع کیا۔ ینگ لیڈرشپ کانفرنس
ایک دیرینہ خواہش اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی۔ اس میں میری محنت کے ساتھ ساتھ بہت سے دوستوں کی دعائیں اور کوششیں شامل ہیں۔
شہاب بھائی، نیشنل یوتھ والنٹیئر نیٹ ورک، ڈاکٹر ناصر علی سید، ڈاکٹر خالد مفتی صاحب، اور عبد الرحمن سر اور کلاڈو۔ اور نمکین پشاوری سب کا دل سے شکر گزار ہوں۔
ان شاء اللہ، کانفرنس کی تمام سرگرمیوں پر تفصیل سے لکھوں گا۔
تب تک کے لیے
اللہ حافظ۔