خیبر پختونخوا کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے۔ اس دھرتی نے ایسے شخصیات کو جنم دیا جنہوں نے پشتو شاعری اور فکر کو نئی جہتیں عطا کیں۔ خوشحال خان خٹک کی تلوار اور قلم نے پشتونوں کو ایک نئی شناخت دی، رحمان بابا کی صوفیانہ شاعری نے دلوں کو سکون بخشا، اور غنی خان کی فلسفیانہ شاعری نے پشتو ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ اجمل خٹک نے سیاسی اور ادبی میدان میں اپنی آواز بلند کی اور پشتو زبان کو نئی توانائی دی۔ یہی سرزمین تھی جس نے بیسویں صدی کے وسط میں ایک اور چراغ روشن کیا، جسے دنیا پروفیسر پریشان خٹک کے نام سے جانتی ہے۔ یہ چراغ نہ صرف پشتو ادب کو روشنی بخشتا رہا بلکہ پاکستان کے علمی اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنی بصیرت سے منور کرتا رہا۔
پریشان خٹک کا اصل نام غمے جان خٹک تھا۔ وہ 10 دسمبر 1931 کو ضلع کرک میں پیدا ہوئے۔ کرک کی سنگلاخ زمین اور پشتون معاشرت نے ان کی شخصیت کو وہ مضبوطی عطا کی جو بعد میں ان کے علمی اور ادبی سفر میں نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کے والدین کے نام اور خاندانی تفصیلات عوامی ریکارڈ میں محفوظ نہیں، مگر یہ بات طے ہے کہ ان کی تربیت میں پشتون روایات، غیرت، علم سے محبت اور خدمتِ خلق کا جذبہ شامل تھا۔ یہی عناصر بعد میں ان کی شخصیت کا حصہ بنے۔
بچپن ہی سے ان کے خواب علم اور شاعری کے گرد گھومتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ پشتونوں کی شناخت کو علمی بنیاد پر اجاگر کریں اور اپنی زبان کو دنیا کے سامنے فخر کے ساتھ پیش کریں۔ یہ خواب انہوں نے نہ صرف دیکھا بلکہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں اسے حقیقت کا روپ دیا۔ ان کی کتاب "پشتون کون؟” آج بھی پشتون شناخت پر ایک مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب نے پشتونوں کو اپنی تاریخ اور ثقافت کو سمجھنے کا موقع دیا اور انہیں اپنی جڑوں سے جوڑا۔
پروفیسر پریشان خٹک کی شخصیت میں نظم و ضبط، عاجزی اور علمی جستجو نمایاں تھی۔ وہ نہ صرف ایک استاد تھے بلکہ ایک رہنما بھی تھے۔ طلبہ کے لیے وہ مشفق استاد کی حیثیت رکھتے تھے اور ساتھیوں کے لیے ایک معتبر دوست۔ ان کی گفتگو میں فلسفہ جھلکتا تھا اور ان کی شاعری میں محبت اور انسانیت کی خوشبو۔ وہ ایسے شخص تھے جنہوں نے علم کو عبادت سمجھا اور ادب کو خدمتِ خلق کا ذریعہ بنایا۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ علم اور ادب کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرتے تھے۔
ان کے سفر کا آغاز محکمۂ تعلیم میں شمولیت سے ہوا۔ جلد ہی وہ پشتو اکیڈمی سے وابستہ ہوئے اور وہاں بطور اسسٹنٹ ریسرچ آفیسر اپنی خدمات انجام دیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اس ادارے کے ڈائریکٹر اور چیئرمین بنے۔ ان کی قیادت میں پشتو اکیڈمی نے کئی اہم تحقیقی اور ادبی منصوبے مکمل کیے۔ ان کی بصیرت اور محنت نے اس ادارے کو ایک علمی مرکز بنا دیا۔
ان کی زندگی کا سفر صرف ایک ادارے تک محدود نہیں رہا۔ وہ گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے، جہاں انہوں نے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ بعد ازاں وہ آزاد کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ ان دونوں اداروں میں ان کی قیادت نے طلبہ اور اساتذہ کو نئی سمت دی۔ وہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین بھی رہے اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے سربراہ بھی۔ یہ سب عہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف ایک شاعر اور ادیب تھے بلکہ ایک بہترین منتظم بھی تھے۔
ان کی شاعری پشتو ادب میں ایک نیا رنگ لے کر آئی۔ ان کے شعری مجموعے "ترنکے” اور "هغه دوه ملالي سترګې” پشتو ادب کے قیمتی اثاثے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبت، فلسفہ، ثقافت اور انسانیت کا امتزاج ہے۔ وہ ایسے شاعر تھے جو لفظوں کے ذریعے دلوں کو چھو لیتے تھے۔ ان کی شاعری پشتون معاشرت کی عکاسی کرتی ہے اور ساتھ ہی عالمی انسانی اقدار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ان کے اشعار میں ایک طرف پشتون ثقافت کی خوشبو ہے اور دوسری طرف انسانیت کا پیغام, یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور پڑھنے والوں کو متاثر کرتی ہے۔
پریشان خٹک کا ادبی اسلوب پشتو روایت کی گہرائی اور جدید فکری جہتوں کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی شاعری میں استعارے اور علامتیں اس طرح استعمال ہوتی ہیں کہ قاری کو نہ صرف جمالیاتی لذت ملتی ہے بلکہ فکری وسعت بھی حاصل ہوتی ہے۔ وہ پشتون معاشرت کے روزمرہ مناظر کو علامتی انداز میں پیش کرتے ہیں، کبھی پہاڑ کو استقامت کی علامت بناتے ہیں، کبھی دریا کو وقت کے بہاؤ کا استعارہ، اور کبھی چراغ کو علم و محبت کی علامت۔ ان کے کلام میں پشتو روایت کی خوشبو رچی بسی ہے، مگر ساتھ ہی وہ عالمی انسانی اقدار کو بھی اپنی شاعری میں سمو دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری صرف پشتونوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس قاری کے لیے معنی خیز ہے جو انسانیت، محبت اور علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر پراثر اور روایتی مگر ہے، جو انہیں اپنے معاصرین میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
پریشان خٹک نے اپنی زندگی میں پچاس سے زائد کتابیں تصنیف اور تدوین کیں۔ یہ کتابیں مختلف موضوعات پر تھیں، جن میں تاریخ، فلسفہ، ادب اور ثقافت شامل ہیں۔ ان کی تحریریں نہ صرف پشتونوں کے لیے بلکہ ہر اس شخص کے لیے اہم ہیں جو علم اور ادب سے محبت کرتا ہے۔ ان کی کتابیں آج بھی جامعات اور علمی اداروں میں پڑھائی جاتی ہیں اور ان پر تحقیق کی جاتی ہے۔ ان کی تحریروں میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ مشکل موضوعات کو آسان زبان میں بیان کرتے تھے، تاکہ عام قاری بھی انہیں سمجھ سکے۔ یہی ان کی تحریروں کی مقبولیت کا راز تھا۔
ان کی زندگی میں کئی چیلنجز آئے۔ وسائل کی کمی، اداروں کی مشکلات اور معاشرتی مسائل ان کے سامنے تھے۔ مگر انہوں نے ان سب کا مقابلہ علم اور دیانت داری سے کیا۔ ان کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ وہ کبھی ہار نہیں مانتے تھے۔ وہ ہمیشہ آگے بڑھتے رہے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلتے رہے۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان علم اور دیانت داری کو اپنا شعار بنا لے تو کوئی مشکل اسے روک نہیں سکتی۔
پروفیسر پریشان خٹک کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ شاعر اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین منتظم بھی تھے۔ یہ امتزاج بہت کم شخصیات میں نظر آتا ہے۔ وہ نہ صرف لفظوں کے ذریعے دلوں کو جیتتے تھے بلکہ اپنی قیادت کے ذریعے اداروں کو بھی مضبوط کرتے تھے۔ ان کا اثر نہ صرف پشتو ادب پر بلکہ پاکستان کے علمی منظرنامے پر بھی گہرا رہا۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی جو ہر ملنے والے کو متاثر کرتی تھی۔ وہ نہ صرف ایک استاد تھے بلکہ ایک رہنما بھی تھے، جو دوسروں کو راستہ دکھاتے تھے۔
ان کی زندگی علم، ادب اور خدمت کا سفر تھی۔ انہوں نے پشتو ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور پاکستان کے علمی اداروں کو مضبوط بنایا۔ ان کا نام آج بھی روشنی کا چراغ ہے، جو آنے والی نسلوں کو علم و ادب کی راہ دکھاتا رہے گا۔ وہ ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے وقف کیا۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
پریشان خٹک کی علمی و ادبی زندگی کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ وہ صرف ایک فرد نہیں تھے، بلکہ ایک مکتبِ فکر تھے۔ ان کے شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے، جنہوں نے نہ صرف ان سے علم حاصل کیا بلکہ ان کی شخصیت سے روشنی بھی پائی۔ ان کے شاگرد آج مختلف جامعات، علمی اداروں اور ادبی حلقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور جب بھی ان سے پوچھا جائے کہ ان کی فکری بنیاد کس نے رکھی، تو جواب میں ایک ہی نام آتا ہے: پروفیسر پریشان خٹک۔
ایک شاگرد نے کہا:
"استادِ محترم کی کلاس میں بیٹھنا صرف علم حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ زندگی کو سمجھنے کا عمل تھا۔ وہ ہمیں صرف کتابیں نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ سوچنا سکھاتے تھے۔”
ایک اور شاگرد نے یوں اظہارِ خیال کیا:
"پریشان صاحب کی گفتگو میں ایسا سکون ہوتا تھا جیسے کسی دریا کے کنارے بیٹھے ہوں۔ ان کے الفاظ میں علم بھی ہوتا تھا اور محبت بھی۔”
ان کے معاصرین بھی ان کی علمی و ادبی عظمت کے قائل تھے۔ معروف پشتو ادیب اور دانشور اجمل خٹک نے ایک بار کہا تھا:
"پریشان خٹک پشتو ادب کا وہ ستون ہیں جس پر کئی نسلوں کی فکری عمارت کھڑی ہے۔”
ادبی حلقوں میں ان کے بارے میں یہ بات عام تھی کہ وہ اختلاف کو بھی عزت دیتے تھے، اور تنقید کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی شخصیت میں وہ وسعت تھی جو صرف بڑے انسانوں میں ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے ہم عصر ادیبوں کے ساتھ علمی مکالمہ کرتے تھے بلکہ نوجوان لکھنے والوں کو بھی حوصلہ دیتے تھے۔ ان کے شاگردوں نے ان کی تقلید میں نہ صرف علمی میدان میں کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ان کے اخلاقی اصولوں کو بھی اپنایا۔ وہ آج بھی اپنے استاد کی طرح علم کو عبادت اور ادب کو خدمت سمجھتے ہیں۔ پریشان خٹک کی شخصیت کا اثر صرف ان کے دور تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ آج بھی زندہ ہیں, اپنے شاگردوں کی تحریروں میں، ان کے خیالات میں اور ان کے طرزِ فکر میں۔ ان کے معاصرین انہیں ایک ایسے انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں جو علم و ادب کی دنیا میں روشنی کا مینار تھا، اور ان کے شاگرد انہیں ایک ایسے استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں جس نے انہیں زندگی کا شعور دیا۔
پروفیسر پریشان خٹک کی وفات 16 اپریل 2009 کو حیات آباد پشاور میں ہوئی۔ یہ دن پشتو ادب اور پاکستان کے علمی منظرنامے کے لیے ایک بڑا نقصان تھا، کیونکہ ایک ایسا چراغ بجھ گیا جو نصف صدی سے زیادہ عرصہ علم و ادب کی محفلوں کو روشن کرتا رہا۔ ان کی شخصیت نہ صرف ایک شاعر اور فلسفی کی تھی بلکہ وہ ایک استاد، رہنما اور منتظم بھی تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو خدمتِ خلق اور علم کی ترویج کے لیے وقف کیا۔ ان کے جانے کے بعد ایک خلا پیدا ہوا جو آج تک محسوس کیا جاتا ہے، کیونکہ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی قوم کے لیے مشعلِ راہ بن جائیں۔ مگر ان کا نام اور ان کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے مگر ان کی روشنی آج بھی دلوں کو منور کرتی ہے۔ ان کے اشعار آج بھی قاری کے دل کو چھوتے ہیں، ان کی کتابیں آج بھی طلبہ اور محققین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں، اور ان کی شخصیت آج بھی ایک مثال ہے کہ کس طرح علم اور ادب کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی کتابیں، ان کی شاعری اور ان کی خدمات زندہ ہیں۔ وہ ایک ایسے چراغ تھے جو بجھ گیا مگر اس کی روشنی ہمیشہ باقی رہے گی، کیونکہ اصل چراغ وہ نہیں ہوتا جو مٹی کے تیل سے جلتا ہے بلکہ وہ ہوتا ہے جو دلوں میں امید، علم اور محبت کی آگ روشن کر دے۔
پروفیسر پریشان خٹک کی یاد ہر سال ادبی محفلوں، سیمیناروں اور علمی نشستوں میں تازہ کی جاتی ہے۔ ان کے شاگرد اور چاہنے والے آج بھی ان کے کلام کو پڑھ کر نئی توانائی حاصل کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت پشتو ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور آنے والی نسلیں جب بھی پشتو ادب کی ترقی اور پاکستان کے علمی اداروں کی مضبوطی کا ذکر کریں گی تو پریشان خٹک کا نام لازماً احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جنہوں نے علم کو عبادت اور ادب کو خدمت بنایا اور یہی ان کی اصل میراث ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ پروفیسر پریشان خٹک کی وفات ایک جسمانی جدائی تھی، مگر ان کی روح، ان کا علم اور ان کی روشنی آج بھی زندہ ہے۔ وہ ایک ایسے چراغ تھے جو بجھ گیا مگر اس کی روشنی ہمیشہ باقی رہے گی اور یہی روشنی آنے والی نسلوں کو علم و ادب کی راہ دکھاتی رہے گی۔