ایک نسل کے مربی رخصت ہوگئے!

ابھی یہ نہایت افسوسناک خبر ملی کہ بلوچستان کے روحانی شہزادے، اس پورے خطے کو برسہا برس روحانی ، علمی اور سماجی خدمات سے منور کرنے والی عظیم شخصیت، سید عبد القاہر آغا صاحب طویل علالت کے بعد راہی بقا ہوگئے!

انا للہ وانا الیہ را راجعون!

حقیقت یہ ہے کہ شیخ گرامی کی وفات محض ایک فرد کا انتقال نہیں، بلکہ ان کی رحلت سے اس خطے کی روحانی وعلمی تاریخ کا ایک باب آج بند ہوگیا ہے، اس لیے ان کا سانحہ نہایت اندوہناک ہے، وہ حقیقی معنوں میں اس پورے خطے کےلیے ایک سائبان، ایک پناہ گاہ اور روحانی نسبتوں کے ایک مرکز تھے! یہاں کے عام وخاص کےلیے مرجع اور روحانی حوالے سے ایک مینارہ نور تھے! ایک ایسی ہستی جن کا وجود اس زمین پر رحمت ایزدی کے نزول کا سبب اور علامت ہوتا ہے! رحمہ اللہ تعالیٰ!

آغا صاحب رحمہ اللہ کی زیارت سب سے پہلے بچپن میں ہوئی تھی، والد صاحب رحمہ اللہ کی معیت میں ان کے گھر پہنچے تھے، مجھے تب کا بس صرف وہ منظر ہی یاد ہے، اس کے بعد دو تین دفعہ مزید باریابی ہوئی، آخری دفعہ دو سال قبل جب ان کے ہاں حاضری ہوئی، تب ان کے ساتھ آدھ گھنٹے کی سہی مگر قدرےتفصیلی باریابی رہی،”صحبتے با اہل دل” کے مصداق وہ مجلس بلاشبہ بڑی غنیمت اور بیش بہا سرمایہ تھی مگر تشنگی کا احساس لیے رخصتی ہوئی! اس سال کراچی سے گاؤں جاتے ہوئے اسی ارادے سے نکلا تھا کہ زیارت کا شرف حاصل کروں گا، مگر کوئٹہ پہنچ کر اگلے سفر کی ایسی ایمرجنسی پیش آئی کہ زیارت سے محروم رہا، کیا پتہ تھا کہ یہ محرومی اب ابدی ہے، مگر جسمانی فراق دائمی سہی، امید ہے ان کے فیوض سے محرومی نہیں رہے گی! اس لیے کہ "دو چار قدم ہم بھی ان کے ساتھ چلے ہیں”.

ویسے "این خانہ ہمہ آفتاب است” کے مصداق یہ خاندان سادات نسل در نسل علم، تقوی اور روحانیت کا ایسا حامل رہا ہے، جس پر نسلیں رشک کرسکتی ہیں ، آغا صاحب رحمہ اللہ کے آبا واجداد نے اس خطے کو روحانی طور پر آباد رکھا تھا، ان کے دادا سید محمد نور جان آغا صاحب وقت کے بڑے ولی تھے، پھر ان کے والد صاحب ، سید شاہ محمد جان آغا صاحب رحمہ اللہ اس نسبت کے ساتھ اپنے زمانے کی بڑی روحانی شخصیت تھیں، سید شاہ محمد جان آغا صاحب کے تین فرزند تھے، اور تینوں اپنے آبا واجداد کی علمی وروحانی میراث کے امین تھے، سب سے بڑے آغا صاحب مرحوم تھے، وہی جو آج رخصت ہوگئے ہیں، دوسرے بڑے بھائی سید باچا آغا صاحب رحمہ اللہ بھی ان کے پائے کے علمی وروحانی بزرگ تھے، وہ تین برس قبل دنیا سے رخصت ہو گئے، تیسرے اور چھوٹے بھائی نصرو آغا صاحب بھی ان کے اگلے ہی سال رحلت کرگئے!

آغا صاحب رحمہ اللہ اپنے والد ودادا کی طرح سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کراتے تھے، ان کا روحانی فیض بلوچستان سے لے کر افغانستان کی سر زمین تک پھیلا ہوا تھا، اس پورے خطے میں سلسلہ نقشبندیہ کی خالص روح شاید اب ان کے سلسلے میں باقی ہو، افراط وتفریط سے کوسوں دور، خالص نوعیت کے سادے مگر صاف بزرگ تھے، وہیں جن کی صحبت یاد الہی کا ذریعہ ہوتی ہے! ورنہ تو سلسلہ نقشبندیہ کو یہاں سے اور قریب کے افغانستان میں جس نوعیت کے خرافات کا سامنا ہے، الامان الحفیظ! اس کے برعکس ان کی خانقاہ حقیقی معنوں میں روحانیت کی پناہ گاہ تھی، جہاں ذکر بھی تھا، فکر بھی تھی، نسبت بھی تھی، سب سے بڑھ کر شریعت وطریقت میں اعتدال اور وسطیت تھی!

ہمارے والد گرامی مولانا جمال خان صاحب رحمہ اللہ کا ان کے ساتھ عقیدت و محبت کا جو تعلق تھا، اس کو لفظوں میں سمیٹنا شاید مشکل ہو،جس نوعیت کی وابستگی والد صاحب رحمہ اللہ کی تھی، وہ بہر حال قابل بیان نہیں ہیں، والد صاحب رحمہ اللہ کی عادت تھی، فجر کی نماز کے بعد بہت لمبی دعا کراتے تھے، جس میں امت کے تمام محسن طبقات کا تذکرہ کرکے ان کےلیے دعا اور ایصال وثواب کرتے تھے، آغا صاحب رحمہ اللہ اور ان کے بھائی سید باچا آغا صاحب رحمہ اللہ کےلیے خصوصی دعا فرماتے تھے، یہ تو ان کی وہ دعا تھی جو ہمیں تعلیم لیے یقینا سناتے تھے، اپنے خاص اوقات کی مناجات میں وہ جو دعائیں ان کے لیے مانگتے ہوں گے، وہ ظاہر ہیں، اس سے کہیں زیادہ ہوں گیں! اس سے ان کے تعلق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، بلکہ انہوں نے مجھے فرمایا تھا کہ ہر بار آتے جاتے ان کی خدمت میں ضرور حاضر ہوکر ان سے دعائیں لیا کروں ! میری سستی وکاہلی جو اس پر کبھی عمل نہیں کرسکا، ابھی دو سال قبل جب حاضری ہوئی، تب ان کے سامنے اس کا تذکرہ بھی کیا کہ بندہ اپنی کاہلی کے سبب والد صاحب کی بات پر عمل نہیں کر پایا ہوں، دعاؤں سے محرومی نہ ہو! تب بڑی شفقت سے سنا، دعا فرمائی، آج خیال آتا ہے، شاید وہ دعا زندگی کا قیمتی سرمایہ ہو!

بہر حال وہ ایک بہت بڑی شخصیت تھی، روحانی حوالے سے پورا پشتون بیلٹ اور افغانستان تک کے لوگوں کے لیے وہ سہارا تھے، سماجی حوالے سے ان کی خدمات اتنی تھیں کہ ان کا مشن محبت، خیر خواہی اور اصلاح احوال کا تھا، علاقہ بھر میں ہزاروں دلوں کو جوڑدیے تھے، دشمنیاں ختم کرائی تھیں، سب کو الفت وبھائی چارے کا پیغام پہنچایا تھا، "میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے” !

آج کا دن حقیقی معنوں میں بلوچستان بھر خاص کر پشتون بیلٹ کےلیے ایک بڑے سانحے کا دن ہے، آغا صاحب رحمہ اللہ کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ شاید آنے برسوں بھی بھر نہ سکے! اس کا مگر اطمینان ہے کہ فیض کا یہ سلسلہ رکا نہیں ہے انشاءاللہ تعالیٰ! جو حضرات ان کے خاندان سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہوں علمی وروحانی وراثت سنبھالنے کے لیے اہل علم واہل دل کا ایک قافلہ تیار کیا ہے، جس میں ان کے نسبی وارث سب سے نمایاں ہیں، جن سے بلاشبہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس چراغ کو بجھنے نہیں دیں گے! انشاءاللہ تعالی

ان الفاظ کے ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آغا صاحب رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے ، کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، ان کے فیوض ، برکات اور نسبت سے محروم نہ فرمائے!

إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے