(۱۶ دسمبر ۲۰۱۴ء کو آرمی پبلک اسکول پشاور میں ہونے والے سانحے کے تناظر میں)
سولہ دسمبر وہ تاریک دن تھا
کہ جس دن چراغوں کی بستی پہ یک دم
اندھیروں کے لشکر نے یلغار کی تھی
قلم رُک گئے تھے، ہوا چل پڑی تھی
دیے ٹمٹاتے ہوئے بجھ رہے تھے
مگر روشنی ان کے تازہ لہو کی
زمیں تا فلک پھیلتی جا رہی تھی
چراغوں کی صف نیم بسمل تھی لیکن
سیہ رات کے سامنے ڈٹ گئی تھی
قلم چل پڑے تھے، ہوا رُک گئی تھی
دیے جل اُٹھے تھے
زمیں پر ستارے اُترنے لگے تھے
اندھیروں کا لشکر
ہزیمت کی شرمندگی ساتھ لے کر
چلا جا رہا تھا، مرا جا رہا تھا
قلم چل پڑے تھے
ہوا رُک گئی تھی
دیے جل اُٹھے تھے