چلتے ہو تو چین کو چلیں: زندگی کا پہلا بین الاقوامی سفر

دو ہزار آٹھ کی بات ہے۔ میرے بڑے بھائی سید عابد شاہ، جو قومی اسمبلی میں ملازم ہیں، گھر آئے اور بتایا کہ چین کی منسٹری آف یوتھ منتخب نوجوانوں کو اسکالرشپ پر چین آنے کا موقع دیتی ہے۔ کہیں سے انہوں نے یہ بات سنی اور میرے کانوں میں پڑ گئی، جس بات نے مجھے سب سے زیادہ جستجو میں ڈالا وہ یہ تھی کہ وہ ٹکٹ بھی اپنی طرف سے دیتی ہے۔

ان دنوں میں خیبر نیوز سے وابستہ تھا۔ میرا شیڈول بہت سخت تھا: صبح NUML یونیورسٹی سے MSc IR کے سمسٹر لیتا تھا، دوپہر کو خیبر نیوز کے لیے اسپورٹس کا آدھا گھنٹے کا پروگرام کرتا تھا، اور رات کو کسی انگریزی کال سینٹر میں نوکری بھی جاری تھی۔ یقین کریں، اسلام آباد میں رہتے ہوئے تین تین دن تک گھر آنا مشکل ہو جاتا تھا۔

کبھی آفس میں سو جایا کرتا تھا، کبھی یونیورسٹی میں، اور کبھی کال سینٹرز میں، یہاں تک کہ مساجد میں بھی راتیں گزار چکا ہوں۔ مگر سچ یہ ہے کہ مجھے تو اس طرح کی چیلنجنگ زندگی اچھی لگتی تھی۔

بابا جان کی ایک نصیحت سن رکھی تھی: "حوصلہ کبھی مت ہارنا”، اور یہ سبق میرا نصب العین بن گیا تھا۔ عابد شاہ بھائی کے مجھ پر بہت زیادہ احسانات ہیں۔ پڑھائی سے لے کر نوکریوں تک، ہر وقت میں نے ان کو اپنا رہبر اور بھائیوں میں لیڈر پایا ہے۔ وہ اسمارٹ ہیں، خوبصورت ہیں، اور سب سے بڑھ کر سمجھدار اور تجربہ کار انسان ہیں۔ اگر چہ میں ان کے معیار پر کبھی پورا نہیں اتر سکا، البتہ میں ہمیشہ ان جیسا بننے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان شاءاللہ ان کا تذکرہ کسی دن تفصیل سے کروں گا۔

مگر یہاں ان کا تذکرہ اس لیے ضروری سمجھا کہ میری زندگی کا پہلا بین الاقوامی سفر چین کا تھا اور اس کے لیے راہ انہوں نے ہموار کی تھی۔ ان کا ایک جملہ مجھے چین اور ہانگ کانگ لے گیا۔ میں اگلے دن کسی طرح Ministry of Youth پہنچا، جن کا دفتر بھی شہیدِ ملت سیکریٹریٹ، سیکٹر جی-6، اسلام آباد میں تھا۔ وہاں حاضر ہوا تو حکومتِ پاکستان کے سول سروس کے ایک نہایت ہی قابل آفیسر عباس خان سے ملاقات ہوگئی۔

میں نے عرض کیا کہ کوئی اسکالرشپ ہے، میں خیبر ٹی وی میں کام کرتا ہوں، ماسٹرز کا طالب علم ہوں، اور میں نے بھی جانا ہے۔ انہوں نے بہت پیار سے سمجھایا اور کہا کہ "میں آپ کو پہچانتا ہوں، میں نے خیبر نیوز پر آپ کے پروگرام دیکھے ہیں۔ کیا آپ کے پاس پاسپورٹ ہے؟” میں نے کہا: "نہیں ہے”۔ کہتے ہیں: "پہلے پاسپورٹ بناؤ، ان شاء اللہ تم بھی جاؤ گے”۔ اس کے بعد تو جذبات میں گویا ایک طوفان سا آگیا۔ میں چین جانے والا تھا! "چلتے ہو تو چین کو چلئیے”۔

خوشی سے لفٹ کی بجائے 14 یا 15 منزلہ بلڈنگ کی سیڑھیوں پہ بھاگتا ہوا اترا اور سیدھا پاسپورٹ آفس میں سونامی کی طرح داخل ہوا۔ ایسی ایمرجنسی بنائی کہ تین یا چار دن کے اندر زندگی کا پہلا پاسپورٹ میرے ہاتھ میں تھا، اور پیر میرے Ministry of Youth کے آفس میں۔ جولائی کا آخری ہفتہ تھا، اور اگست 2008 کے پہلے ہفتے میں ہم تھے، یعنی میں ناچیز تھا، چین میں! واہ واہ۔ یہ بھاگ دوڑ آج یاد کرتا ہوں کہ سب کچھ کیسے کیا تو خود پر حیرت ہوتی ہے۔ میرے ساتھ سو اور لوگ تھے، اور ہم باقاعدہ پاکستان چائنا یوتھ ایکسچینج پروگرام کا حصہ تھے۔

پاکستان اور چین کے درمیان نوجوانوں کے وفود کا یہ سلسلہ ایک معاہدے کے تحت ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے نوجوان دونوں ممالک کے ثقافتی اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے سلسلے میں دورے کریں گے تاکہ ایک دوسرے کے ثقافت اور تاریخ سے بہرہ ور ہو سکیں۔ بنیادی طور پر دونوں ممالک کے درمیان 1965 سے کَلچرل کوآپریشن ایگریمنٹ (Cultural Cooperation Agreement) موجود ہے، جس میں بہت سارے شعبے شامل ہیں جن میں نوجوانوں کے اُمور بھی شامل ہیں۔ مزید براں ان معاہدوں پر 2003 میں مزید مفاہمت اور دستخط ہوئے ہیں۔ 2007 میں چین کے سفیر نے اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے 5 سالوں میں 500 نوجوانوں کی میزبانی کریں گے جن کا مقصد دونوں ممالک کی دوستی کو مزید فروغ دینا تھا۔ یہ تبادلے دونوں ممالک کی وزارتِ اُمورِ نوجوانان کے ذریعے ہوتے تھے۔

عباس خان ہمارے رہبر تھے۔ پہلے دن ہم بیجنگ پہنچے اور چند لمحوں بعد چین والے ہمیں بیجنگ کے قریب سے گزرنے والے دیوارِ چین کے حصے پر لے گئے۔ میں فاسٹ باؤلر تھا، پہاڑی بھی تھا، خوش بھی تھا، اور ہاتھ میں کیمرا بھی صبح و شام ہوتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ مجھے نہ صرف منسٹری آف یوتھ کے لیے بلکہ خیبر ٹی وی کے لیے بھی ریکارڈنگ کرنی ہوتی تھی۔

ان دنوں کہاں آج کل کے پرومیکس موبائل! ایک ہینڈی کیمرا اور وہ چھوٹی کیسٹس جن میں ریکارڈنگ کرنی ہوتی۔ اپنی ریکارڈنگ یا شاٹس لینے کے لیے کسی اور بھائی کو درخواست کرنی پڑتی۔ ہاتھ تھک جاتا۔ مگر شکریہ اس وقت کے خیبر ٹی وی کے دوست کیمرا مین ابرار لالا کا جنہوں نے سختی سے تاکید کی تھی کہ ریکارڈنگ کے دوران ہاتھ مت ہلانا، شٹر اور کلر فیڈنگ کا خاص خیال رکھنا، اور کچھ اور ریکارڈنگ کے دوران تکنیکی احتیاط بھی پیش نظر رہتی۔

یہ سب مسائل اس لیے تھے کیوں کہ ہمارا کیمرا پروفیشنل نہیں تھا اور وہ ریکارڈنگ خیبر نیوز کے ہفتہ وار پروگرامز کے لیے چلانی تھی۔ لہٰذا پروفیشنلزم کا خیال رکھنا بہت ضروری تھا۔ خوش قسمتی سے چین ان دنوں میں، یعنی اگست 2008 میں، بیجنگ اولمپکس کا میزبان تھا، اور میں تھا اسپورٹس رپورٹر۔ پاکستانی وفد کے لیے پہلے یا دوسرے دن پاکستان ایمبیسی چائنا نے چائے کی دعوت رکھی تھی۔ میں بھی گیا مگر چائے کے فوراً بعد وہاں سے بھاگتا ہوا کسی بس میں پہنچا چین کی برڈز نیسٹ بلڈنگ ۔

یہ برڈز نیسٹ بلڈنگ خصوصی طور پر اولمپک مقابلوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ بہت دلچسپ گراؤنڈ تھا اور بہت چرچا تھا ان دنوں اس جگہ کا۔

میں نے ریکارڈنگ کی اور ہوٹل پہنچا وفد سے پہلے۔ مجھے بیجنگ، چائنا میں دو جگہوں نے کافی متاثر کیا ایک دیوارِ چین نے ، اور دوم فوربیڈن سٹی نے۔ بیجنگ کے وسط میں یہ ایک شاہکار ہے۔ یہ چین کے پرانے بادشاہوں کا شہر ہے۔ بندہ مغل دور کی تعمیرات بھول جائے دیکھ کر۔ کہتے ہیں جس بادشاہ نے فوربیڈن سٹی بنوائی تھی، تخت نشین ہوا تو بعد میں خود ایک عام سیاح کے طور پر اس کو بھی اس وقت کے حساب سے ٹکٹ لے کر فوربیڈن سٹی جانا پڑا۔

چین کی تاریخ بنیادی طور پر 10 کے قریب کم و بیش ڈائنسٹیز (خاندانِ شاہی) پر محیط ہے۔ ان کی شروعات شیا (Xia) ڈائنسٹی سے ہوتی ہے جو 2070 سال قبل مسیح سے شروع ہوئی تھی اور تقریباً 1600 سال قبل مسیح تک چلی تھی۔ ان سلسلوں کی آخری ڈائنسٹی چِنگ (Qing) کے نام سے مشہور ہے جو 20ویں صدی میں پایۂ تکمیل کو پہنچی تھی۔ ان کے علاوہ تَنگ (Tang)، سُوئی (Sui)، جِن شُمالی اور جنوبی ڈائنسٹیز بھی خاصی مشہور ہیں۔

دیوارِ چین کو بھی ان مختلف ڈائنسٹیز کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ زیادہ کام مِنگ (Ming) اور چِن (Qin) ڈائنسٹیز کے دور میں ہوا تھا۔ چنگیز خان نے 1211 میں جِن (Jin) ڈائنسٹی کے دور میں دیوارِ چین پر حملہ کیا تھا اور کچھ جگہوں پر دیوار کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہ دور منگول-جِن جنگ کے نام سے مشہور ہے۔ دیوارِ چین کا مقصد ہی چینیوں کو باہر کے حملوں سے محفوظ کرنا تھا۔

چینی بہت تاریخی لوگ ہیں۔ یہ مختلف ڈائنسٹیز کی صورت میں ایک لاجواب تاریخ رکھتے ہیں۔ کسی اور دن اس پر لب کشائی کروں گا۔ بیجنگ کے بعد ہم اور مختلف علاقوں، صوبوں، شہروں میں گئے۔ ہم نے برف، دریا، سمندر، پہاڑ، شہر کچھ بھی نہ چھوڑا۔ وفد کے علاوہ بھی میں کیمرا لیے ہر چھوٹی بڑی چیز کو ریکارڈ کرتا۔ بسا اوقات حیرت میں گم رہتا۔ اچانک ہوائی سفر اور چین جانا ایک ٹین ایج لڑکے کے لیے بہت عجیب تجربہ ہے۔ ہمارا پڑاؤ ہوا ایک دن ووہان شہر میں۔ جہاں پچھلے سالوں میں مشہور ہوا کہ کووِڈ کا وائرس یہاں سے آیا۔ یہ شہر چین کے ہوائی (Hubei) مشرقی صوبے میں آتا ہے۔ خوبصورت دریا ہے۔ پتا نہیں کووِڈ یہاں کیسے آیا۔

اس کے بعد ہم شینزن (Shenzhen) شہر گئے جو نیو یارک کے طرز پر بنا ہے اور ہانگ کانگ کے قریب پڑتا ہے۔

اللہ چین کو اسی طرح آباد رکھے۔ بہت کھلایا پلایا، خوب سیر سپاٹا کروایا، اپنی تاریخ کا سبق دیا، اپنی ٹیکنالوجی دکھائی۔ 2008 میں ایک سینما کی سی جگہ یا تھیٹر کہہ لیں لے کر گئے۔ پہلے کوئی دلچسپ معلومات پر مبنی ڈاکیومنٹری دکھائی، پھر اور بہت سے تاریخی حوالہ جات، مگر جب لائٹس آن ہوئیں اور مرکزی پردہ بند ہوا سینما کا تو ہم سب شرکاء سوئے ہوئے تھے۔ قصہ مختصر، ہم شینزن جو گوانگ ڈونگ (Guangdong) صوبے میں آتا ہے، کچھ دن ٹھہرے، اور براستہ بس ہانگ کانگ چلے گئے۔

ہانگ کانگ میں قیام رسمی سا تھا مگر سمندر کے عین وسط میں بنے اونچے اور دراز قد عمارتوں نے بہت متاثر کیا۔ چین جا کر پتا چلا کہ دنیا تو بہت خوبصورت ہے، بڑی ہے۔ اور وہاں سے شروع ہوا میرا نہ ختم ہونے والا مختلف ممالک کا سلسلہ جو اب تک جاری ہے، اور اس پر قلم کے ذریعے قارئین سے محوِ گفتگو رہوں گا، ان شاء اللہ۔

چین اس کے بعد میں اور بھی ایک دو مرتبہ گیا ہوں۔ بہت سی یادیں اور نئی معلومات ملیں۔ چین ایک بہت بڑا ملک ہے۔ ہر بار آپ کو نیا کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ پاکستانیوں کو پسند کرتے ہیں اور ہم بھی ان کو پسند کرتے ہیں۔ چین پر ایک کالم سے دل نہیں بھرے گا۔ لہٰذا پھر کسی دن قلم اٹھا کر چلتے ہو تو چین کو چلیئے کا الاپ باندھیں گے، ذہن پر زور دیں گے اور کیا دیکھا، سنا کی زیر قلم کریں گے، ان شاء اللہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے