راولپنڈی ہمیشہ سے ادب، فکر اور زندہ مکالمے کا شہر رہا ہے۔ اس کی گلیاں اور بستیاں برسوں سے ایسی محفلوں کی گواہ ہیں جہاں لفظ صرف کہے نہیں گئے بلکہ محسوس کیے گئے، اور خیال محض سوچ نہ رہا بلکہ رویہ بن گیا۔ اسی روایت میں ایک نرم مگر مضبوط آواز محبوب صدا کی ہے، جو خاموشی سے انسان دوستی، ہم آہنگی اور مکالمے کا کام کرتی رہی۔
محبوب فرانسس صدا، جنہیں سب محبت سے محبوب صدا کہتے تھے، 18 جنوری 1947 کو راولپنڈی کی سرزمین پر پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے فرانسس برطانوی فوج میں خدمات انجام دیتے رہے، جبکہ والدہ سردارہ بی بی ایک باوقار اور باہمت خاتون تھیں۔ وہ نہ صرف اپنے گھر کی بنیاد کو محبت اور قربانی سے مضبوط کرتی رہیں بلکہ اپنے بچوں کی تربیت میں بھی ایمان، خدمت اور انسان دوستی کے اصولوں کو شامل کیا۔ ان کی شخصیت میں صبر، حوصلہ اور ایثار نمایاں تھا۔ وہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کو نہ صرف تعلیم کی طرف راغب کیا بلکہ انہیں یہ بھی سکھایا کہ دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنا اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا زندگی کا اصل مقصد ہے۔ سردارہ بی بی کی شفقت اور رہنمائی نے محبوب صدا کی شخصیت کو گہرائی بخشی۔
ان کی دعاؤں اور عملی مثال نے محبوب صدا کو یہ یقین دلایا کہ علم اور محبت کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے کے لیے ہمیشہ حوصلہ افزائی کا ذریعہ رہیں اور ان کی کامیابیوں میں ایک خاموش مگر مضبوط کردار ادا کیا۔ محبوب صدا کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جس میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھے۔ یہ خاندانی پس منظر ان کی شخصیت کی بنیاد بنا، جہاں خدمت، قربانی اور محبت کی اقدار نے ان کی تربیت میں گہرا اثر ڈالا۔
محبوب صدا امن کے داعی، بین المذاہب ہم آہنگی کے علمبردار اور ایک باوقار مسیحی رہنما تھے۔ ان کی زندگی کا مرکزی خیال سادہ مگر نہایت گہرا تھا. انسان کو انسان کے قریب لانا۔ انہوں نے محبت کو محض ایک نعرہ نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی روزمرہ زندگی اور عمل میں ڈھالا۔ ان کی شخصیت اس بات کی روشن مثال تھی کہ ایمان، محبت اور خدمت کو یکجا کر کے معاشرے میں ہم آہنگی اور انصاف قائم کیا جا سکتا ہے۔ محبوب صدا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، فاصلے کم کرتی ہے اور انسانیت کو مرکزِ فکر بناتی ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک ایسا چراغ تھے جس کی روشنی آج بھی دلوں کو منور کرتی ہے۔
ادب اور شاعری کی طرف ان کا رجحان بچپن ہی سے نمایاں تھا۔ وہ حساس دل کے شاعر تھے، مگر ساتھ ہی عملی زندگی میں سرگرم اور ذمہ دار بھی۔ انہوں نے اپنی تعلیم (بی۔اے، بی۔ایڈ، ایم۔اے، ایم۔ایڈ) مکمل کرنے کے بعد تدریس کو اپنا پیشہ بنایا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے شعوری طور پر استاد کا راستہ چنا، کیونکہ ان کے نزدیک تعلیم صرف روزگار نہیں بلکہ خدمتِ انسانیت کا ذریعہ تھی۔ بطور استاد، وہ محض نصاب نہیں پڑھاتے تھے بلکہ طلبہ کو سوچنے، سوال کرنے اور دوسروں کا احترام کرنے کی ترغیب دیتے۔ ان کے کلاس روم میں علم کے ساتھ اخلاق بھی شامل ہوتا تھا، اور وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اصل تعلیم وہی ہے جو کردار کو سنوارے اور انسان کو انسان کے قریب لائے۔
محبوب صدا کی شخصیت میں ایک قدرتی وقار تھا۔ ان کی گفتگو نرم، لہجہ شائستہ اور انداز بے ساختہ تھا۔ وہ جہاں بھی گئے، اختلاف کو تصادم بننے سے پہلے مکالمے میں بدل دیا۔ ان کا یقین تھا کہ مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کا فرق فاصلے نہیں بلکہ سیکھنے کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے اور خوشی کو بانٹنے کا ہنر جانتے تھے۔
ان کی شاعری اور تحریریں اسی فکر کی توسیع تھیں۔ وہ لفظوں کو زیبائش کے لیے نہیں برتتے تھے بلکہ رابطے کے لیے۔ ان کے اشعار پل بن جاتے تھے، جو دلوں کو جوڑتے اور غلط فہمیوں کو کم کرتے تھے۔ ان کے ہاں انسان پہلے تھا، شناخت بعد میں۔
محبوب صدا کی زندگی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ بڑے کام شور سے نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی ایک پُرسکون آواز، ایک مہذب گفتگو اور ایک مخلص رویہ ہی معاشرے میں امن اور محبت کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔ وہ خود تو خاموشی سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی صدا آج بھی دلوں میں سنائی دیتی ہے۔
محبوب صدا کو 2001 میں کرسچن اسٹڈی سینٹر راولپنڈی کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا اور وہ اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی قیادت میں یہ ادارہ نہ صرف ایک تعلیمی مرکز رہا بلکہ مکالمے، تحقیق اور علمی سرگرمیوں کا ایسا پلیٹ فارم بن گیا جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور نظریات کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آئے۔ ملک بھر کے مسیحی و غیر مسیحی محققین، شعرا، ادبا، انسانی حقوق کے کارکنان اور مذہبی رہنما یہاں جمع ہوتے اور سیمینارز، ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے فکری و سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے۔
محبوب صدا کی شخصیت اس ادارے کے لیے ایک روحانی قوت تھی۔ وہ ہر نشست کو مکالمے کا موقع سمجھتے اور ہر ملاقات کو ایک نئے رشتے کی بنیاد بناتے۔ ان کے دورِ قیادت میں کرسچن اسٹڈی سینٹر نے بین المذاہب ہم آہنگی کے کئی بڑے منصوبے شروع کیے، جن میں نوجوانوں کے لیے تربیتی پروگرام، خواتین کے لیے آگاہی نشستیں اور مختلف زبانوں میں ادبی و فکری مباحث شامل تھے۔
بطور شاعر اور ادیب، محبوب صدا پاکستان کے ادبی اور تعلیم یافتہ حلقوں میں خاصے پسند کیے جاتے تھے۔ ان کی شاعری میں انسانیت، محبت اور برداشت کی خوشبو رچی بسی تھی۔ وہ لفظوں کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں دلوں کو جوڑنے اور فاصلے کم کرنے کا وسیلہ بناتے۔ ان کی آزاد سوچ، دل کی نرمی، برداشت اور عملی رویہ ہر ملنے والے کو گرویدہ بنا لیتا۔
سادگی اور بے لوث سخاوت ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ وہ نہ شہرت کے طلبگار تھے نہ دنیاوی جاہ و حشمت کے۔ ان کی اصل پہچان ان کا کردار تھا. ایسا کردار جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا اور محبت کے دروازے کھولتا۔ ان کے دوست، شاگرد اور ساتھی آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ محبوب صدا جہاں جاتے، وہاں محبت، علم اور انسان دوستی کی فضا قائم ہو جاتی۔
محبوب صدا کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک فرد اپنی فکر، تعلیم اور عمل کے ذریعے معاشرے میں محبت، امن اور ہم آہنگی کے چراغ روشن کر سکتا ہے۔ ان کی یاد آج بھی راولپنڈی اور پاکستان کے علمی و ادبی حلقوں میں زندہ ہے، اور ان کا پیغام آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا مینار ہے۔
محبوب صدا کی زندگی خدمت، محبت اور ہم آہنگی کا استعارہ تھی۔ ان کی کاوشوں کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا اور 2003 میں انہیں "نیشنل کلچرل ایوارڈ” سے نوازا۔ یہ اعزاز اس بات کا اعتراف تھا کہ انہوں نے امن، بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی و سیاسی شعور، نوجوانوں کی رہنمائی، تعلیم اور مسیحی برادری کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
وہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک معتبر آواز تھے۔ ان کی وابستگی کئی اداروں اور نیٹ ورکس سے رہی، جن میں
– کرسچن رائٹرز گلڈ پاکستان
– ساؤتھ ایشین کرسچن رائٹرز ایسوسی ایشن
– ورلڈ فیڈریشن آف انٹرفیتھ اسٹوڈنٹ موومنٹ (بطور نائب صدر)
– ایسوسی ایشن آف کرسچن انسٹی ٹیوٹ فار سوشل کنسرن ان ایشیا (بطور جنرل سیکریٹری)
ان اداروں کے ذریعے انہوں نے نہ صرف مکالمے اور تحقیق کو فروغ دیا بلکہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان پل بنانے کا کام کیا۔
محبوب صدا وزارتِ تعلیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن بھی رہے، جہاں انہوں نے غیر مسلم طلبہ کے لیے اخلاقیات کے نصاب کی تیاری میں سرگرم کردار ادا کیا۔ ان کی رہنمائی اور عملی شرکت سے جماعت اول سے بارہویں تک اخلاقیات کی کتابیں تیار ہوئیں، جو آج بھی طلبہ کو انسانیت، برداشت اور اخلاقی اقدار کا درس دیتی ہیں۔
ان کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک فرد اپنی فکر اور عمل کے ذریعے نہ صرف اپنے حلقے بلکہ پورے معاشرے اور آنے والی نسلوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
محبوب صدا طویل عرصے تک ماہنامہ شالوم کے مدیر بھی رہے، جہاں ان کے اداریے اور کالم ان کی حب الوطنی اور پاکستان میں مسیحی اقلیتوں کے ساتھ وابستگی کا آئینہ دار تھے۔ محبوب صدا نے اپنی زندگی کے فکری اور تخلیقی سفر کو کتابوں کی صورت میں محفوظ کیا۔ ان کی تصانیف نہ صرف ان کی شاعری اور فکر کا آئینہ دار ہیں بلکہ اردو ادب کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بھی سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
– تاریخ کا فریب
– فجر کے خواب
– انتخاب (مسیحی ادیبوں کے کام کا مجموعہ)
– ارتعاش (نوجوان نسل کے لیے عکاسی کی کتاب)
یہ کتابیں ان کے تخلیقی شعور اور انسان دوستی کے پیغام کو اجاگر کرتی ہیں۔ "تاریخ کا فریب” میں انہوں نے ماضی اور حال کے تناظر میں فکری سوالات اٹھائے، جبکہ "فجر کے خواب” میں امید، روشنی اور نئی صبح کے استعارے کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا۔ "انتخاب” مسیحی ادیبوں کے کام کا ایک جامع مجموعہ ہے جو ادبی روایت کو آگے بڑھاتا ہے، اور "ارتعاش” نوجوان نسل کے جذبات، خوابوں اور فکری ارتقا کی عکاسی کرتی ہے۔
ان کی یہ تخلیقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ محبوب صدا نے ادب کو صرف جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرتی شعور، انسانیت اور ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔ ان کی تحریریں آج بھی قاری کو سوچنے، محسوس کرنے اور نئے زاویوں سے دنیا کو دیکھنے کی دعوت دیتی ہیں۔
محبوب صدا ایک سچے محبِ وطن تھے، جنہوں نے مساوات، انصاف اور اتحاد کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ وہ امتیازی قوانین کے خاتمے کی تحریکوں میں پیش پیش رہے اور ریڈیو، ٹی وی، اخبارات اور کتابوں کے ذریعے اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی گفتگو میں جرات، ان کے قلم میں سچائی اور ان کے عمل میں انسان دوستی جھلکتی تھی۔ وہ ایک مضبوط ایمان رکھنے والے شخص تھے، جو اپنی مسیحی اقدار اور شناخت پر فخر کرتے اور انہیں معاشرتی ہم آہنگی کے ساتھ جوڑتے۔
ان کی زندگی علم، روحانیت اور انسان دوستی کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ تعلیم اور مکالمہ معاشرتی تقسیم کو مٹا سکتے ہیں اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کی شخصیت اس بات کی دلیل تھی کہ محبت اور علم کے ذریعے معاشرے کو زیادہ منصفانہ اور پرامن بنایا جا سکتا ہے۔
ان کی شریکِ حیات کا نام فیلومینا محبوب ہے۔ محبوب صدا اور فیلومینا محبوب کا رشتہ محض ازدواجی تعلق نہیں تھا بلکہ ایک گہری رفاقت اور ہمسفری کی مثال تھا۔ دونوں نے زندگی کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کا سہارا بن کر نہ صرف اپنے گھر کو محبت اور سکون کا مرکز بنایا بلکہ معاشرے کے لیے بھی خدمت اور ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ فیلومینا محبوب ہمیشہ اپنے شوہر کے مشن میں شریک رہیں، ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں اور عملی طور پر ان کے ساتھ کھڑی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبوب صدا کی جدوجہد صرف ان کی ذات تک محدود نہ رہی بلکہ ایک خاندانی ورثہ بن گئی۔
اس جوڑے کو خدا نے چار بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ تین بیٹیاں اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں سرگرم ہیں اور نئی نسل کو علم و اخلاقیات کا درس دے رہی ہیں۔ ایک بیٹی سفارتی چینل کے ساتھ وابستہ ہے اور بین الاقوامی سطح پر مکالمے اور تعلقات کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا بیٹا، سونیل محبوب، اپنے والد کے ادارے کرسچن اسٹڈی سینٹر میں پروگرام مینیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے اور اپنے والد کے ورثے کو عملی طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔
یوں محبوب صدا اور فیلومینا محبوب کا رشتہ نہ صرف ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی علامت ہے بلکہ ایک ایسا عملی اتحاد بھی ہے جس نے محبت، تعلیم اور خدمت کو نسل در نسل منتقل کیا۔ یہ خاندان آج بھی اس بات کی روشن مثال ہے کہ جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے ساتھ ہم قدم ہوں تو ان کی زندگی اور ورثہ معاشرے کے لیے رہنمائی کا مینار بن جاتا ہے۔
محبوب صدا کا انتقال 14 جنوری 2011 کو اسلام آباد میں ہوا، مگر ان کی یاد آج بھی زندہ ہے۔ ان کا ورثہ صرف کتابوں اور اداروں تک محدود نہیں بلکہ ان دلوں میں بھی ہے جنہیں انہوں نے محبت، علم اور مکالمے کا درس دیا۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا مینار ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کا سب سے بڑا سرمایہ محبت اور انصاف ہے۔
محبوب صدا آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کا نام، ان کی فکر اور ان کے کارنامے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسے ایسا بنائیں کہ دیکھنے کے قابل ہو۔ وہ ایک خود ساختہ انسان کی روشن مثال تھے، جن کی کرشماتی شخصیت نے دنیا بھر میں لوگوں کو متاثر کیا۔
جیسا کہ رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا
“موت روشنی کو بجھانا نہیں ہے؛ یہ چراغ کو اس لیے بجھانا ہے کہ صبح آ گئی ہے۔