جنجا، یوگنڈا میں ایک دوست کے ریسورٹ پر پہنچا ہوا تھا۔ اتنے میں چند جرمن خواتین آئیں اور میرے دوست سے درخواست کی کہ وہ انہیں دریائے نیل میں کشتی رانی کی سہولت مہیا کر دیں۔
میرا دوست جو وزیر آباد کا رہنے والا تھا اور ہوٹل کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا رہنما بھی تھا، فوراً سارے انتظامات کر لیے اور ان سے کہا کہ صبح ناشتے کے فوراً بعد روانہ ہونا ہوگا۔
یقین جانیے، مجھے پانی سے بہت ڈر لگتا ہے۔ مگر میرا دوست جو ہر وقت کسی نہ کسی ضد پر ہوتا ہے، مجھے للکارتے ہوئے بولا: "صاحب، یہ خواتین جا سکتی ہیں، دریا میں کشتی رانی کر سکتی ہیں، تو آپ کیوں نہیں”؟
میں نے اپنے دوست جس کا نام شکیل ہے اور میں اُسے پیار سے ’چھوٹا‘ کہہ کر پکارتا ہوں، عرض کیا: "ذرا مجھے ویڈیوز تو دکھاؤ کہ یہ دریا میں کشتی رانی ہوتی کیسی ہے؟” جب میں نے دریائے نیل کی سمندر جیسی موجوں اور لہروں کا بہاؤ دیکھا تو فوراً بولا: "یہ پاگل پن ہے، میں نہیں جاؤں گا۔ پہاڑی آدمی ہوں، مجھے تو ویسے ہی پانی سے ڈر لگتا ہے۔” وہ صاحب ہنستے ہوئے کہا: "صاحب آپ صرف گھوم لینا”۔ اور جو ہونا تھا وہ ہوا۔ صبح مجھے پراڈو گاڑی کے فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر لے گیا۔ دریائے نیل کے کنارے جرمن خواتین نے بغیر وقت ضائع کیے حفاظتی جیکٹس پہنیں اور کشتی نما ٹیوب بوٹ میں جا بیٹھیں۔
شکیل نے پھر میری ہمت بڑھائی اور ساتھ ہی غیرت کا طعنہ بھی دے دیا کہ "دیکھو صاحب، آپ ڈرتے ہو اور یہ خواتین ہو کر دریا میں کشتی رانی کر رہی ہیں۔” میں جذباتی ہو کر سیدھا کنارے پر گیا اور دریائے نیل میں وضو کر کے شکیل کو بھی زبردستی کشتی میں بٹھایا کہ "مریں گے تو ایک ساتھ مریں گے”۔
پھر کیا تھا، سادات کا جلال اور پختون غیرت جاگ اٹھی اور یوگنڈا کے جنجا کے علاقے میں دریائے نیل میں چل پڑے کشتی رانی کے لیے۔ یہاں کی کشتی رانی کی خاصیت یہ ہے کہ دریائے نیل بنیادی طور پر لیک وکٹوریہ سے نکلتا ہے اور آگے ایسے راستوں سے گزرتا ہے کہ ٹھیک ٹھاک جنّت کا احساس ہوتا ہے۔
سفر کے منتظمین نے ہر جگہ کوئی نہ کوئی دلچسپی ضرور رکھی تھی۔ ہمیں کشتی میں کہتے: "خوبصورت منظر آرہا ہے، سب کھڑے ہو جائیں اور تصویر کے لیے ہاتھ ہلائیں۔” مگر ہمیں کیا پتہ تھا کہ اگلے لمحے وہاں سخت تیز لہروں سے سامنا ہوگا اور کشتی الٹ جائے گی۔
ہم لہروں سے بےخبر ہاتھ ہلا کر کھڑے ہی ہوئے تھے کہ کشتی الٹ گئی اور میں دریائے نیل کے پانی میں جا گرا۔ پانی کے نیچے سے سورج کی کرن ایک لمحہ دیکھی، اور پوری طرح سمجھ بیٹھا کہ زندگی کا خاتمہ ہوگیا مگر اچانک ایک جملہ یاد آیا:
"بیٹا، حوصلہ مت ہارنا زندگی میں۔”
یقین جانیے اس جملے نے میرے اندر کی دنیا بدل دی اُس لمحے میں۔ حوصلہ پایا اور جب کسی یوگنڈا کے مقامی نے مجھے جیکٹ سے پکڑا تو میں 20 میٹر پانی میں تیرتا ہوا آگے نکل گیا۔ واپس کشتی میں بیٹھا، سانس بحال ہوئی اور وہ جملہ "بیٹا حوصلہ مت ہارنا” کانوں میں گونج رہا تھا۔ یہ جملہ کسی اور کا نہیں، میرے والد مرحوم کا تھا۔ کہتے تھے: "حوصلہ انسان کو زندہ رہنے کا ہنر سکھاتا ہے۔” اس نے مجھے سچ میں زندگی بخشی۔
یوسف کی محبت میں ایوب علیہ السلام اندھے ہو گئے تھے۔ یوسف سے محبت ہوتی ہی ایسی ہے، چاہے وہ بیٹے کی صورت میں ہو یا والد کی صورت میں۔
ایسا بھی وقت گزرا ہے کہ میں اور بابا رات کو بیٹھے اور صبح ہو جاتی، اور گپ شپ چلتی رہتی۔ کبھی لیٹے، کبھی بیٹھے، کبھی ہنستے اور یوں دوستانہ ماحول میں بات چیت چلتی رہتی۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر جہاز میں بیٹھے ہی کہتے، "اب ہم دوست ہیں کیونکہ مسافر ہیں۔” اور واپسی پر ایئرپورٹ پر کہتے، "زبان سنبھال کر بات کرو، اب دوستی ختم، باپ بیٹے کا رشتہ شروع۔” میں اُن کے چہرے کو دیکھتا، دل میں پیار اُٹھتا اور کہتا، "ٹھیک ہے بابا۔”
کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن سے محبت اور احساسِ وابستگی کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ آپ ان سے لگاؤ رکھتے ہیں، محبت کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ ان کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ رہ بھی لیں تو یکسر خالی سا۔ موسموں کی طرح زندگی گزارتے ضرور ہیں مگر اُس میں زندگی نہیں ہوتی، بس دکھاوا کہہ لیں۔
میری زندگی میں ایسا ہی تعلق اپنے والد صاحب کے ساتھ تھا۔ بچپن میں ہیرو، جوانی میں حوصلے کا سبب، میرے بابا سید یوسف جان۔ میرے تایا کہتے تھے، یا شاید والد صاحب کی بڑی بہن نے کہا کہ بابا کا نام یوسف جان اِس لیے رکھا گیا تھا کہ وہ بہت زیادہ خوبصورت تھے۔ سرخ و سفید رنگت، اونچی ناک، نیل جیسی نیلی آنکھیں، دراز قد اور مُتاثر کن شخصیت۔ دادا مرحوم نے ہاتھ سکوں میں ڈالے کہ پیسہ زیادہ آتا رہے، اور پھر کروڑوں میں کھیلے۔ جب کبھی لینڈکروزر یا لیکسس سے اترتے تو خوشبو پورے محلے میں پھیل جاتی۔ کیا ہی نفیس اور متاثر کن شخصیت تھی اُن کی۔
اب ایک لمحہ سوچیے: ایک 6 فٹ کے دراز قامت شخص لیکسس، پراڈو یا زیرو میٹر لینڈکروزر سے اتر رہے ہیں۔ اُس شخص نے وقت کا بہترین لباس اور واسکٹ اعلیٰ نسل کے غیرملکی کپڑے کا پہنا ہوا ہے۔ نیچے پیروں میں چپلیں یا جوتے بہترین چمڑے کے ہیں، اور اُس کے اوپر اُون کے کپڑے کے بہترین چترالی پاکول یا روایتی ٹوپی پہنے ہوئے ہیں۔ پاکول یا ٹوپی دائیں طرف سر کی اوپر والی اور تھوڑی کھنچی ہوئی، "ٹیڑھی” قسم کی۔
آنکھیں نیلے دریا کے جیسی… دریا نیل کہیں جگہ سفید ہے اور کہیں جگہ نیل جیسا، لمبی لمبی پلکیں ہیں۔ ناک آریوں جیسی ہے، لمبی۔ چہرے پر تجربے کا جھلکتا ہوا رعب ہے۔ ہاتھوں اور بازوؤں چوڑے ہیں، جیسے پنجاب کے پہلوانوں یا کشتی کبڈی کھیلنے والوں کے۔
خوشبو عود یا کسی اور پرفیوم کی ایسی کہ سامنے گلی میں پھیلتی جاتی ہو جب وہ چلتے ہیں یا یوں سمجھ لیجیے کہ ایک شخص جو 70 کی دہائی میں اصل نسل کے گھوڑوں پر سوار ہوتا تھا اور اب لینڈکروزر سے نیچے گریڈ استعمال نہ کرتا ہو۔
قدم قدم میں رعب ہو، اپنے وقت کا بہترین ٹھیکیدار ہو۔ آپ دیر کی ضلع میں جہاں بھی جائیں اُن کے ہاتھ کے بنے اسکول، کالج اور سړ ک آپ کو نظر آتے ہوں۔
۔ اُن کے والد جلدی فوت ہو جائیں مگر وہ بچپن سے لکڑیاں لاد کر لائے اور بازار میں بیچے، پھر گھوڑوں کا کاروبار کریں اور جلال آباد تک جائیں۔
شادی کریں تو اپنے گاؤں کی سب سے شریف اور سلیقہ مند خاتون کے ساتھ۔ کشمیر پر مشکل وقت آئے تو بطور سپاہی چلے کشمیر تک، کیریئر میں دیر کے نواب کی حکومت میں ملازمت پائیں، غرض یہ کہ زندگی کے ہر پہلو میں وہ پرفیکشنسٹ ہوں۔
طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کریں مگر ٹوٹے نہ، رنگ بہ رنگ چیلنجز آئے مگر بکھرے نہ۔ سخت سے سخت اوقات میں بھی چہرے پر سکون مسکراہٹ قائم رہے۔ قومی اور مقامی سطح کے سیاسی اور کاروباری شخصیات سے قریبی روابط رکھیں اور سماجی حلقوں میں ایک نمایاں مقام بھی ہو۔ صبح صبح گھر سے نکلیں تو بہت سارے لوگوں کے لیے امید کی کرن ہوں، جرگوں میں بیٹھیں، لوگ محبت کریں، ساتھ میں عداوت بھی رکھیں۔
بچوں کی پرورش ایک طرف ناز و نعم کے ساتھ اور دوسری طرف تربیت ایسی ہو کہ اُنہیں دنیا کے ہر قسم کے حالات سے ٹکرانے کا ہنر سکھایا ہو البتہ تعلیم پر کوئی سمجھوتا نہ ہو۔
ایک دن بیت اللہ شریف میں عصر کے وقت بابا میری گود میں سر رکھے ہوئے، آنکھیں بند، کسی گہری سوچ میں تھے۔ میں معمول کے مطابق کعبہ کے سامنے بیٹھا قرآن شریف پڑھ رہا تھا۔ فرماتے ہیں:
"بیٹا، جب آپ قرآن شریف کی تلاوت میں مصروف تھے اور میرا سر آپ کی گود میں، تو آنکھیں بند کر کے میں نے ہر دنیاوی چیز سے ریٹائرمنٹ لے لی۔”
آیت:
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
"سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دِل مطمئن ہوتے ہیں۔”(الرعد: 28)
تیر شو تیریگی دوران د دنیا
پاتي بہ نشی شاہان پہ دنیا
زندگی کے آخری ایام میں بابا اکثر یہ شعر پڑھ کر سنا دیتے تھے۔ میں کچھ کہنا چاہتا، فرماتے: "بیٹا، میں اپنا حصہ مکمل کر چکا ہوں دنیا کا، اور ناخن برابر کوئی ارمان نہیں ہے دل پہ۔”
جگر کے کینسر میں مبتلا مریضوں کی یادداشت میں اکثر و بیشتر فرق آ جاتا ہے۔ مدینہ میں قیام کے دوران بابا ساری رات کینسر کے درد میں مبتلا تھے مگر صبح وضو کر کے اٹھے اور آدھی یادداشت کے ساتھ نماز پڑھی۔ مجھ سے کہا: "سلام پھیرنے کے بعد، نماز میں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی؟” میں نے روتے ہوئے کہا: "بابا، میں قسم کھاتا ہوں کہ آج مدینہ میں کسی نے آپ کی طرح نماز نہیں پڑھی ہوگی۔”
حدیث:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
"بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔”(صحیح بخاری)
کہتے تھے: "میں نہ رہا تو ہاتھ ملتے رہ جایئں گے۔” میں نے کہا: "میں صرف ہاتھ نہیں، دل بھی ملتا رہوں گا۔”
آیت:
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا
"اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید کی ہے۔”(العنکبوت: 8)
ایک موقع پر یوسف کے بازارِ مصر میں پاگلوں کی طرح پھرا لیکن کوئی یوسف نظر نہیں آیا۔ نہ آیا، نہ آئے گا۔ کچھ لوگ ہوتے ایسے ہیں، آپ اُن کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ رہ بھی لیں تو جی نہیں سکتے۔
بابا کی آخری سانسیں چل رہیں تھیں۔ میں نے کہا: "بابا، میں تمہارا یار بیٹا اور آہستہ سے آپ کے پیر کے انگوٹھے کو ہلایا۔ وہ مسکرائے اور میری دیکھا دیکھی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ میں قسم کھا سکتا ہوں، میں نے کسی کو اتنی بہادری سے اور مسکراتے ہوئے اپنے رب سے ملتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حدیث:
مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ
"جس شخص نے اللہ سے ملنے کو محبوب رکھا، اللہ نے بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھا۔”(صحیح بخاری)
بابا کا جنازہ پڑھایا۔ وہ جسمانی طور پر فوت ہوئے، مگر میں زندہ رہتے ہوئے بھی ان کے بغیر بس رسمی زندگی گزار رہا ہوں۔ ان کے بغیر خود کو ادھورا سمجھ رہا ہوں۔
حدیث:
إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ
"جب آدمی فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، نفع دینے والا علم، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔”(صحیح مسلم)
اب، میرے رب… میں دو جگہوں سے بہت افسردہ ہو کر لوٹتا ہوں۔ ایک در حسینؑ سے اور دوسرا بابا کی قبر پر حاضری کے بعد اور اِس اُداسی میں یہ اشعار گویا دل پر اُتر آتے ہیں:
آؤ تو ذرا دیکھ مرے درد کو اِک دن،
حسینؑ کا در چھوڑ کے جاؤں گا میں کیسے؟
اب حُسن کے بازار میں یوسف نہیں رہا،
جس کو بھی خریدوں گا، خریدوں گا میں کیسے؟
میں بھی "رحیم”، وہ نہیں رہا جو کبھی تھا،
بکھرا جو اگر پھر سے، تو سنبھلوں گا میں کیسے؟
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
"اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے چھوٹا پرورش کیا۔”(بنی اسرائیل: 24)
:
یا اللہ!سید یوسف جان پر رحم فرما، انہیں بخش دے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما، اور ان کی اولاد کو ان کا نیک جانشین بنا۔ آمین یا رب العالمین۔