لنگاسی سے واشنگٹن تک ؛ایک قاری کی نظر میں

سفرنامے، یادداشتیں، اور سرگزشتیں پڑھنا نہایت دلچسپ ہے، اور اگر سرگزشت یا سفرنامہ آپ کے خطے سے متعلق ہو تو پڑھنے کی دلچسپی اور بڑھ جاتی ہے۔

بلوچ سیاست و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد میں یادداشتیں لکھنے کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن حالیہ چند عرصے میں یہ سلسلہ آہستہ آہستہ شروع ہوچکا ہے۔ ان میں کامریڈ رفیق احمد کھوسہ کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب، پروفیسر واجہ غنی پرواز کی کتاب "یاتانی دریا چول جنت” شامل ہیں، جسے بلوچستان اکیڈمی تربت نے شائع کیا تھا اور یہ بلوچی زبان میں تھی۔ ان یادداشتوں کو پڑھنے کا مجھے موقع ملا اور یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دلچسپ بھی تھیں۔

اس کے علاوہ قاضی نور احمد کی "گرے پتے” بھی شامل ہے، جسے قارئین نے سراہا۔

ان تینوں کتابوں کا تعلق ہمارے سماج سے تھا، اردگرد کی سیاست، ادب اور حالات سے، اسی لیے انہیں پڑھنا دلچسپی سے خالی نہ تھا۔

ایک مرتبہ بلوچی اکیڈمی کوئٹہ میں واجہ جان محمد دشتی صاحب سے ملاقات کے دوران جب میں نے ان کے سامنے یہ سوال رکھا کہ ہمیں شدت سے آپ کی سرگزشت پڑھنے کا انتظار ہے، تو واجہ دشتی نے کہا کہ میں نہیں لکھ سکتا کیونکہ اگر میں لکھوں گا تو پورا ہی سچ لکھنا پڑے گا، جھوٹ نہیں لکھ سکتا۔ اور اگر پورا سچ لکھا بھی تو پھر بڑے بڑے برج اور مینار گریں گے، جو میں مناسب نہیں سمجھتا۔

البتہ ایک قاری کی نظر سے میری گزارش ہے کہ واجہ جان محمد دشتی، واجہ صورت خان مری، واجہ انور ساجدی، واجہ خالد ولید سیفی سمیت سیاست، صحافت، اور سماج کے دیگر اہم شعبوں سے وابستہ شخصیات جو تجربات اور مختلف حالات سے گزری ہیں، ضرور اپنے تجربات کو قلمبند کریں۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں، جو فکشن اور نان فکشن ادب میں ایک بہترین کاوش ہے۔

اس کے علاوہ حاجی فدا حسین دشتی کی طرف سے بھی ایک بہترین کوشش ہے کہ وہ اپنے سیاسی، سیاحتی اور تجارتی تجربات کو قلمبند کر رہے ہیں۔

اس سے نئی نسل کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ ماضی کے حالات، واقعات، شخصیات اور رویوں کو پہچان سکے گی، اور بعض تجربات ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے سبق آموز ثابت ہوتے ہیں۔

فدا حسین دشتی کی کتاب "لنگاسی سے واشنگٹن تک” دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا پہلا حصہ مجھے نہیں ملا، البتہ جب وہ ضلعی کونسل کے چیئرمین تھے اور ہم بلیدہ زامران میں ایک کتب میلے کا انعقاد کرنے جا رہے تھے، تو میں اور ڈاکٹر رحیم جان بلوچ انہیں دعوت دینے ان کے دفتر گئے۔ وہاں انہوں نے ایک کتاب ڈاکٹر رحیم جان بلوچ کو دی اور اسے پڑھنے کا کہا۔ خیر، میں وہ کتاب نہیں پڑھ سکا کیونکہ محترم ڈاکٹر رحیم جان بلوچ مجھ سے بڑے تھے اور مجھے عار محسوس ہوا کہ میں ان کے ہاتھ سے کتاب لے لوں۔

"لنگاسی سے واشنگٹن” کا دوسرا حصہ مصنف نے خود اپنے ہاتھوں سے دیا تو میں نے پڑھنا شروع کیا۔

جس طرح کتاب کے عنوان پر لکھا ہے تجارت، سیاست، اور سیاحت ویسے ہی کتاب میں انہی موضوعات پر گفتگو ہوتی ہے۔

کتاب بہت دلچسپ ہے، بالخصوص مقامی سیاست، شخصیات اور حالات کے حوالے سے۔ اسی طرح اس کتاب کی اہمیت، اگرچہ آج کے قارئین کے لیے شاید زیادہ نہیں، لیکن آنے والی نسل کے لیے یہ انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی، کیونکہ وہ آج کے حالات کے عینی شاہد نہیں ہیں۔ جب وہ یہ کتاب پڑھے گا تو حالات کو سمجھنا اور جاننا آسان ہوگا۔

دشتی صاحب نے اس کتاب میں دیدہ دلیری کے ساتھ حقائق کو مشاہدہ کیا اور قلمبند کیا ہے۔ ان کی زبان سادہ ہے مگر سادہ الفاظ میں وہ واقعات کو من و عن بیان کر رہے ہیں۔

بالخصوص اس کتاب میں یہ باتیں قابل ذکر ہیں کہ مقامی سطح پر انتخابات میں کس طرح دھاندلی کی جاتی ہے، پیسوں کے ذریعے کس طرح لوگوں کو جتوایا جاتا ہے، اور جتوانے کے لیے کون سے طریقے آزمائے جاتے ہیں۔

حاجی فدا حسین دشتی نے اس کتاب میں کسی کے لحاظ کو خاطر میں لا کر حقائق کو نہیں چھپایا بلکہ حالات اور واقعات کو من و عن بیان کیا ہے۔

مختصراً، حاجی فدا حسین دشتی کی یہ کوشش ایک بہترین کاوش ہے کہ انہوں نے اپنی یادداشتوں کو آنے والی نسل تک منتقل کرنے کے لیے قلم کو ہتھیار بنایا۔ یہ دیگر شخصیات کے لیے بھی قابل تقلید عمل ہے کہ وہ اپنے تعلق کے شعبے سے تجربات قلمبند کریں، جس سے مستقبل میں آج کی تاریخ کو لکھنا نہایت آسان ہو جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے