سانحہ پشاور میں بچ جانے والے؛ زندگی کی راہ پر

اہلِ پاکستان پر جو سانحے قیامت بن کر ٹوٹے ان میں سےزیادہ تر دسمبر میں رونما ہوئے۔16دسمبر 1971کو پلٹن میدان میں ہونے والا سقوطِ ڈھاکہ ہو،27دسمبر 2007کولیاقت باغ راول پنڈی میں وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کی شہادت ہو،4دسمبر2009کو پریڈ لائن راول پنڈی کی مسجد پر ہونے والاحملہ ہو،7دسمبر2009کومون مارکیٹ لاہور میں ہونے والا خود کش دھماکہ ہو یا پھر16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پشاورپرہونے والا حملہ،یہ سارے سانحے دسمبر کے مہینے میں رونما ہوئے۔

سقوطِ ڈھاکہ کے وقت دوملکوں میں اعلانیہ جنگ تھی مگر اس کے بعددہشت گردی کی غیر اعلانیہ جنگ میں کبھی لیاقت باغ میدانِ جنگ بنا،کبھی پریڈ لائن کی مسجد کے صحن کومیدانِ جنگ بنایا گیا،کبھی یہ شرم ناک کھیل ملک کے مصروف ترین بازاروں میں کھیلا گیااور کبھی علم و آگہی بانٹنے والے سکول وکالج اس کی زد میں آئے۔ایک طرف نہتے شہریوں اور ناتواں بچوں نے صف بہ صف لڑ کر بہادری اور شجاعت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے اور دوسری طرف بزدلوں نے سکولوں اورمسجدوں کے آنگنوں میں موجود لوگوں اور کم سن بچوں کے جسموں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے بزدلی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔

تاریخ میں اس سے قبل کسی ایسی جنگ کا تذکرہ نہیں ملتا جس میں کسی دشمن نے اس قدر بزدلی کا مظاہرہ کیا ہوکہ مسجدوں میں مصروفِ عبادت اور بازاروں میں خریدوفروخت کرتے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔جنگیں مسجدوں کے آنگنوں اور بازاروں میں نہیں جنگ کے میدانوں میں لڑی جاتی ہیں اور آپس میں نبردآزما ہونے والے فریقین اسلحے سے لیس ہوتے ہیں۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک طرف اسلحہ بردار لشکری ہوں اور دوسری طرف خالی ہاتھ لوگ اور وہ بھی بوڑھے اور بچے۔ آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والا دہشت گردوں کا حملہ علم کی روشنی مٹانے کی ایک گھناؤنی سازش تھی مگر اس حملے میں بچ جانے والے طالب علموں نے علم کے چراغ کی لَوکو اور تیز کردیا۔ اس حملے میں بچ جانے والے طالب علموں نے اپنی ہمت اور حوصلے سے نہ صرف موت کو شکست دی بلکہ زندگی کے سفر کو نئے عزم سے شروع کرکے دہشت گردوں کو یہ پیغام بھیجاکہ تم اندھیروں کی پرستش جاری رکھو ہم نت نئے چراغ روشن کرتے رہیں گے۔

اس حملے میں زندہ بچ جانے والاولید خان اُس وقت 12برس کا تھا جب دہشت گردوں نے اس کے مادرِ علمی آرمی پبلک سکول پشاورپر حملہ کیا۔دہشت گردوں نے اسے 8مرتبہ گولیوں کا نشانہ بنایا۔یہ گولیاں اس کے سر اور منہ پر پیوست ہوتی رہیں۔ولید خان نے اس دلخراش واقعے کو کچھ اس طرح بیان کیا۔16 دسمبر 2014 کو جب میں صبح سو کر اٹھا تو وہ عام سا دن تھا۔ اس روزہمارے سکول میں طبی امداد پر لیکچر کے لیے سکول اور کالج ونگز اکھٹے ہونے تھے اور اس وجہ سے آڈیٹوریم 11 سے 18 سال کے طالب علموں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا تھا۔اس وقت میری عمر 12 برس تھی اور میں سکول ونگ کا سب سے چھوٹا بوائز ہیڈ تھا۔بوائز ہیڈ ہونے کی وجہ سے میں سٹیج پر بیٹھاتھاجب ہم نے ایک زوردار دھماکہ سنا۔میں نے سٹیج پر موجود اپنے ٹیچر سے پوچھا کہ کیا سب خیریت ہے۔ ان کا جواب تھا کہ پریشان مت ہوں، سب کچھ ٹھیک ہے۔اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ اساتذہ نے آڈیٹوریم کے تمام دروازے مقفل کرنا شروع کر دیے۔ ایک ٹیچر نے تمام طالب علموں کو نیچے جھک جانے اور کرسیوں کے نیچے چھپنے کی تلقین کی۔میں اتنا گھبرا گیا تھا کہ سٹیج پر میں جہاں بیٹھا تھا وہیں بیٹھا رہ گیا۔ اتنے میں آڈیٹوریم کا دروازہ ٹوٹا اور دہشت گردگولیاں برساتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ میں اتنا بدحواس ہو چکا تھا کہ اپنے جسم کو حرکت دینے سے بھی قاصر تھا۔ جب پہلی گولی میرے چہرے پر لگی تو مجھے بہت زیادہ درد محسوس ہوا۔

اس کے بعد کئی گولیاں میرے سر اور چہرے پر ماری گئیں ۔اب میں سٹیج پر پڑا تھا اور رینگ رینگ کر یہ کوشش کر رہا تھا کہ وہاں موجود کرسیوں کے پیچھے پناہ لے سکوں۔اب موت مجھ سےزیادہ دور نہیں تھی۔میرا بہت ساخون ضائع ہو چکا تھا مگر میں اب بھی دیکھ اور سن سکتا تھا۔ میں فرش پر بے حس وحرکت پڑا تھا۔پاکستان آرمی دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد سکول میں داخل ہو چکی تھی۔میڈیکل سٹاف نے مجھے اوردیگرزخمیوں کو ہسپتال پہنچایا ۔میں دوسال زیر علاج رہنے کے بعدپھرسے زندگی کی طرف لوٹنا شروع ہوااور تعلیم مکمل کرنے میں لگ گیا۔میں زندہ بچ جانے کے بعد 2سال تک پاکستان اور برطانیہ کے ہسپتالوں میں زیرِ علاج رہا تاکہ میری جسمانی اور ذہنی صحت بحال ہو سکے۔صحت یاب ہونے پر میں نے برمنگھم(برطانیہ)میں تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان آکر ملک وقوم کی خدمت کروں گا اور دنیا کے گوشے گوشے میں تعلیم عام کروں گا۔اس دہشت گرد حملے کا ایک اورشکار احمدنوازہے۔ احمدنواز کا چھوٹا بھائی حارث نواز اس حملے میں شہید ہوا جب کہ احمد نوازبُری طرح زخمی ہوا۔صحت یاب ہونے کے بعد احمد نواز نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔احمد نواز کاکہنا تھا کہ دہشت گردوں سے بہترین انتقام تعلیم کا حصول ہے۔

انتہا پسندی کے خلاف تعلیم سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں۔منیب آرمی پبلک سکول پشاور میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔جب دہشت گردوں نے اس کےسکول کو نشانہ بنایا تو منیب کا بھائی اس حملے میں شہادت کے منصب پر فائز ہوا۔منیب بھی شدید ذہنی کرب میں مبتلا رہا مگر آخر کار اس نے سافٹ ویئر انجینئر بننے کا ارداہ کیا ۔اس وقت منیب ایک کمپیوٹر گیم بنا نے کے پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔یہ کمپیوٹر گیم بچوں کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کے تدارک کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ملک حسن طاہر اعوان سانحہ اے پی ایس کے شہداء میں شامل ،ملک اسامہ طاہر اعوان، کابھائی ہے۔ملک حسن طاہر اعوان خوش قسمتی سے دہشتگردوں کی گولی کا نشانہ بننے کے باوجود سکول سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا ۔حسن طاہر اعوان کے مطابق اُس نے موت کو قریب سے دیکھا۔دہشت گردوں کی فائر کی ہوئی گولی اس کے سر پر لگنے کے بجائے اوپر کی ہوئی کیپ پر لگی اور کیپ اڑگئی جس کے باعث وہ دہشت گردوں کے نرغے سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔حسن کا کہنا ہے کہ میرا شہیدبھائی اسامہ وطن عزیز کے لیے ایک ایسا سوفٹ ویئر تیار کرنا چاہتا تھا جس کے تحت مسلح دہشت گردوں کے اجتماعی جگہوں پر داخلے سے قبل سکیورٹی اداروں کو آگاہی حاصل ہوسکے تاکہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی لائی جاسکے۔

حسن اپنے بھائی (اسامہ) کے مقصد کی تکمیل کے لیے پُر عظم ہےاور تعلیم مکمل کرکے ملک وقوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔سانحہ اے پی ایس میں زندہ بچنے والاایک طالب علم عاکف عظیم بھی ہے۔عاکف عظیم نے ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئےبتایا کہ 2014 میں وہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں بارہویں جماعت میں پری میڈیکل میں زیر تعلیم تھا۔وہ جونہی ہال سے نکل کر واش روم گیادہشت گردوں نے سکول کے ہال پرحملہ کردیا۔ہال میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا۔ عاکف نےحال ہی میں اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی سے کلینیکل سائیکولوجی میں گریجوئیشن مکمل کی ہے۔اس حملے میں زندہ بچ جانے والا ایک طالب علم جواد علی باجوہ بھی تھا۔جواد علی اس وقت چھٹی جماعت میں تھا۔اُس نے اس کم عمری میں اپنے ساتھیوں کی لاشوں کے ڈھیر دیکھے مگر اس سانحے سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے اُس نے آگے بڑھنےکا فیصلہ کیا۔آج جواد احمد باجوہ کینیڈا میں بی بی اے کی ڈگری مکمل کرنے والا ہے اوردہشت گردوں کو یہ پیغام دے رہا ہےکہ آپ بندوقیں اُٹھائیں ہم ڈگریاں اُٹھا کرآپ کا مقابلہ کریں گے۔

آرمی پبلک سکول پشاور میں پیش آنے والے اس سانحے کو رونما ہوئے کئی سال گزر چکے۔اندھیروں کا لشکر روشنیاں بجھانے پر مامور کیا گیا تھا مگر یہ روشنیاں پہلے سے زیادہ آب وتاب کے ساتھ موجود ہیں۔آرمی پبلک سکول کے ننھے شہیدوں کے لہو کی روشنی چاردانگ عالم کو روشن کیے ہوئے ہے۔دہشت گرد وں کی سفاکانہ کاروائیاں اس علم وآگہی کا راستہ کیسے روک سکتی ہیں جس کی ترویج واشاعت کا حکم رہبردوعالم نبی اکرم نے دیا۔علم تو ایک ایسی روشنی ہےجو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔آرمی پبلک سکول کے سانحے میں زندہ بچ جانے والے صرف ولیدخان،احمدنواز،منیب،جواد احمد باجوہ اورحسن طاہرہی نہیں بلکہ ان جیسے سینکڑوں طالب علم ہیں جو اپنے ہاتھوں میں علم کی مشعلیں اُٹھائےہماری راہیں روشن کرنے کے لیےہمارے شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔اس سفر میں ہماری وہ ہونہاربیٹیاں بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی خون میں لت پت لاشیں دیکھ کر بھی علم وآگہی کے اس سفر کو بلاخوف جاری رکھا۔

روشنی کے اس سفر میں ان اساتذہ کا کردار بھی قابل تحسین ہےجوجان کی پروا کیے بغیر دہشت گردوں اور ننھے مجاہدوں کے درمیان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہے۔اندھیروں اوراُجالوں کی یہ جنگ ازل سے ابد تک جاری رہے گی مگرایک بات یقینی ہے کہ اس جنگ میں فتح اُجالوں کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے