چین  کی معاشی ترقی اور سبز تبدیلی

1994 میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے نفاذ کے بعد سے، انسانوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے کی عالمی کوششوں کے ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں کئی ممالک بُری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ طوفان، سائیکلون، خشک سالی ، آگ لگنے کے واقعات ، گلیشیئرز کا پگھلنا اور سیلاب سے کروڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں ۔

اس صورتحال کے پیش نظر دنیا بھر کے لیڈرز ہر سال کاپ کانفرنس میں سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں تاکہ ان موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے اور ان سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ متاثر ہونے والے ممالک کو فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ نقصانات کا کسی طور ازالہ ممکن ہو سکے ۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے ۔ گذشتہ 1 دہائی میں پاکستان سیلاب اور خشک سالی سے دوچار رہا ہے۔ سیلاب کے باعث کروڑوں افراد بے گھر ہوئے ہیں اور اربوں کی فصلیں متاثر ہوئیں ۔ پاکستان کا کاربن کے اخراج کے میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ لیکن نقصانات اور تباہ حالی کئی گنا زیادہ ہے۔ دنیا میں اربوں ڈالرز جنگوں پر خرچ ہو رہے ہیں لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں اور تو اور اس بار کاپ 30 میں امریکہ نے اپنا کوئی بھی نمائندہ بھیجنے سے انکار کیا ہے لیکن اگر جنگ کی بات ہو تو امریکہ صف اول میں نظر آئے گا۔

کہا جاتا ہے کہ اگر توانائی کم خرچ ہوگی تو کم ترقی ہوگی ۔ لیکن چین نے اس کا رد پیش کیا ہے، قابل تجدید توانائی ہو یا پھر سبز توانائی کہہ لیں چین نے اس حوالے سے قائدانہ کردار ادا کیا ہے ۔ چین قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور اس کا نفاذ کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک کے طور پر  ابھرا ہے۔  چین "پہلے سبز متبادل کی تیاری، پھر روایتی ذرائع کا خاتمہ” کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے غیر فوسل اور سبز  توانائی کی زبرست ترقی کے حصول میں کامیاب ہوا  ہے۔ اگست 2025 تک، چین میں ونڈ  اور سولر انرجی کی نصب شدہ صلاحیت 1.69 ارب کلو واٹ سے تجاوز کر گئی، جو 2020 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے اور نئی نصب شدہ توانائی کی صلاحیت کا تقریباً  اسی فیصد  ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ،چین میں ہر تین یونٹ بجلی کے استعمال میں سے ایک یونٹ گرین توانائی سے فراہم ہو  رہا ہے۔

2023 اور 2024 میں، چین نے شمسی اور ہوائی صلاحیت میں 649 گیگاواٹ کا اضافہ کیا، جو اس دوران عالمی تنصیبات کا تقریباً 60 فیصد ہے۔ شمسی اور ونڈ توانائی سے پیدا ہونے والی صاف بجلی کی پیداوار میں اضافے نے 2024 میں چین کی بجلی کی طلب میں اضافے کا 84 فیصد پورا کیا۔ 2035 تک، چین کا ہدف ہے کہ وہ ونڈ اور سولر انرجی کی صلاحیت کو ملا کر تقریباً 3,600 گیگاواٹ تک پہنچائے گا، جو 2020 کی سطح سے چھ گنا زیادہ ہے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف توانائی کی لاگت کو کم کرتی ہے بلکہ پیرس معاہدے کے اہداف کے حصول کے لیے ٹھوس راستے بھی فراہم کرتی ہیں۔

نئی ترقی کے تصورات کی رہنمائی میں، چین نے ملکی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعاون  کے ذریعے سبز ترقی کو اپنایا ہے۔ یہ ملک نئی توانائی کی صنعتوں میں قائد بن کر ابھرا ہے، جس نے قابل تجدید توانائی، ہائیڈروجن، ہائی اسپیڈ ریل اور الیکٹرک گاڑیوں یا نیو انرجی وہیکلز  میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ حکومتی اقدامات، عوامی و نجی شراکت داریاں اور نجی شعبے کی اختراعات نے مل کر چین کی کم کاربن توانائی کی صلاحیت اور ہائیڈرو کاربن پر مبنی توانائی کے متبادل، جیسے شمسی، ہوائی اور جوہری توانائی کو وسعت دی ہے۔

چین کے اقدامات اپنے گھریلو معاملات تک محدود نہیں ہیں۔ گرین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے، چین نے 100 سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ سبز توانائی کے منصوبوں میں تعاون کیا ہے، اور پاکستان میں کروٹ ہائیڈرو پاور اسٹیشن اور ایتھوپیا میں اداما ونڈ پاور اسٹیشن سمیت متعدد تاریخی منصوبے قائم کیے ہیں۔

پچھلی دہائی میں، صاف توانائی میں عالمی سرمایہ کاری کا چین کا حصہ تقریباً 25 فیصد سے بڑھ کر تقریباً ایک تہائی ہو گیا ہے۔ یہ قائدانہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین مؤثر طریقے سے عالمی سطح پر نئی توانائی کی منتقلی کی رفتار طے کر رہا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کا بہاؤ  متحرک ہو رہا ہے، سپلائی چینز (خاص طور پر شمسی، بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے) کو تشکیل دے رہا ہے اور ایک عالمی طور پر نئی توانائی کا راستہ تخلیق کر رہا ہے جس کے فوائد عالمی منڈیوں اور ٹیکنالوجیز کی صورت میں حاصل ہو رہے ہیں۔2025 کے آغاز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین میں بجلی کے شعبے کے کاربن کے اخراج میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد کمی آئی ہے۔

چین نے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے دنیا بھر میں موسمیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے بھی کام کیا ہے، خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت۔ شراکت دار ممالک کے قابل تجدید بنیادی ڈھانچے، کم کاربن صنعتوں اور سبز ٹیکنالوجیز کی حمایت کی ہے۔  چین نے سبز توانائی کی کوششوں کو مزید بڑھایا  ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ معاشی ترقی اور ماحول کا تحفظ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چل سکتے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت ٹیکنالوجی کی منتقلی، مالیاتی ماڈل اور مشترکہ تحقیق ان ممالک کے لیے عملی نمونے فراہم کرتی ہے جن کے پاس موسمیاتی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے اندرونی وسائل کی کمی ہے۔

چین کے اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ مضبوط قومی پالیسی، اسٹریٹجک بین الاقوامی تعاون اور صاف توانائی میں نمایاں سرمایہ کاری سے نہ صرف  موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے  بلکہ  یہ معاشی طور پر فائدہ مند بھی ہے۔ چین کا سبز تبدیلی ماڈل یہ واضح کرتا ہے کہ کیسے ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے