مولوی : گلی کوچوں کا چراغ

یہ جو ہمارے گلی محلّوں کی مساجد و مکاتب اور چھوٹے چھوٹے مدارس میں جو لاکھوں مولوی صاحبان ہوتے ہیں، ان کو ہلکا نہ لیا جائے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر نہ کسی فہرست میں ہوتے ہیں، نہ کسی منصوبے کا حصہ، اور نہ ہی کسی بجٹ کی سطر میں نظر آتے ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ریاستی و حکومتی نظام میں ان کے لیے ایک روپیہ تک کی باقاعدہ گنجائش موجود نہیں۔ یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ این جی اوز، رفاہی ادارے، بڑے سرمایہ دار اور مخیر حضرات کے ہاں بھی ان مولویوں کے لیے کوئی خاص ہمدردی یا ترجیح نہیں پائی جاتی۔

اس تمام تر سماجی، معاشرتی، حکومتی اور ریاستی بے رخی کے باوجود، یہ گلی کوچوں، محلّوں، یونین کونسلوں اور دور افتادہ بستیوں میں پھیلے لاکھوں مولوی صاحبان نہایت بے سروسامانی کے عالم میں ہماری بے شمار دینی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔مثلاً مسلمانوں کی سب سے بڑی اجتماعی ضرورت ، مسجد میں نماز باجماعت کا باقاعدہ اہتمام، بڑی عمر کے بزرگوں کو دین اسلام کے بنیادی عقائد، فرائض اور احکام کی تعلیم، درسِ قرآن و حدیث، بچوں اور بچیوں کی ابتدائی اسلامی تعلیم، بالخصوص ناظرہ قرآن اور پھر نکاح، جنازہ اور دیگر اہم دینی امور .

یہ سب وہ خدمات ہیں جو یہ لاکھوں مولوی حضرات بلا کسی چون و چراں، بلا کسی معاوضے کی امید، صدیوں سے انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔

عمومی طور پر ہمیں شکایت بڑے بڑے سیاسی و مذہبی لیڈروں پر مشتمل اُن علماء سے ہوتی ہے، جن کے کروفر، طرز سیاست اور طرز عمل پر ہم معترض رہتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ انہی چند نمایاں چہروں کو بنیاد بنا کر ہم ان لاکھوں خاموش، محنتی اور بے نام مولویوں کو بھی ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیتے ہیں۔

حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان میں فرق کریں۔ ہر عالم سیاست دان نہیں ہوتا، اور ہر مولوی اقتدار کا خواہاں نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی ہر مولوی مالدار یا سرمایہ دار ہوتا ہے۔

اس لیے ان علماء کے لیے نیک جذبات رکھنا بھی ضروری ہے اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ان کی نصرت و معاونت بھی لازم ہے۔

آپ یقین کریں، یہ مولوی اور قرّاء حضرات اس زمین کا نمک ہیں۔

جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ چاہے ٹھٹھرتی سردی ہو یا جھلساتی گرمی، یہ لوگ اپنی دینی خدمات نہایت خاموشی، سادگی اور بے سروسامانی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کاش! ہمیں ان کے ایثار، ان کی قربانی اور ان کی خاموش خدمت کا کچھ اندازہ ہو پاتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے