ایک فوجی کے غیر فوجی کالم

شروع دن سے کالم نگاری کی صنف بہت اہمیت کی حامل رہی ہے، مگر دورِ حاضر میں اس کی ضرورت اور افادیت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ دور اگرچہ سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے، جس کی رفتار حد درجہ تیز ہے، مگر پھر بھی پرنٹ میڈیا اور اس میں شائع شدہ مواد کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ سماجی رابطوں کے ذریعے ترسیل شدہ مواد کی عمر نہایت مختصر ہوتی ہے، کیونکہ نئی آنے والی ترسیلات پرانی ترسیلات کی جگہ لے لیتی ہیں، جب کہ اخبارات کے صفحات پر مرقوم الفاظ ایک عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔

کالم نگار اپنے قاری سے رابطہ بحال رکھنے کے لیے آپ بیتی کو جگ بیتی بنا کر پیش کرتا ہے تو قارئین اسے اپنے دل کی آواز گردانتے ہیں، مگر اس کے لیے کالم نگار کے الفاظ میں اتنا دم خم ہونا چاہیے کہ وہ قاری کے دل تک رسائی حاصل کر سکیں۔ بریگیڈیئر صولت رضا (ریٹائرڈ) ان گنے چنے کالم نگاروں میں سے ایک ہیں جو اس فن سے بخوبی آشنا ہیں۔ وہ تین دہائیوں تک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، یعنی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)، میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بعدازاں نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)، اسلام آباد کے شعبۂ ابلاغِ عامہ کے بانی چیئرمین کے طور پر بھی تعینات رہے۔ اس تجربے کو انہوں نے اپنی کالم نگاری میں بہت عمدگی سے استعمال کیا۔

کالم نگاری میں سب سے اہم بات کالم کا موضوع ہوتا ہے۔ ایک اچھوتا اور منفرد موضوع کالم کو قاری کے لیے پرکشش بنا دیتا ہے۔ جب ہم بریگیڈیئر صولت رضا (ریٹائرڈ) کے کالموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے ہاں ہمیں خوب صورت موضوعات دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں، جیسے: اردو کی یاد آئی ہے، موجِ ظرافت، لاچار دھڑ کے تین سر، چوہے، بلیاں اور پارلیمنٹ، بسنت کے کوٹھے، اور اس طرح کے کئی دیگر موضوعات۔ یہ چند ایک عنوانات ان کے حال ہی میں شائع ہونے والے منتخب کالموں کے مجموعے "غیر فوجی کالم” سے لیے گئے ہیں، جو پچاس کالموں پر مشتمل ہے اور جسے پورب اکیڈمی، اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ یہ کالم 2003ء سے 2008ء کے درمیانی عرصے میں لکھے گئے، اس لیے ان میں اس دور کے واقعات اور روزمرہ زندگی کا تذکرہ موجود ہے۔ تاہم ماضی بعید میں وفات پا جانے والی چند شخصیات کے حوالے سے لکھے گئے کالم بھی اس مجموعے میں شامل ہیں، جن میں بریگیڈیئر صدیق سالک، کرنل قلبِ عباس، وارث میر، غلام اسحاق خان اور میجر جنرل ریاض اللہ شامل ہیں۔

بریگیڈیئر صولت رضا کے کالموں کا یہ مجموعہ اگرچہ 2003ء سے 2008ء تک گزرے پانچ برسوں کی کہانی بیان کرتا ہے، مگر برسبیلِ تذکرہ اس میں ہماری دفاعی، سیاسی اور سماجی تاریخ کے کئی باب وا ہوتے نظر آتے ہیں۔ ان کالموں میں فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل آغا محمد یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف، سکندر مرزا، ذوالفقار علی بھٹو، مجیب الرحمن اور دیگر اکابرین کی سیاسی کشمکش کا ذکر بھی ہے اور ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ مشرقی پاکستان میں جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے کس طرح فیلڈ مارشل ایوب خان کے تعمیر کردہ سیاسی ڈھانچے کو مسمار کیا، ون یونٹ کو توڑا، انتخابات کرائے، لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اس مجموعے میں ایسے کئی تاریخی واقعات کا ذکر ہے جن سے نہ صرف ہماری تاریخ بلکہ ہمارے جغرافیے پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوئے۔

ان کالموں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کالم نگار نے لگی لپٹی رکھے بغیر ہر واقعے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا اور ملکی مفاد کے خلاف ہونے والے اقدامات کو ہدفِ تنقید بنایا۔ اس تنقید میں انہوں نے اپنے ادارے کے اکابرین کی جانب سے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بنائی جانے والی پالیسیوں کی بھی کھل کر مخالفت کی۔ جنرل پرویز مشرف اور ان کے حواریوں کے پیش کردہ سیاسی ڈھانچے کی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاسی نمائندوں کی صفوں میں موجود ان موقع پرست عناصر کی بھی نشاندہی کی، جو ہر وقت فوجی حکومتوں کی سہولت کاری کے لیے موجود رہتے ہیں۔ ایک کالم میں بریگیڈیئر صولت رضا نے جنرل مشرف کے قریبی ساتھی میجر جنرل احتشام ضمیر کی سیاسی صف بندی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:

"سب کا خیال تھا کہ اس مرتبہ ایسی قیادت تیار ہو گی جو اکیسویں صدی میں پاک سرزمین کو ہر قسم کے مصائب و آلام سے نجات دلا دے گی، مگر جب پردہ ہٹا تو دولے شاہ کے چوہے برآمد ہوئے؛ یعنی سر چھوٹے اور دھڑ بڑے، جن کا کام سائیں کے اشارے پر عوام سے چھینا جھپٹی کرنا تھا۔”

بریگیڈیئر صولت رضا نے ایک طویل عرصہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ میں گزارا، اس لیے بہت سے اخبارات کے مالکان اور صحافیوں سے ان کے دوستانہ تعلقات بھی تھے۔ عدنان شاہد بھی ان ہی لوگوں میں سے ایک تھا، جس کی بے وقت موت پر انہوں نے دل گرفتہ ہو کر "عدنان شاہد کی تلاش” کے عنوان سے کالم لکھا۔ اس کالم کا ایک ایک لفظ عدنان شاہد سے ان کی محبت اور وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح صدیق سالک اور اپنے استاد وارث میر کی یاد میں لکھے گئے کالم پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بریگیڈیئر صولت رضا ایک منجھے ہوئے وفیات نگار ہیں۔ انہوں نے ان شخصیات کے شخصی کوائف اس خوب صورتی سے بیان کیے ہیں جیسے کوئی ماہر تذکرہ نگار یا وفیات نگار کرتا ہے۔

دوسری جانب، جب وہ سیاسی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں تو ایک سنجیدہ سیاسی تجزیہ نگار دکھائی دیتے ہیں، اور جب تاریخ بیان کرتے ہیں تو گویا مورخ کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ایک کامیاب کالم نگار کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ وہ موضوع کی مناسبت سے اپنا اسلوب اور اندازِ بیان بدلتا رہتا ہے۔

بریگیڈیئر صولت رضا کے کالموں میں اگرچہ کہیں کوئی شعر نظر نہیں آتا، لیکن اس کے باوجود ان کی تحریروں میں ادبی چاشنی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس ہنر سے بخوبی واقف ہیں کہ کون سا لفظ کہاں برتنا ہے۔ محاوروں اور ضرب الامثال کے برجستہ استعمال کا سلیقہ انہیں خوب آتا ہے، اور طنز و مزاح کے نشتر سے معاشرے میں پھیلے ناسور کی جراحت کرنا تو کوئی ان سے سیکھے۔ تنقید میں مٹھاس کی آمیزش ان کے لہجے کی کاٹ کو دو آتشہ بنا دیتی ہے۔

ان کے اس انداز کا ایک نمونہ 2008ء میں لکھے گئے ایک کالم میں یوں ملتا ہے:

"شب و روز کی سیاسی اور عسکری مہمات رنگ لائیں اور پاکستان دولخت ہو گیا۔ اس سانحے کو 37 برس ہونے کو آئے ہیں، لیکن مینڈیٹ کو تار تار کرنے کی آرزو اور صلاحیت برابر موجود ہے۔”

اللہ کرے کہ بریگیڈیئر صولت رضا کا یہ شگفتہ اندازِ تحریر قائم و دائم رہے اور ان کے قلم کی جولانیاں اسی طرح برقرار رہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے