پاکستان میں اردو شعر و ادب میں 1971 کے بعد محصور و متروک پاکستانی محور کیوں نہیں ؟

یکم دسمبر 2005ء کو اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد میں میری حال ہی میں انگریزی زبان میں شائع ہونے والی کتاب

(“THE ABANDONED PAKISTANIS: 1971, BETRAYAL, AND STATELESSNESS — A Personal Chronicle of Forgotten Genocide, Selective Memory, and the Fight for Recognition”)

پر مبنی ایک مکالمے کا اہتمام کیا گیا، جس کا بنیادی سوال یہ تھا کہ:

پاکستانی ادب میں عمومی طور پر اور اردو شعر و ادب میں بالخصوص، ان تقریباً تین لاکھ چوبیس ہزار بے وطن “پاکستانیوں” کا ذکر کیوں نہیں پایا جاتا، یا کیوں نظر نہیں آتا؟ جن کی پانچویں نسل آج بھی تقریباً 70 کے قریب کیمپ نما ڈربوں میں، بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سمیت 13 یا 14 شہروں میں، انتہائی اذیت اور بے بسی کی زندگی گزار رہی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کے پاکستان کو دولخت ہوئے اب 54 برس ہونے کو آئے ہیں، مگر اس برادری کی بربادی کی داستان اور ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی پالیسی کسی بھی سطح پر نظر نہیں آتی، اور نہ ہی یہ مظلوم و مقہور بہاری بنیادی انسانی حقوق اور مزاحمت کا علم اٹھانے والی سول سوسائٹی کے ارکان کا مسئلہ بن پائے ہیں۔ یہ فراموش کردہ برادری ہماری سرکار کی کسی بھی ترجیح کا حصہ نہیں۔

اب ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے حد درجہ حساس، دردمند اور ہمہ وقت حالتِ اضطراب میں رہنے والے لکھاری، ادیب، فکشن رائٹرز اور شعرا اس اہم انسانی، قومی اور سیاسی موضوع سے لاتعلق یا انجان کیوں نظر آتے ہیں؟ تاریخ تو مفتوحہ ہے ہی، صحافت تو مقبوضہ ہے ہی تو کیا ادب بھی مصلحت، منافقت، بے حسی، بے ضمیری، تعصبات اور مفادات کا شکار ہے؟

اسلام آباد ڈائیلاگ اس طرز کی پہلی تقریب تھی۔ اس میں میڈیا، صحافت، ادبی و سماجی حلقوں اور نوجوان نمائندوں کی ایک متنوع جماعت موجود تھی۔ میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی اور مختلف عمروں سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد افراد نے اکادمی کے کمیٹی روم کو بھر دیا۔

شریکِ محفل

میڈیا اور صحافت

سید فاروق حسن
سید وقار عظیم صاحب
راجہ مصدق صاحب
مصباح آشر
راجہ فیصل
ہم ٹی وی کے ریحان صاحب
نڈر صحافی تزئین اختر
بزرگ صحافی محترمہ فریدہ حفیظ
آئی بی سی کے سبوخ سید اور ان کی اہلیہ-اردو سیکشن کی محرک مدیرہ رابعہ سید صاحبہ
نوجوان نمائندے اور سماجی کارکن

طارق غوری (پاکستانی کرسچن و ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ)
ساجد نائچ (جینڈر اسٹڈیز کے ماہر، سندھ)

ادبی، شعری اور سماجی شخصیات

محبوب ظفر
حسن عباس رضا
شاعرہ صائمہ بتول
عالمی شہرت یافتہ ایکٹیوسٹ شاد بیگم
پروگریسیو رائٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے عہدیداران و اراکین:
محترمہ مطربہ شیخ، محترمہ نجمہ ریحانہ، محترمہ حبیبا طلعت
نوجوان وکیل فہیم قریشی
منتخب صدر صباح کاظمی
بلوچستان کے پشتون شاعر و سماجی کارکن رازق فہیم
ممتاز سماجی رہنما محمّد انور صاحب
ماہرینِ تعلیم اور ادیب
ڈاکٹر کرنل طلعت شببر
پروفیسر ڈاکٹر شاہد اقبال کامران
پروفیسر جاوید محسن ملک
پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ
پروفیسر ڈاکٹر مسرّت جبیں (وغیرہ)
پینل میں شامل ممتاز شخصیات
ڈاکٹر سیف ملک – ممتاز سیکورٹی اسٹڈیز اسپیشلسٹ – سابق ڈائریکٹر، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور بانی ڈائریکٹر، انڈیا سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز، اسلام آباد
پروفیسر ڈاکٹر نذیر حسین — بین الاقوامی تعلقات کے ممتاز پروفیسر، سابق ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز، قائداعظم یونیورسٹی
پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف — چیئر/صدر، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز؛ محققہ و ادیبہ؛ ماہر آرکائیول اسٹڈیز
پروفیسر منیر فیاض — شاعر، مترجم، نقاد، براڈکاسٹر؛ سیکریٹری حلقہ اربابِ ذوق، اسلام آباد
جناب حمید شاہد — بین الاقوامی شہرت یافتہ افسانہ نگار، ناول نگار، نقاد؛ تمغۂ امتیاز (2016)
ڈاکٹر سلمیٰ ملک — ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز، قائداعظم یونیورسٹی

تقریب کے محرکات اور ایک اہم غیر موجودگی

یہ پروگرام سول سوسائٹی کے کچھ متجسس ذہنوں، پرجوش ادیبوں، آگے سوچنے والے دانشوروں، نوجوان رہنماؤں، فیمینسٹوں اور صحافیوں کو ایک جگہ لایا، جو مکالمے اور سماجی تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں۔
یہاں جنہیں بہت ایمننٹ/پرومننٹ/ریناؤنڈ فیمینسٹ، ہیومن رائٹس اور وومن رائٹس ایکٹیوسٹس اور ایڈووکیٹس سمجھا جاتا ہے، ان کی غیر موجودگی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف کی شرکت

محترمہ پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے نہایت شائستگی سے میری گزارش کو قبول کیا، اس اکادمی میں اس تقریب کی اجازت دی، اور ناسازیِ طبیعت کے باوجود اپنی موجودگی سے اس محفل کی توقیر میں اضافہ کیا۔
آپ نے اپنے صدارتی کلمات میں نہایت دردمندی سے جنوبی پنجاب میں آباد ہونے والے چند بہاری خاندانوں کی کسمپرسی بیان کی، جو ان کی بچپن کی یادداشت کا حصہ رہی۔ یہ نقش یا امیجری ان کے لیے اس قدر پاورفل تھا کہ وہ اپنی تحریروں میں ان تصورات اور تاثرات کو شامل کرتی رہیں، اگرچہ وہ بنیادی پلاٹ کا حصہ نہیں تھا۔

میری ذاتی آرزو ہے کہ نجیبہ عارف جیسی علمی، فکری اور تخلیقی طور پر نہایت فعال اور معتبر ادبی شخصیت کا قلم اس سیاسی شکست، تقسیم یا محصورینِ پاکستان کے المیے پر خاموش نہ رہے۔
میری خوش نصیبی کہ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی شاہد حمید صاحب تھے، اور صدارت اکادمی کی صدرنشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کی۔

محمدحمید شاہد صاحب ؛ ایک حساس اور ذمہ دار آواز

محمدحمید شاہد صاحب نے ایک مضمون “متروک ہم وطن اور رخشندہ پروین کی دردناک چیخ” نہایت محبت، توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ پڑھ کر سنایا، جو بعد ازاں ہم سب میں 3/12/2025 کو شائع بھی ہوا۔

ایک خاتون لکھاری، اور ایک ایسے دکھ کی گواہ کے طور پر جو برسوں حاشیے پر رکھا گیا، مجھے یہ جان کر بے حد حوصلہ ملا کہ ایک سنجیدہ، صاحبِ علم اور صاحبِ دل ادیب نے نہ صرف میری بات کو سنا بلکہ اسے اپنی زبان اور اپنے وقار کے ساتھ آگے بڑھایا۔

ہم سب میں اس کالم کو دیکھ کر ایک دیرینہ دکھ کو زبان ملتی محسوس ہوئی۔ یہ اشاعت میرے لیے صرف اعزاز نہیں بلکہ حوصلہ بھی ہے۔ اس سے میرا یقین مزید مضبوط ہوا ہے کہ یہ مکالمہ، یہ جدوجہد اور یہ آواز کہیں نہ کہیں دلوں تک پہنچ رہی ہے۔

اور یہی وہ بات ہے جو اس مقصد کو طاقت دیتی ہے۔ محمدحمید شاہد صاحب کے الفاظ نے اس جدوجہد کو ایک نئی سنجیدگی اور ایک نئی معنویت دی ہے۔ ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے:

“تیسری تصویر اس چیخ کی ہے جو میں نے ڈاکٹر رخشندہ پروین کی تازہ تصنیف کو پڑھتے ہوئے سنی ہے۔ آج کی اس محفل میں ہم اسی کتاب کو موضوع بنا رہے ہیں، جو صرف ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ قومی سطح پر ہماری بے حسی اور مستقبل کی ذمہ داری کی نشاندہی کرنے والی دستاویز بھی ہے۔ یہ ایسی آواز ہے جو پانچ دہائیوں سے ہماری فراموشی کی زد پر رہی ہے۔ ایسی چنگاری ہے جو اپنی ہی راکھ میں دبی ہوئی ہے؛ ایک ایسا سچ ہے جسے ریاستوں، مورخوں، صحافیوں، دانشوروں اور ہم سب نے نظرانداز کیا ہے۔

یہ کتاب ہمیں ایک ایسے قبیلے، ایک ایسی قوم، ایک ایسے طبقے کی یاد دلاتی ہے جو پاکستان کے لیے جیا، پاکستان کے لیے مرا، مگر پاکستان کی تاریخ اور بچے کھچے پاکستانیوں کی یادداشت سے تقریباً غائب کر دیا گیا۔ یہ کتاب ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے روشن اور تاریک اوراق دوبارہ پلٹ کر دیکھیں کہ ان کے بیچ موجود سرخ لہو سے لکھی ہوئی کہانی کو قومی تاریخ کی موٹی کاٹھی کے اندر کس نے بے حسی کی گوند سے چپکانے کے بعد مصلحتوں کا پردہ ڈال کر نسیان کے موٹے دھاگوں کے بخیے مار کر چھپا دیا ہے۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین اپنی کتاب کا آغاز 1946ء کے اُن فسادات سے کرتی ہیں جو بہاری مسلمانوں کی اجتماعی شناخت کے وجود کا پہلا زخم تھے…”

محمدحمید شاہد، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں۔ اس تحقیق کے دوران مجھے ان کا اردو ناول “مٹی آدم کھاتی ہے” (2007ء) سب سے زیادہ متعلق محسوس ہوا۔

یہ اس لحاظ سے قابلِ ذکر ہے کہ بعض ادبی مبصرین نے اسے

“مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش کی حقیقت سے آنکھ ملانے کی کوشش” قرار دیا ہے۔

ایک ادبی تبصرے کے مطابق، “مٹی آدم کھاتی ہے” وہ فکشن ہے جو 1971ء کے واقعے کو صرف تاریخی یا واقعاتی سطح پر نہیں، بلکہ انسانی المیے، تشدد اور انسانیت کی بربادی کے زاویے سے پیش کرتا ہے۔
لہٰذا، اس ناول کو اردو ادب میں ایک قابلِ توجہ کوشش قرار دیا جا سکتا ہے، جو عام memoirs، fact-based histories یا فوجی یادداشتوں سے مختلف ہے۔

مگر اس کے بعد کیا ہے ؟

حمید شاہد صاحب کے مضمون سے یہ حوصلہ بھی ملا کہ میں چند سوالات آپ سب کے سامنے رکھنے کی جرأت کر دوں:

کیا اردو ادب نے 1971ء کے بعد محصور بہاری پاکستانیوں کے المیے کو براہِ راست اور مستقل موضوع بنایا؟

کتابوں، افسانوں اور نظموں میں کیمپوں کی زندگی، شناختی بحران اور نسل در نسل جلاوطنی کی عکاسی کس حد تک واضح ہے؟

کالم نگاری میں یہ موضوع آیا، مگر شاعری اور ناول/افسانے میں خاموشی کیوں رہی؟

اگر کوئی شاعر یا افسانہ نگار اس خلا کو پُر کر دے تو اردو ادب کا منظرنامہ کیسے بدل جائے گا؟

کیا یہ خاموشی محض ادبی ترجیحات کی وجہ سے ہے، یا قومی یادداشت اور تاریخی بیانیے میں جانبداری بھی شامل ہے؟

میرے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں—یا کم از کم مکمل طور پر نہیں۔ مگر یہ سوالات کیسے جنم لیتے گئے، اس کی روداد آپ کے سپرد کرنا چاہوں گی، اس وضاحت کے ساتھ کہ میری سطروں سے بننے والے نقش یا نقشے نہ تو جامع ہیں اور نہ ہی کوئی آخری فہرست، اور نہ ہی ان کا مقصد کوئی ادبی فتویٰ صادر کرنا ہے۔

ایک جلدی جلدی پڑھنے والوں کے لیے خلاصۂ نقش یہ ہے:

| شاعر | موضوعات | 1971 بعد کے بہاری/غیربنگالی محصورین
| ————— | ————————– | ————————-
| افتخار عارف | ہجرت، بے وطنی، شکست | غائب
| حبیب جالب | آمریت، ظلم، عوامی غصہ | غائب
| فیض احمد فیض | شکست، سیاسی جبر، قومی زوال | غائب
| احمد فراز | جلاوطنی، انسانی کرب | غائب
| محسن بھوپالی | سیاسی ہنگامے، انسانی المیے | غائب
| اطہر نفیس | زوال، انسانی دکھ | غائب
| امجد اسلام امجد | سماجی تبدیلی، انسانی دکھ | غائب
| کشور ناہید | عورت، جبر، سیاسی طنز | غائب
| پروین شاکر | نسائی، رومانی، سیاسی علامت | غائب
| فہمیدہ ریاض | جلاوطنی، شناخت، سیاسی جبر | غائب -(محصورین کا ذکر نہیں)
| عشرت آفریں | عورت، تشدد، بے بسی | غائب
| شاہدہ حسن | داخلی کرب، تعلق | غائب
| فاطمہ حسن | معاشرتی جبر، شناخت | غائب
شبنم شکیل| داخلی دکھ، رشتوں کی تنہائی| غائب
حمایت علی شاعر |انسانی احساس، عشق، سماجی کرب|غائب
سرمد صہبائی |علامتی شاعری، داخلی شکست| غائب
احمد ندیم قاسمی|انسان دوستی، معاشرتی ناانصافی، جنگ، شکست، اجتماعی کرب|غائب
منیر نیازی|عشق، تنہائی، فردی کرب|غائب
رئیّس امروہوی|ادب، کالم، سماجی ناانصافی، انسانی درد|غائب (مرکزی ادبی موضوع کے طور پر نہیں)
سلیم احمد| تہذیب، زوال، فکری بے معنویت| غائب
جون ایلیا|ہجرت، جلاوطنی، شکستِ وقت، انفرادی تڑپ، وجودی کرب، تاریخ، اور تہذیبی زوال|غائب

جون ایلیا کی شاعری زیادہ تر "تاریخی اور تہذیبی شکست” کو علامتی سطح پر پیش کرتی ہے۔ لہٰذا 1971 جیسے واقعات اُن کے ہاں بطور علامت کسی حد تک موجود ہیں، مگر کوئی واضح حوالہ، کوئی نظم، کوئی غزل، کوئی کالم یا کوئی انفرادی ذکر محصور بہاری کمیونٹی کے بارے میں نہیں ملتا۔

میں نے اپنی بہت عزیز گجرات کی سارا شگفتہ کو اس میٹرکس میں شامل نہیں کیا، کیونکہ وہ نوجوانی میں بہت کٹھن زندگی گزار چکی تھیں اور خود ہی زندگی کی ڈور سنبھال چکی تھیں۔ پھر اگر کراچی میں قمر جمیل اور دیگر کی نگرانی نہ ہوتی تو شاید وہ اس سانحے سے پوری طرح متعارف نہ ہو پاتیں، اور کہیں بزرگوں کی بصیرت بھی نظرانداز ہو جاتی۔

یہاں شاید مناسب ہو یا بالکل نامناسب، کہ پروین شاکر بہاری تھیں، لیکن وہ اس موضوع پر توجہ نہیں دے سکیں۔ وہ 1971 میں میڈیا بلیک آؤٹ کے اثرات پر ڈاکٹریٹ کے لیے امریکا جانے والی تھیں اور 26 دسمبر 1994 کو محض 42 سال کی عمر میں ایک کار حادثے میں جان بحق ہو گئیں۔

پروین کی پاکستان سے محبت کو کسی سند کی ضرورت نہیں۔ میں نے ان لاپتہ پاکستانیوں کے حوالے سے ان کے لازوال اشعار کا استعمال کیا:

"تُہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے ایسے سُخن فروش کو مر جانا چاہیے۔”
"بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے۔”

زاہدہ حنا بھی ایک بڑی لکھاری اور بہاری ہیں، لیکن انہوں نے بھی اس معاملے سے اپنا دامن بچائے رکھا۔

سنجیدہ نثر اور فکشن میں کم معروف مگر بہاری خواتین جو اس المناک باب کا ذکر کر چکی ہیں، ان میں مرحومہ شمیم نسرین، مرحومہ امِ عمارہ، بانو اختر، فرحت پروین، شہناز پروین، بیلا رضیہ اور شاہین کمال شامل ہیں۔ یہ بہادر خواتین ہیں، مگر مارکیٹنگ کے لحاظ سے نابلد ہیں۔

میری والدہ محترمہ فرحت پروین ملک نے بتایا کہ عمارہ باجی (امِ عمارہ) نے ایک بار فنون میں اس المیے پر لکھنا شروع کیا تھا۔ تین یا چار اقساط کے بعد ایسا ردعمل آیا کہ سلسلہ ہی منقطع ہو گیا۔ جو لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ بہاری خود کیوں نہیں لڑتے، انہیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جو پاکستانی بہاری مضبوط پوزیشنز پر ہیں (جیسا کہ محترم نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور سابق ڈپلوماٹ فاطمی صاحب یا غیر ممالک میں آسودہ حال پاکستانی امیگرنٹس) وہ اس بے گھر اور بے بس طبقے سے کنارہ کش ہیں۔ کچھ وقت ذاتی آزمائشوں اور الم سے بالاتر ہو کر ان کے لیے وقف کرنا ضروری تھا۔

بات گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے کہ شناخت اور شہریت کی الجھن کا شکار بے بس لوگ کسی کے قلم کا ترجیحی عنوان نہیں ہیں۔

ہاں، ان مظلوموں پر تحقیق ہو رہی ہے، تھیسس لکھے جا رہے ہیں، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی ہورہے ہیں، فلمیں بن رہی ہیں، صحافت بھی ہو رہی ہے، مگر ہماری عبرت کا نشان بنی برادری کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کوئی ان کی عزتِ نفس کا محافظ نہیں، کوئی ان کی تاریخ ان کی زبانی لکھنے کو تیار نہیں۔ اگر تاریخ کو محض تاریخ دانوں پر چھوڑ دیں، تو لوگ اور ان کے زخم چھپا دیے جائیں گے۔

کیا یہ کوئی تماشا سا تماشا ہے؟

میں خوش دلی سے ماننے کو تیار ہوں کہ اگر کوئی چھپا ہوا متن، نظم، افسانہ یا ناول موجود ہو جسے میں نے نہیں دیکھا، تو مجھے بتایا جائے۔ میں اپنی رائے بلکہ تاثر کو خوش دلی سے درست کر لوں گی۔ اصل مقصد ادب کی خاموشی کی نشاندہی اور اس انسانی المیے کی طرف توجہ دلانا ہے، نہ کسی شاعر یا ادیب کی عظمت گھٹانا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار تحریر کیا، شکوہ اپنوں سے ہوتا ہے، اور ان سے ہوتا ہے جن سے آپ کو امید بھی ہوتی ہے۔

پچھلے تقریباً پندرہ برس سے میں بارہا یہ بات دہراتی آئی ہوں، اور مجھے معلوم ہے کہ اس اصرار سے میں نے اپنے بہت سے دوست ادیبوں اور شعرا کو ناراض بھی کیا ہوگا، بَد دِل بھی کیا ہوگا، اور نفرت و نقصان بھی سمیٹے ہوں گے، کیونکہ پاکستانی اردو ادب نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں، خصوصاً بہاری محصورین، کے کرب پر وہ توجہ نہیں دی جو اسے دینی چاہیے تھی۔

فیض کی "ڈھاکہ سے واپسی” جیسے نظموں میں شکست اور ملال کا رچا ہوا پکا رنگ موجود ہے، لیکن محصور پاکستانی بطور واضح موضوع کہیں بھی نہیں۔

میں نے سب سے پہلے یہ بات بہت دکھ کے ساتھ اپنے پسندیدہ ترین فیض کے حوالے سے محسوس کی، پھر لکھ بھی دی۔ پتا چلا کہ ادب میں بھی کلٹ ہے، بت پرستی ہے، اور بہت سوں کو برا لگا اور لگ رہا ہے۔

لیکن میرا یہ احساس ان کی عظمت کم کرنے کے لیے نہیں۔ اسی طرح یہ گلہ ناصر کاظمی کی لطافت کو چیلنج کرنے کے لیے بھی نہیں ہے (ویسے وہ 1972 میں اس دار فانی سے چل گئے تھے؛ ورنہ پھر دیکھتے کہ بنگال کی ساحری کے علاوہ، ہم بہاری بھی ان کا موضوع سخن بنتے یا نہیں)۔ نہ ہی یہ تکلیف اور اپنی پسندیدہ شاعرات — پروین شاکر، کشور ناہید یا فہمیدہ ریاض — پر کوئی فیصلہ صادر کرتی ہے۔

میرا مدعا صرف یہ ہے کہ یہ ایک پورا انسانی المیہ ہے، اور اردو ادب کی دنیا میں اس کا مستقل، واضح، درد مندانہ بیانیہ کہیں نہیں ملتا۔

جی ہاں، 1971 کے سیاسی ظلم، ریاستی زوال، شکست اور جبر پر لکھا گیا بہت کچھ موجود ہے، لیکن جنگ کے بعد کیمپوں میں اگلی پچاس برس گزارنے والی نسلوں کا نوحہ ادب میں کہیں محفوظ نہیں کیا گیا۔

نثر: جہاں تاریخ تو لکھی گئی، انسان کہیں پیچھے رہ گیا۔

اردو نثر میں چند اہم نام ضرور سامنے آتے ہیں، مگر ان کے یہاں بھی بہاری پاکستانیوں کا مستقل، واضح اور جامع بیانیہ نہیں ملتا۔

صدیق سالک

اُن کی معروف کتاب ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ سقوطِ ڈھاکہ کی عینی شہادت، جنگی یادداشت اور بیانیہ نان فکشن ہے۔ مگر یہ متن صرف جنگ کے دوران کی شکست کو محفوظ کرتا ہے، جنگ کے بعد محصور پاکستانیوں کا نوحہ نہیں۔

مسعود مفتی

ایک سول سرونٹ کی حیثیت سے انہوں نے جنگ، قید اور سیاسی بدنظمی پر چشم دید تحریریں لکھیں۔ لیکن کیمپوں میں پھنسے بہاری پاکستانی ان کے موضوع کا مرکز نہیں بن سکے۔

انتظار حسین

’’بستی‘‘ اور دیگر تصانیف میں ہجرت، بے وطنی، شکست اور یادداشت کا استعارہ موجود ہے، مگر بنگلہ دیش کے بہاری پاکستانی اس علامتی دائرے میں شامل نہیں ہوتے۔ اگرچہ ’’بستی‘‘ بنیادی طور پر 1947 کی تقسیم اور ہجرت (ہجرتِ ہند) کے بعد کے نفسیاتی بے گھر ہونے (psychological displacement) کے پس منظر پر لکھا گیا، اس میں 1971 اور پاکستان کی تقسیم کے بعد کے "بے گھری” اور "عوامی شناخت کے بحران” کو بھی بطور پس منظر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ناول صرف انفرادی ماضی کی یادوں تک محدود نہیں؛ بلکہ ہجرت، ماضی، شناخت اور وطن کی یاد کے وسیع انسانی اور تہذیبی معنی تلاش کرتا ہےجو 1971 کے بعد کے "نئے پاکستان” کی تشکیل کے تناظر میں خاص طور پر اُن افراد کے لیے اہم ہیں جنہیں "ہجرت کنندہ” کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بستی میں ہجرت، شکست، یادداشت اور قومی زوال تو موجود ہے، مگر "بنگلہ دیش” میں رہ جانے والے بہاری/غیر بنگالی اردو اسپیکرز مرکزی کردار نہیں۔

الطاف فاطمہ

’’چلتا مسافر‘‘ بالکل مشرقی پاکستان کے المیے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ خاص طور پر سقوطِ ڈھاکہ (1971) و اس کے بعد کے معاشرتی، سیاسی اور انسانی تباہی کی عکاسی اس میں ملتی ہے۔ ان کے اہم ناولوں میں اجتماعی دکھ کی لہریں موجود ہیں، مگر 1971 کے بعد محصورین کی مخصوص کہانی ان کا موضوع نہیں رہی۔ کچھ انگریزی زبان میں پاکستانی دانشوروں نے الطاف فاطمہ پر تنقید کی ہے کہ انہوں نے بہاری خاندانوں سے ہمدردی کیوں ظاہر کی؟ اس سے ہم بہاریوں کی طرف تذلیل آمیز رویوں کو بھی بھانپ سکتے ہیں، جو اردو اسپیکرز کے درمیان بھی موجود ہے۔

فہمیدہ ریاض

ناول ’’گوداوری‘‘ میں انہوں نے جلاوطنی، شناخت اور ریاستی جبر کے تجربات کو انسانی رنگ دیا، مگر یہ بھی پاکستانی خاندان کے ہندوستان میں اجنبی پن کے سیاسی و سماجی بیانیہ تک محدود ہے۔ بہاری محصورین کا نوحہ اس میں شامل نہیں۔

احمد ندیم قاسمی

جامع مگر غیر مخصوص انسانی و ملی درد کے شاعر و افسانہ نگار قاسمی صاحب نے انسانی کرب، معاشرتی ناانصافی، ریاستی جبر، دیہی زندگی کی محرومیاں، استحصال، غربت، جنگ، شکست، اور انسان دوستی جیسے وسیع موضوعات پر بہت لکھا—شاعری اور افسانے دونوں میں۔ مگر 1971 کے مخصوص المیے یعنی بہاری/غیر بنگالی اردو بولنے والے پاکستانیوں کے کیمپوں کی زندگی، نسل در نسل بے وطنی، شناخت اور شہریت کے بحران، ڈھاکہ اور دیگر شہروں کے کیمپوں میں پچاس برس کا وجود، یہ موضوع قاسمی صاحب کے ہاں بطور مرکزی موضوع موجود نہیں۔

انور مقصود

مزاح نگار، اسکرپٹ رائٹر، ٹی وی و تھیٹر ڈرامہ نویس، اور کالم نگار انور مقصود نے طنز و مزاح، معاشرتی و سیاسی تجزیہ، اور عوامی مسائل پر روشنی ڈالی۔ ان کے ڈرامے، ٹی وی اسکرپٹس اور کالم سیاسی عدم توازن، آمریت، معاشرتی تضاد، انسانی کمزوری اور طنز بیان کرتے ہیں، مگر 1971 کے بعد بنگلہ دیش میں پھنسے بہاری/اردو بولنے والے پاکستانیوں کے المیے پر کوئی براہِ راست کام یا بیان موجود نہیں۔

اردو مختصر کہانیاں و افسانے (Anthology)

ایک قابلِ ذکر مجموعہ ’’زمین ظالم‘‘ ہے، جس میں تقریباً 22 مختصر کہانیاں شامل ہیں۔ ان کہانیوں نے 1971 کے واقعے اور اس کے اثرات کو مختلف نقطہء نظر سے پیش کیا ہے۔ اہم مصنفین میں رضیہ فصیح احمد، ابراہیم جلیس، مسعود مفتی، رشید امجد، مسعود اشعر وغیرہ شامل ہیں۔ ایک ادبی تجزیہ کے مطابق، اردو افسانہ نگاری اور سقوطِ ڈھاکہ پر کام کی تعداد محدود ہے، لیکن کچھ ناول، افسانے اور مضامین میں 1971 کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

شاعری

جہاں شکست کے استعارے بھرپور ہیں، مگر ’’محصورین‘‘ کا ذکر نہیں:

افتخار عارف: محاصرہ اور لہو کا دریا شکست، زوال اور بے وطنی کے استعاروں سے بھرے ہوئے ہیں، مگر بہاری محصورین کی صورتِ حال کہیں نہیں۔

حبیب جالب: آمریت، ظلم اور عوام کی آواز کے سب سے بڑے شاعر، مگر مشرقی پاکستان میں رہ جانے والی پاکستانی آبادی سے متعلق کوئی باقاعدہ نظم موجود نہیں۔

محسن بھوپالی، احمد فراز، اطہر نفیس، امجد اسلام امجد: انسانی دکھ، سیاسی جبر، ہجرت اور بے یقینی پر لکھا، مگر کیمپوں میں پھنسے پاکستانی نسل کا اجتماعی دکھ ان کے شعری ورثے کا حصہ نہیں۔

کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، عشرت آفریں، فاطمہ حسن: مضبوط نسائی آوازیں، مزاحمت، شناخت، تشدد اور سیاسی جبر کے موضوعات پر لکھا، مگر 1971 کے بعد بہاری پاکستانیوں کی کہانی نظم کا حصہ نہیں بنی۔

ایک دلچسپ مگر دردناک تضاد: جمیل الدین عالی

مرحوم جمیل الدین عالی نے روزنامہ جنگ میں بہاری پاکستانیوں کے حقوق، شہریت، قانونی حیثیت اور کیمپوں کی اذیت پر مسلسل کالم لکھے۔ وہ اس موضوع پر صحافت کی سطح پر سب سے مضبوط آواز ہیں، لیکن ان کی شاعری میں یہی موضوع تقریباً مکمل طور پر غیر حاضر ہے۔

دیگر اردو میں لکھنے والی پاکستانی آوازوں میں دلی کے پنجابی سوداگر مرحوم منظور صاحب، مرحوم علی حیدر ملک، اے کے خیام، حسن امام صدیقی، احتشام ارشد نظامی اور کئی دیگر نام شامل ہیں۔

مرحوم ہارون الرشید صاحب جو مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے کراچی آئے، اپنی متعدد کتابوں، تحقیقی تحریروں اور سماجی تجزیوں کے سبب ایک معتبر ادبی نام شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیقات میں 1971 کی جنگ، اس کے بعد کے سیاسی و سماجی بحران، اور محروم طبقات کی جدوجہد کے عکس ضرور ملتے ہیں۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے محصور پاکستانیوں (بہاری کمیونٹی) کے بارے میں بھی لکھا، مگر دستیاب مستند شواہد کے مطابق ان کا کام براہِ راست، مستقل یا مخصوص طور پر اس کمیونٹی کے المیے کو موضوع نہیں بناتا۔ وہ زیادہ تر "آزادیِ بنگلہ دیش”، جنگ کے کرداروں اور بعد از جنگ صورتِ حال پر لکھتے ہیں۔ تاہم ان کے تجربات خصوصاً مشرقی پاکستان سے کراچی کی ہجرت انہیں اس تاریخی سانحے کے انسانی پہلوؤں کا حساس مشاہدہ ضرور فراہم کرتے ہیں۔

یہ مثالیں شائد یہ ثابت کرتی ہیں کہ خبر نے دکھ کو اٹھایا، ادب نے نہیں۔ آخر یہ خاموشی کیوں؟

یہ سوال مشکل بھی ہے اور انسانی بھی۔ شاید اس لیے کہ:

شکست لکھنا آسان ہے، ’’بعد از شکست‘‘ انسان لکھنا مشکل ہے۔

جنگ کی سیاست دستاویزی متن بن جاتی ہے، مگر بے وطن انسان ادب کا مرکزی کردار نہیں بنتا۔

اور شاید اس لیے بھی کہ پاکستان کا ادبی ضمیر خود بھی اس صدمے سے پوری طرح نہیں گزرا۔

مگر اس سچائی کو نام دینا ضروری ہے، چاہے دیر سے ہی کیوں نہ ہو۔

نتیجہ: وہ خلا جو آج بھی اپنی پوری شدت سے موجود ہے

پاکستانی اردو ادب نے: سقوطِ ڈھاکہ لکھا، جنگ کی ہار لکھی، سیاسی جبر لکھا، قومی زوال بیان کیا مگر 1971 کے بعد بنگلہ دیش کے کیمپوں میں گزرے پچاس برس، ایک پوری نسل کا انتظار، بے وطنی، محرومی، اموات، شناخت کی منسوخی—یہ سب اردو ادب میں کہیں محفوظ نہیں کیا گیا۔

یہ خلا ہے اور اس کی نشاندہی ضروری ہے۔ اگر کوئی اس سچائی کی نشاندہی کرے تو اسے "ادب دشمن” یا "کم پڑھا لکھا” نہیں کہا جانا چاہیے۔ ہو سکتا ہے یہ بے وقت کی راگنی ہو، ادب کی عظمت اپنی جگہ، مگر ادب کا خاموش رہ جانا بھی حقیقت ہے۔

میرا مؤقف وہی ہے جو برسوں پہلے تھا:

اردو ادب نے 1971 کو لکھا ہے، مگر 1971 کے بعد ان پاکستانیوں کو نہیں لکھا جو باقاعدہ پاکستانی تھے، مگر تاریخ نے انہیں بے وطن بنا دیا۔

یہ خلا محض ادبی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔
ادب قوم کا حافظہ ہوتا ہے۔
اگر حافظے میں ایک پورا باب خالی رہ جائے تو یہ صرف ادب کی کمزوری نہیں، بلکہ قوم کی اجتماعی گویائی کا زوال بھی ہوتا ہے۔

کیا ہم یہ خاموش باب کھول سکتے ہیں؟
کیا ہم اس سیاہ اور دبے ہوئے المیے کو اردو کی روشنی میں جگہ دے سکتے ہیں؟
کیا ہم ان خاموش پاکستانیوں کی داستان آج کے ادب میں لکھنے کی جرات رکھتے ہیں؟

پس نوشت

ان سطروں کو کی بورڈ سے ٹائپ کرتے ہوئے "خطائے بُزرگاں گرفتن خطا است” مسلسل میرے دل پر حاوی رہا۔ لہٰذا آخرِ سخن مجھ پر لازم ہے کہ ایک ضروری بات عرض کروں۔

یہ کالم کسی خطا شماری کے لیے نہیں لکھا گیا بلکہ "نُقطہ‌گیری نہ، نکتہ‌یابی” کے اسی قدیم فارسی شعار کے تحت۔ مقصد یہ نہیں کہ بزرگوں یا معاصرین کے دامن میں کوئی لغزش تلاش کی جائے؛ اصل مدعا تو اس خلاء، اس سکوت اور اس تشنگیِ بیان کی نشان دہی ہے جو ہماری اجتماعی یادداشت میں برسوں سے مستقل موجود ہے۔

یہ اشارہ صرف اس امید کے ساتھ ہے کہ شاید جو اہلِ قلم آج زندہ ہیں، جو سانس لیتا ہوا تخلیقی شعور رکھتے ہیں، وہ اس بھولی ہوئی، سانحہ گزیدہ برادری ان محصور و متروک پاکستانیوں کے المیے کو دوبارہ دیکھیں، محسوس کریں، اور اس پر وہ شاہکار ادب تخلیق کریں جس کا یہ موضوع بجا طور پر مستحق ہے۔

کہیں کوئی نیا افسانہ جنم لے، کوئی ناول اپنا دائرہ وسیع کرے، کوئی نظم اس درد کو آواز دے تو یہی اس اصرار کی اصل روح ہے۔

پھر بھی اگر کسی کو محسوس ہو کہ میں نے کوئی حد عبور کر لی ہے تو میں معافی کی خواستگار ہوں۔ مجھے ایک بے بس انسان سمجھ کر معاف کر دیجیئے،ایسا انسان جو ہر اس در پر دستک دے رہی ہے جہاں سے ان مظلوم، دھتکارے ہوئے لوگوں کے لیے کوئی ہمدردی، کوئی ہمدلی اور کوئی شنوائی پیدا ہو سکے۔

وہ قیامت جو سر سے گزری ہے، دیکھیے کب شعور سے گزرے۔
(مرحوم پروفیسر نظیر صدیقی)
بشکریہ نیا دور

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے