تصور سے حقیقت تک: خوبصورت نظاروں اور متحمل مزاج لوگوں کی سرزمین آذربائیجان کا سفر

مجھے بچپن میں مختلف ناموں کو یاد رکھنا اور پھر مختلف موقع و محل کے تناظر میں لوگوں کے سامنے ان کو دہرانا اچھا لگتا تھا۔ انہیں مانوس ناموں میں سے ایک نام تھا آذربائیجان۔ پتا نہیں اس نام سے مجھے کیوں لگاؤ تھا۔ شاید اسی وجہ سے کہ میں اپنے ایک بڑے بھائی کو ‘بھائی جان’ کے نام سے پکارتا تھا۔ بچپن کے دن گزر گئے، ملکوں کے ناموں کو دہرانے کی عادت بھی ماند پڑگئی۔ ایک دن اچانک دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ایک لسٹ نظر سے گزری کہ مضمون نویسی کا مقابلہ ہے۔ موضوع تھا "What Do I Know About Azerbaijan” آگے لکھا تھا: Fully paid visit بھی ملے گا آذربائیجان کا۔

خیالوں کو یکجاء کر کے قلم تھام لیا اسی اثناء میں ذہن سیدھا سکول کے زمانے میں جا پہنچا۔ آذربائیجان کا نام یاد آیا، اور سوچا یہی وقت ہے اس نام کو مقام کی سطح پر دیکھنے کا… جو سمجھ میں آیا آذربائیجان کے بارے میں لکھ ڈالا۔

MSc IR میں پڑھا تھا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں یہ ایک صدی پہلے سرفہرست تھا مزید برآں یہ کہ آج کل کا آذربائیجان اچھا خاصا ایک ترقی پسند ملک ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ ناگورنو-کاراباخ جو کہ کشمیر کی طرح متنازعہ علاقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آرمینیا کو آذربائیجان کے ساتھ عداوت کی وجہ سے تسلیم نہیں کرتے۔

اب تو ناگورنو-کاراباخ آزاد ہو چکا ہے اور سفارتی طور پر آرمینیا سے روابط کا نیا دور ہے۔ یاد رہے مضمون نویسی کا یہ مقابلہ 2018 میں منعقد ہوا تھا۔ لہٰذا، اس وقت کے مطابق آذربائیجان کے بارے میں جو کچھ جانتا تھا لکھ ڈالا تین دفعہ سی ایس ایس کا امتحان فیل کرنے کے بعد انگریزی لکھنی آ ہی جاتی ہے۔ ویسے سی ایس ایس پاس کرنے کا اپنا مزہ لیکن فیل ہونے کا بھی اپنا ہی لطف ہے۔

مضمون لکھا اور دیے گئے پتے پر ارسال کر دیا۔ ایک مرتبہ پھر اللہ کا کرم ہوا اور مضمون پہلے دس منتخب شدہ مضامین کا حصہ بنا۔

شہیدوں میں نام آیا، اور یوں ہم ہوئے بچپن میں آذربائیجان کا نام رٹنے والے سال کی عمر میں آذربائیجان کو دیکھنے کے حقدار ٹھہرے۔ اب غالباً ڈائریکٹ فلائٹ ہے پاکستان اور آذربائیجان کی۔ ان دنوں نہیں تھی۔ لہٰذا براستہ قطر دوحہ پہنچے اور یوں رات کے کسی پہر ہم باکو، آذربائیجان میں۔

مجھے یہ سب کچھ خواب سا محسوس ہو رہا تھا۔ بچپن کا آذربائیجان سامنے تھا اور باقی پاکستانیوں کے ساتھ خوشی خوشی ہم پہنچے ہوٹل۔ مناسب ہوٹل تھا۔ آذربائیجان کے لوگوں نے کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر وہاں اٹلی، قازقستان، اور اردن سے بھی وفود آئے ہوئے تھے۔

آذربائیجان میں پہلے دن سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ وہاں چونکہ گیس کی روانی زمین میں بہت ہے، اس لیے ماچس کی تیلی سے پتھروں سے آگ کے شعلے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کسی زمانے میں یہاں زرتشت (آگ کو پوجنے والے) آباد تھے۔

سب سے پہلے ہمیں لے کے جایا گیا آذربائیجان کی پارلیمنٹ۔ وہاں پر بولنے کا موقع ملا۔ خوب تعریف کی آذربائیجان کی۔ ناگورنو-کاراباخ کا تذکرہ کیا۔ کشمیر پر آذربائیجان کی پاکستان کے ساتھ بھائی چارہ اور مختلف فورمز پر ساتھ دینے پر بھی شکریہ ادا کیا۔

پھر وہاں پر موجود تھری فلیمز بلڈنگز دیکھیں۔ تین بڑی عمارتیں جن کی بناوٹ ایسی ہے کہ جیسے تین آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہوں۔ جیسا کہ میں نے تذکرہ کیا یہ اسی بات کی علامت ہے کہ وہاں گیس کے ذخائر زیادہ ہیں۔ یہ بات شاید ان کے انجینئرز کے ذہن میں تھی۔ پہاڑی پر بنی ان عمارتوں سے نیچے شہر اور بحریہ کیسپین کا نظارہ بہت ہی آنکھوں اور دل کو بھانے والا ہوتا ہے۔

باکو دراصل بحریہ کیسپین کے مغربی ساحل پر موجود ہے۔ یاد رہے یہ دنیا کا سب سے بڑا آبی زمینی ذخیرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باکو اپنے محل وقوع کی وجہ سے اس علاقے میں تجارت اور اقتصادیات کا بہت بڑا مرکز ہے۔ بطور بندرگاہ باکو آذربائیجان کے لیے بہت فائدہ مند شہر ثابت ہو رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ ملک کا دارالخلافہ ہے۔

تھری فلیمز بلڈنگ سے براستہ ٹریل ہائک کر کے نیچے اترے۔ سمندر کے کنارے خوب چہل قدمی کی۔ دھوپ میں تیز ہوا سے کافی خوشگوار احساس کے جھونکے لیے… باکو کے پرانے شہر گئے، مارکیٹوں کے نظارے کیے اور تھکے ہارے لیکن مطمئن واپس ہوٹل پہنچے۔

یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا۔ مختلف وزارتوں میں، تعلیمی اداروں میں جانے کا موقع ملا۔ 14 اگست کا دن تھا اور میزبان ہمیں ایک اور شہر قوبا لے کر گئے۔ مری کی طرح انتہائی خوبصورت علاقہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے پرانے زمانے کے لکڑیوں کے کمروں میں قیام کرایا گیا۔سارا دن 14 اگست منایا قوبا میں۔ باقی آئے وفود کے ساتھ والی بال کھیلا۔ دمبہ BBQ کیا گیا تھا۔ ایک ندی کے کنارے وہ کھلایا گیا۔

اگلے دن واپس آئے اور باکو میں قیام کیا۔ تقریباً ایک ہفتے کا دورہ تھا۔ آخری دن تمام ممالک کے وفود نے اپنے اپنے ملکوں کے مشہور اشیاء دکھائے۔

ہمارے ملک کی چادروں، چھوٹے ڈمی ٹرک، اور باقی خواتین و مرد حضرات کی لائی ہوئی اشیاء کو خوب پذیرائی ملی۔ اردن، قازقستان، اور اٹلی کے وفود کے ساتھ گزرے دنوں میں ان ممالک کے لوگوں اور کلچر کو پہچاننے کا کافی موقع ملا۔

آذربائیجان کی ترقی پسند، متحمل مزاج شریف النفس لوگوں سے کافی مثبت خیالات سامنے آئے اور یوں پورا ہفتہ آذربائیجان میں گزارنے کے بعد ہم براستہ دوحہ واپس پاکستان آ گئے۔

اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے برادرانہ تعلقات کو مزید بہتر سے بہتر بنائے۔

آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے