کتب میلہ: اہلِ ذوق سے چند گزارشات!

ویسے نام کو تو یہ ’’کتب میلہ‘‘ ہے، مگر عمومی ماحول دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ پبلسٹی اور نمائش کی چیز زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے عموماً ہم جیسے ساتھی، اس کی نفسیات نہ سمجھنے کے سبب، خاطر خواہ فائدہ اٹھائے بغیر واپس لوٹ جاتے ہیں، جو نہیں ہونا چاہیے۔

بنیادی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ’’کتب میلہ‘‘ میں جانا محض خریداری کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ وسیع معنوں میں یہ ایک فکری، علمی اور تہذیبی تجربہ ہوتا ہے، جہاں نئی مطبوعات، تازہ تحقیقات اور جدید علمی رجحانات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ نیز کبھی وہ کتابیں بھی نظر سے گزر جاتی ہیں جن تک عام حالات میں رسائی آسان نہیں ہوتی۔

ہم تقریباً 2016–17 سے الحمدللہ مسلسل جا رہے ہیں۔ استادِ محترم مولانا عبدالحلیم چشتی صاحب رحمہ اللہ کی معیت و سرپرستی میں پہلی مرتبہ جانا ہوا تھا، تب سے اب تک اس تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھ جیسے طالب علم کو اس سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ اسے ایک رسمی یا تفریحی نوعیت کی سرگرمی سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ علمی مشغلے کے طور پر لیا جائے۔ محض تصویر کشی یا نمائش کے لیے جانے کے بجائے اگر استفادے کی نیت اور علمی ذوق کے ساتھ حاضری دی جائے تو اس کے فوائد نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، یہ ایک نمائش بھی ہے، اس لیے یہاں کئی ایسے اسٹال نظر آتے ہیں جہاں کتابیں کم، مگر فکری آگاہی یا مکتبی تشہیر کا سامان زیادہ ہوتا ہے۔ بعض اسٹالز کتابیں رکھنے کے باوجود، کتابیں بیچنے کے بجائے اپنی فکر، رائے اور زاویۂ نظر غیر شعوری انداز میں پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ خالص تجارتی اغراض کے تحت قائم ہوتے ہیں، جبکہ چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو واقعی کتاب بیچنے یا کتاب تک رسائی دینے کا کام کرتے ہیں۔ اس لیے ہر ہر اسٹال پر رک جانا نہ صرف ضیاعِ وقت ہے، بلکہ کبھی کبھار متاعِ جاں گنوانے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔

دو چند مکتبات یا اسٹالز کو چھوڑ کر عموماً مخصوص اسٹالز ہی ہوتے ہیں جو ہر سال، قدرے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ، موجود نظر آتے ہیں۔ اس لیے ان کے مشمولات، ذخیرۂ کتب اور عمومی رجحان پر ایک طالب علمانہ تبصرہ، آٹھ دس سال کے مشاہدے کی روشنی میں، شاید زیادہ نامناسب نہ ہو۔ اسی بنا پر چند مفید اسٹالز اور مکتبات کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں، جو شاید اپنے جیسے طلبہ ساتھیوں کے لیے سود مند ثابت ہوں، خاص طور پر دینی مدارس کے وہ طلبہ جو خاص ذوق اور محدود وقت کے ساتھ ایکسپو کا رخ کرتے ہیں۔

یہ تبصرہ عمومی نہیں ہے، بلکہ دینی مدارس کے طلبہ، مذہبی طبقے، یا بالعموم اسلامیات، تاریخ اور فکر و ادب سے وابستہ شائقین کے لیے ہے۔ پھر یہ مشاہدے اور تجربے کی باتیں ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ سب درست ہی ہوں۔

معرض کے کتابی اسٹالز تقریباً ہر سال بیک وقت ایکسپو سینٹر کے تین ہالز میں لگتے ہیں۔ اپنے ذوق کے اعتبار سے ہال نمبر 1 کو ہمیشہ مفید پایا ہے۔ آغاز ہی میں مکتبہ دارالسلام کا وسیع اسٹال ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا ڈسپلے زیادہ خاص نوعیت کا نہیں ہوتا، مگر اندرونی حصے میں ذوق کی کتابیں مل جاتی ہیں۔

تاہم اس کے علاوہ بھی کئی مفید اسٹالز ہیں، جن میں ’’ادارہ تحقیقات‘‘ قابلِ ذکر ہے، جہاں علمی نوعیت کی کتابوں کا اچھا ذخیرہ موجود ہے، خاص طور پر سیرت، تاریخ اور مذاہبِ عالم پر۔ قاری تنویر احمد شریفی صاحب کے ’’مکتبہ رشیدیہ‘‘ کا اسٹال بھی یہیں ہوتا ہے، جہاں اکابرِ ہند کی کتابیں دستیاب ہیں، اور تفسیر و حدیث کے چند اہم عربی مصادر بھی مل جاتے ہیں۔

’’دار ابی الطیب‘‘ سلفی حضرات کا مکتبہ ہے، جو عربی کتابوں کا اچھا ذخیرہ رکھتا ہے، اور تحقیقی کتب بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے پاس ہی ’’المکتبہ السلفیہ‘‘ اور ’’زوار اکیڈمی‘‘ ہیں، جہاں بھی ذوق کی چیزیں مل جاتی ہیں۔

مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، جو دو تین سال کے وقفے کے بعد اس سال دوبارہ آیا ہے، اردو کے مشاہیر کی ادبی اور علمی کتب کا بھرپور ذخیرہ رکھتا ہے۔ ’’قرطاس‘‘ کے مشمولات بھی ہمیشہ اچھے ہوتے ہیں، تاہم اس سال نظر نہیں آیا۔

ایک خوبصورت اضافہ اس سال، بلکہ شاید پہلی مرتبہ، ’’کتب خانہ تاریخ‘‘ کے نام سے دیکھنے میں آیا۔ یہ مکتبہ سب سے پہلے دو سال قبل آرٹس کونسل کراچی میں، قومی اردو کانفرنس کے موقع پر دیکھا تھا۔ اس کا مالک ایک سادہ مگر باذوق شخص معلوم ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ہاں اکثر ایسے موضوعات پر کتابوں کا ذخیرہ ہوتا ہے جن تک ہماری نسل کم ہی رسائی حاصل کر پاتی ہے۔

چنانچہ تصوف سے متعلق کتابیں بالعموم کم، مگر شیخ ابنِ عربی کی تصانیف، ان کی فکر و نظریے اور ان کے منہجِ تصوف سے وابستہ کتب خاص طور پر وافر مقدار میں موجود ہیں۔ فارسی زبان کے معروف شعرا کے دیوانوں کے علاوہ پشتو ادب، پشتون قبائل اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے جغرافیے پر نہایت عمدہ مطبوعاتی سرمایہ بھی دستیاب ہے، بلکہ بعض اوقات نایاب چیزیں بھی مل جاتی ہیں۔ اس بات کا تذکرہ دو سال قبل مالکِ مکتبہ سے ہوا تھا۔

اسی کے قریب اقبال اکیڈمی کا اسٹال ہوتا ہے، جہاں اقبالیات سے متعلق اردو اور عربی مواد دستیاب ہوتا ہے، تاہم اس سال عربی مواد نظر نہیں آیا۔ ’’کتاب سرائے‘‘ اور ’’دار احساس‘‘ کے اسٹالز بھی مناسب ہیں۔

ہال نمبر 2 میں اردو ادب، ناول، فکشن وغیرہ سے متعلق اسٹالز زیادہ ہیں، جن پر مختصر توقف کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ’’بک کارنر جہلم‘‘، ’’فکشن ہاؤس‘‘، ’’نیشنل بک فاؤنڈیشن‘‘، ’’سنگِ میل‘‘ اور ’’زمزم پبلشرز‘‘۔ زمزم پبلشرز کا اسٹال اس ہال میں خاص طور پر قابلِ توجہ ہے، جہاں بیروت کے مطبوعات بڑی مقدار میں دستیاب ہوتے ہیں۔

’’مکتبہ معارف القرآن‘‘ کا وسیع اسٹال بھی اسی ہال میں ہوتا ہے، جہاں استادِ محترم مفتی تقی عثمانی مدظلہم کی تمام تصانیف دستیاب ہیں۔

اس مرتبہ اسی ہال میں دو نہایت خوشگوار اور قابلِ قدر اضافے دیکھنے کو ملے۔ ایک تو درسِ نظامی کی کتابوں کی معیاری اور دیدہ زیب طباعت کے حوالے سے معروف ادارہ ’’مکتبہ رحمانیہ، لاہور‘‘ ہے، جو شاید پہلی مرتبہ یہاں جلوہ گر ہوا ہے۔ درسِ نظامی کی اکثر کتابیں ہم نے اسی ادارے کی مطبوعہ نسخوں سے پڑھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بشریٰ وغیرہ کی قابلِ قدر کوششیں اپنی جگہ، مگر معیارِ طباعت، خصوصاً سادگی، حسنِ ترتیب اور حاشیہ سازی کے اعتبار سے اب تک ان کا کوئی واضح مقابل سامنے نہیں آ سکا۔

دوسرا قابلِ ذکر اضافہ ’’السعید پبلی کیشن‘‘ کے نام سے ایک مستقل اسٹال ہے، جہاں استادِ محترم مفتی ابو البابہ صاحب دامت برکاتہم کی تمام تصانیف پیش کی گئی ہیں، جو اہلِ ذوق کے لیے یقیناً باعثِ توجہ ہیں۔

اسی ہال میں فیضانِ مدینہ کا ’’مکتبۃ المدینہ‘‘ بھی موجود ہے، جہاں عربی کتابوں کا مناسب ذخیرہ دستیاب ہے، اور عربی ذوق رکھنے والوں کے لیے وہاں رک جانا خالی از فائدہ نہیں۔

ہال نمبر 3 خالص علمی ذخیرے کے اعتبار سے شاید اس پورے کتب میلے کا سب سے کمزور ہال محسوس ہوتا ہے۔ اگر یہاں انجمنِ ترقیِ اردو ادب، المنہل، اور علی میاں پبلی کیشنرز (لاہور) کے چند محدود اسٹالز موجود نہ ہوں تو مختصر وقت کے لیے آنے والوں کے لیے شاید اس ہال میں رکنا زیادہ مفید نہ ہو۔ ان چند اداروں کی موجودگی کے باعث وہاں جانا کسی حد تک فائدے سے خالی نہیں، ورنہ مجموعی فضا اور مشمولات کے لحاظ سے یہ ہال علمی ذوق رکھنے والوں کے لیے خاص کشش پیدا نہیں کر پاتا۔

بہرحال، یہ ایک طالب علمانہ تبصرہ ہے۔ ممکن ہے کسی کے لیے مفید ثابت ہو، اسی امید پر یہ گزارشات پیش کی گئی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے