22 جمادی الثانی کی تاریخ اسلامی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہی وہ دن ہے جب خلیفۂ اوّل، یارِ غارِ مصطفیٰ ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ اسی تاریخ 1447 ہجری میں ایک اور صدیقی نسبت کے حامل مردِ کامل، پیر طریقت، رہبر شریعت حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی مجددیؒ بھی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔
پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کوئی معمولی شخصیت نہ تھے۔ وہ نہ صرف مکتبِ دیوبند کے علمی و روحانی ورثے کے امین تھے بلکہ عالمِ اسلام میں ان کا شمار اُن صوفیاء میں ہوتا تھا جنہوں نے تصوف کو دینِ شریعت کے دائرے میں رکھا۔ ان کا پیغام سادگی، سنت، اصلاحِ نفس اور تعلق مع اللہ پر مبنی تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی تصوف کی اصل روح، یعنی قرآن و سنت کے مطابق دلوں کی اصلاح، نیتوں کی درستگی، اور اخلاقِ نبوی ﷺ کو عام کرنے میں صرف کی۔ان کی دعوت میں نہ غلو تھا، نہ بازارِ تصوف کی مصنوعی چمک، بلکہ وہ اخلاص، علم، عاجزی اور محبت کا پیکر تھے۔ وہ دلوں کو جوڑنے والے، زبانوں کو نرم کرنے والے، اور نگاہوں کو اللہ کی طرف موڑنے والے مرشد تھے۔ ان کے خطابات میں علم بھی ہوتا تھا، درد بھی، محبت بھی اور سوز بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لاکھوں مرید دنیا بھر میں آج بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔
پیر صاحب کے وصال کی خبر سے دل و دماغ پر جو سکتہ طاری ہوا، ابھی وہ زائل نہ ہو پایا تھا کہ اسی رات ایک اور صوفی بزرگ، صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندیؒ کے وصال کی خبر آ گئی۔ یہ دو ہستیاں اپنے اپنے حلقوں میں روحانیت، محبت، اخلاص اور نسبتِ نبوی ﷺ کا روشن چراغ تھیں۔ ان کا بیک وقت رخصت ہو جانا ایک ایسا صدمہ ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا دل اہلِ دل سے جڑا ہو۔
ایسا لگتا ہے جیسے زمین سے علم اور نور اٹھایا جا رہا ہو۔ جیسے وہ پیش گوئی پوری ہو رہی ہو جو نبی کریم ﷺ نے قربِ قیامت کی علامات میں فرمائی تھی کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اور اہلِ علم دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔
ان اہلِ علم و طریقت کا اٹھ جانا صرف ایک خلا نہیں، بلکہ ایک روحانی قحط کا آغاز ہے۔
پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ نے ہمیں جو پیغام دیا، وہ یہی تھا کہ دنیا میں رہو، مگر دل آخرت سے جوڑ لو۔ دین کو رسم نہیں، حقیقت بناؤ۔ تصوف کو گمان نہیں، عمل کی بنیاد پر جیو۔ وہ اصلاحِ باطن کے قائل تھے اور تصوف کو “سنت کے دائرے میں رہ کر اللہ کی تلاش” قرار دیتے تھے۔
آج ان کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے، لیکن اہلِ دل جانتے ہیں کہ جو اللہ کے لیے جیتے ہیں، وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ان کا فیض جاری رہتا ہے، ان کی دعائیں محفوظ رہتی ہیں، ان کی تربیت نسلوں کو سیراب کرتی ہے۔
ہم بارگاہِ الٰہی میں دست دعا ہیں کہ:
اللہ تعالیٰ ان دونوں بزرگوں کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ان کا فیض تا قیامت جاری و ساری رکھے۔ آمین۔