مجموعہ درودشریف

درودِ پاک کی اہمیت،فضیلت اورفوائد پر مبنی لاکھوں کتب مارکیٹ میں موجود ہیں تو پھر”مجموعہ درودشریف“ کے مصنف وہاج احمد کو یہ ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ اس موضوع پر مبنی ایک اور کتاب مارکیٹ میں لائی جائے؟

شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موضوع پر موجود اکثر کتب کو تحقیق کی چھلنی سے نہیں گزارا گیا۔وہاج احمد کا تعلق عساکرِ پاکستان سے ہے اوروہ عساکرِپاکستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دینے کے بعد ریٹائر ہوئے۔آپ کو پیشہ وارانہ امور کی بہترین انجام دہی پر”تمغہ امتیاز“ سے بھی نوازا گیا۔آپ نے بین الاقوامی تعلقات،بزنس ایڈمنسٹریشن،ایڈمنسٹریٹوسائنسز اورمینجمنٹ سائنسزمیں یونیورسٹی کی سطح کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کی۔آپ کا تحقیقی مقالہ حضرت عمرؓکے اقلیتوں کے لیے انصاف پر مبنی نظامِ حکومت پر تھا۔ وہاج احمد مختلف یونیورسٹیوں میں بطوروزیٹنگ فیکلٹی سیرت النبی ﷺ،تاریخِ اسلام،بین الاقوامی تعلقات اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے موضوعات پردرس وتدریس میں مشغول ہیں۔آپ سیرت النبی ﷺپر گہری تحقیق اور مطالعہ رکھتے ہیں اور ریڈیو،ٹی وی اور دیگر پلیٹ فارمز سے سیرت کے موضوع پر مختلف مباحثوں اور پروگراموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔سیرت النبی ﷺپر آپ کے لیکچرز یو ٹیوب اوردیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرموجود ہیں۔آپ اردو اور انگریزی زبان میں شائع ہونے والی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

آپ کی زیرِ تبصرہ کتاب”مجموعہ درود شریف“کو حال ہی میں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے۔285صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ایک درجن ابواب ہیں جن میں مؤلف نے مستند احادیث کی روشنی میں درودشریف کے کلمات اور فضائل کو یکجا کیا ہے۔تحقیقی اصولوں کی روشنی میں صفحات کے آخر میں حاشیے/ فٹ نوٹ کے طور پر اسناد نقل کی گئی ہیں۔کتاب کے آخر میں درود شریف کے موضوع پر لکھی گئی274 معروف کتابوں کی ایک جامع فہرست بھی دی گئی ہے۔ وہاج احمد کی یہ تحقیقی کاوش اس لئے بھی قابلِ تحسین ہے کہ اس میں نہ صرف درود شریف کے فضائل بیان کئے گئے ہیں بلکہ درود شریف نہ پڑھنے کے نقصانات اور وعیدوں کا بھی تذکرہ ہے۔پہلے باب سے قبل مؤلف نے صحابہ کرام ؓ کے الفاظ میں مستند احادیث کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کا مقام و مرتبہ بیان کیا ہے اور پھر باب اوّل میں درود شریف سے متعلق مستند احادیث درج کی ہیں۔دوسرے باب میں درودشریف کے فیوض وبرکات کا تذکرہ ہے جب کہ تیسرے باب میں قرآن و حدیث کی رُو سے درودوسلام نہ پڑھنے سے متعلق سخت وعیدوں اور نقصانات کا بیان ہے۔باب چہارم میں تعداد کے لحاظ سے درودوسلام کے اجروفضائل کا ذکر ہے۔اسی باب میں موت کی صورت میں شہدا کا درجہ پانے والے56قسم کے خوش نصیبوں کی فہرست بھی درج ہے جسے امام سیوطیؒ نے مرتب کیا تھا۔

باب پنجم میں مخصوص اوقات اور مخصوص مواقع پر درودشریف کے خصوصی فضائل کا تذکرہ ہے اور باب ششم میں درود شریف کے مخصوص الفاظ کے فضائل کا ذکر کیا گیا ہے۔باب ہفتم خاص درود کے خاص فضائل کے بیان میں ہے اور باب ہشتم درود پاک کے مستند اور توثیق یافتہ کلمات کے بارے میں ہے۔باب نہم میں درودشریف پڑھنے کے دنیاوی اور اُخروی فوائد کا اجمالی تذکرہ ہے جب کہ باب دہم میں مستند احادیث سے ثابت شدہ ان تمام مواقع کا ذکر ہے جن مواقع پر درود شریف پڑھنا احسن عمل ہے۔ گیارہویں باب میں درود پاک پر لکھی جانے والی معروف کتاب”دلائل الخیرات“ اور قصیدہ بردہ شریف کا تذکرہ ہے۔ آخری باب جو کہ خاصا ضخیم ہے،تمام درودہائے پاک کا اجمالی مجموعہ ہے جس میں قرآن و حدیث اور بزرگان دین سے ماخوذ 591 درودِ پاک درج کئے گئے ہیں۔

کتاب کی زبان نہایت سادہ ہے جو ہر قسم کے قاری کی ذہنی سطح کے مطابق ہے۔مؤلف نے موضوع پر توجہ مرکوز رکھی اورصرف وہی مواد کتاب میں شامل کیا جو ازحد ضروری تھا۔کتاب کے شروع سے آخر تک جہاں ضروری تھا عربی عبارت کا اردو ترجمہ درج کر دیا گیا اور اپنی طرف سے کسی وضاحت یا تشریح سے گریز کیا گیا ہے۔اگر کہیں تلخیص یا تشریح کی ضرورت محسوس ہوئی تو امام بخاریؒ اور ان کے پائے کے دیگر بزرگوں کی تشریحات سے استفادہ کیا گیا ہے جو احادیث کی مستندکتب سے منقول ہیں۔بحیثیت مجموعی درودِپاک پر لکھی جانے والی یہ ایک اچھی اور مستندکتاب ہے جسے تحقیقی اصولوں کی روشنی میں مرتب کیا گیا۔اللہ تعالی اس کتاب کے مؤلف وہاج احمدکے قلم کی روانی میں اضافہ فرمائے اور ان کا یہ علمی وتحقیقی کام ان کے لیے توشہ آخرت بنے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے