آرمی پبلک اسکول کا سانحہ: انصاف، یادیں اور قربانی

آرمی پبلک اسکول کے سانحے کو آج گیارہ برس مکمل ہوچکے ہیں، مگر گزرے ہوئے یہ سال اس زخم کی گہرائی کو کم نہیں کرسکتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھتی رہیں، مگر دل وہیں ٹھہر گیا جہاں معصوم ہنسیوں کو گولیوں کی آوازوں نے خاموش کردیا تھا۔

ان برسوں میں ہم نے بہت کچھ لکھا، بہت کچھ کہا، یادوں کو لفظوں میں سمیٹا، آنسوؤں کو جملوں کا روپ دیا، مگر آج لگتا ہے کہ الفاظ واقعی ختم ہوگئے ہیں۔ درد اتنا وسیع ہے کہ زبان اس کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک جاتی ہے۔

یہ سانحہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ ہماری اجتماعی روح پر لگا وہ زخم ہے جو ہر سال دسمبر میں پھر سے ہرا ہوجاتا ہے۔ وہ بچے جو کتابیں اٹھا کر اسکول گئے تھے، وہ اساتذہ جو علم بانٹنے نکلے تھے، سب ایک ایسی بے رحمی کا شکار ہوئے جس کی مثال کہیں پر نہیں ملتی۔ اس درد کے ساتھ ایک اور کرب بھی جڑا ہے۔

یہاں سوال ہے انصاف کا: جب ہم سنتے ہیں کہ اس سانحے میں ملوث افراد کے بارے میں نرمی یا رہائی جیسے فیصلوں کا ذکر ہوتا ہے، تو دل میں ایک اضطراب جنم لیتا ہے۔ کیا اقتدار اور اختیار رکھنے والے لوگ اپنی آنے والی نسلوں کو صحیح اور غلط کا فرق پوری سچائی کے ساتھ سمجھا سکتے ہیں؟ کیا وہ انہیں یہ بتا سکتے ہیں کہ انصاف محض لفظ نہیں، بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے؟

یہ سوال کسی ایک فرد تک محدود نہیں، یہ پورے نظام اور ہماری اجتماعی اخلاقیات سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ جب انصاف کمزور پڑتا ہے تو اس کا بوجھ سب سے پہلے معصوموں کے کندھوں پر آتا ہے۔ APS کے شہید بچوں اور اساتذہ کی قربانی ہمیں یہی یاد دلاتی ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں، بلکہ اصولوں سے زندہ رہتی ہیں۔

آج اس دکھ بھری یاد کے موقع پر ہم ان والدین کے لیے دعاگو ہیں جن کی گود ہمیشہ کے لیے اجڑ گئی، جن کی آوازیں آج بھی خاموشی سے باتیں کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صبرِ جمیل عطا فرمائے، ان کے دلوں کو سکون اور قرار نصیب کرے، اور ان کے زخموں پر اپنی رحمت کا مرہم رکھے۔ اللہ کرے کہ یہ قوم اپنے شہید بچوں اور اساتذہ کی قربانی کو محض یاد نہ کرے، بلکہ اس قربانی کی لاج بھی رکھے، تاکہ آئندہ کوئی ماں یوں نہ روئے اور کوئی بچہ یوں بے وقت نہ بچھڑے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے