بطور شاعر اور مصلح شیخ ایاز کا کردار

شاعر محض الفاظ کا ہنرمند نہیں ہوتا، نہ ہی وہ صرف جذبات کا ترجمان ہوتا ہے۔ سنجیدہ اور زندہ معاشروں میں شاعر اجتماعی ضمیر کی آواز، اقدار کا امین، اور تاریخ کا وہ غیر سرکاری محافظ ہوتا ہے جسے ریاستی آرکائیوز میں جگہ نہیں دی جاتی۔ جب طاقتور طبقات تاریخ کو اپنے حق میں موڑتے ہیں، جب ریاستی بیانیہ شکست خوردہ قوموں کے زخموں کو چھپاتا ہے، تب شاعر ہی وہ کردار ادا کرتا ہے جو خاموش سچ کو زبان دیتا ہے۔ شاعر کا کام صرف حسنِ بیان نہیں بلکہ حقیقت کی شہادت ہے۔

حقیقی شاعری محض تفریح نہیں ہوتی۔ وہ اقتدار کو بے چین کرتی ہے، سماج کو آئینہ دکھاتی ہے اور اجتماعی یادداشت کو زندہ رکھتی ہے۔ شاعری میں رومان آ سکتا ہے، مگر رومان اس کا مرکز نہیں بن سکتا۔ جب شاعری اپنے سماجی اور اخلاقی فرائض سے دستبردار ہو جائے تو وہ طاقت کے لیے بے ضرر اور تاریخ کے لیے غیر متعلق ہو جاتی ہے۔ ایسی شاعری تالیاں تو حاصل کر سکتی ہے، مگر وراثت نہیں چھوڑتی۔

اسی اصول پر اگر ہم سندھ کی شعری روایت کو دیکھیں تو ایک واضح فرق سامنے آتا ہے۔ سندھ کے کلاسیکی شعرا نے کبھی اقتدار کے دروازے پر دستک نہیں دی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے دربار کی قربت کو رد کیا، سچل سرمستؒ نے فتوؤں اور سماجی بائیکاٹ کی پروا نہ کی، اور شاہ عنایت شہیدؒ نے جاگیردارانہ اور سامراجی نظام کو للکار کر اپنی جان قربان کر دی۔ ان کی شاعری میں محبت بھی تھی، مگر وہ محبت زمین، وقار، آزادی اور اجتماعی شناخت سے جڑی ہوئی تھی۔ ان کے ہاں عورت صرف حسن کا استعارہ نہیں بلکہ مزاحمت اور ثابت قدمی کی علامت تھی، جیسے ماروی اور سسئی۔

وقت کے ساتھ ساتھ مگر سندھی شاعری کا معیار بدلتا گیا۔ رومان، جسمانی حسن اور ذاتی جذبات کو شاعری کی اصل روح سمجھ لیا گیا۔ شاعر سے یہ توقع ختم ہوتی گئی کہ وہ طاقت کے سامنے سوال اٹھائے۔ نتیجتاً شاعری سماجی ضمیر کے بجائے ذاتی اظہار تک محدود ہو گئی۔ اسی ماحول میں شیخ ایاز کا ظہور ہوا، اور یہی ماحول ان کے عروج کی اصل وجہ بھی بنا۔

یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ شیخ ایاز ایک باصلاحیت شاعر تھے۔ زبان پر ان کی گرفت مضبوط تھی، اظہار میں روانی تھی، اور ان کی شاعری نے نوجوان نسل کو متاثر بھی کیا۔ مگر سوال یہ نہیں کہ وہ باصلاحیت تھے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ انہوں نے اس صلاحیت کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔ تاریخ میں بڑے شاعر وہ نہیں ہوتے جو صرف اچھا لکھتے ہوں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو درست وقت پر درست جگہ کھڑے ہوں۔

شیخ ایاز نظریاتی طور پر پختہ شخصیت نہیں تھے۔ تاریخ، فلسفہ اور سیاسی معیشت سے ان کا تعلق سطحی رہا۔ انہوں نے قوم پرستی کے جذبات کو تو اپنایا، مگر قوم پرستی کے فکری اور ساختی پہلوؤں کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ وہ سندھ کے دکھ کو بیان تو کرتے ہیں، مگر اس دکھ کی جڑوں، اسباب اور طاقت کے ڈھانچوں پر مسلسل اور مربوط تنقید نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں شور تو ہے، سمت نہیں۔

ان کا عروج اس لیے ممکن ہوا کہ اس وقت سندھی سماج ایک جذباتی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ شناخت مجروح تھی، وسائل پر اختیار کمزور ہو چکا تھا، اور مرکز کے ساتھ تعلقات میں تلخی بڑھ رہی تھی۔ ایسے ماحول میں جو بھی اس احساس کو زبان دے، وہ مقبول ہو جاتا ہے۔ ایاز نے یہی کیا۔ انہوں نے قوم کے احساسات کو آواز دی، مگر ان احساسات کو نظریے میں نہیں بدلا۔ وہ تحریک کے معمار نہیں بنے، صرف اس کے نغمہ خواں رہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اجتماعی جذبات کو آواز دینا اور اجتماعی جدوجہد کو فکری بنیاد فراہم کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ پہلی چیز مقبولیت دیتی ہے، دوسری قربانی مانگتی ہے۔ شیخ ایاز نے پہلی کو اختیار کیا اور دوسری سے گریز کیا۔

وقت کے ساتھ قوم پرستی ان کے لیے ایک اخلاقی ذمہ داری کے بجائے ایک سماجی سرمایہ بن گئی۔ جب قوم پرستی سے شہرت ملی، وہ اس کے ساتھ رہے۔ جب اسی قوم پرستی نے طاقت سے فاصلے اور تصادم کا مطالبہ کیا، وہ پیچھے ہٹ گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر اور موقع پرست کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔

وائس چانسلرشپ قبول کرنا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک اخلاقی اور سیاسی انتخاب تھا۔ ایک شاعر جو محروم قوم کی نمائندگی کا دعویٰ کرے، وہ اسی ریاستی ڈھانچے سے منصب قبول نہیں کرتا جو اس محرومی کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کی قوم پرستی فکری بنیادوں پر قائم نہیں تھی بلکہ حالات کے مطابق بدلنے والی کیفیت تھی۔

یہ کہنا کہ انہوں نے اس منصب کو ثقافت یا زبان کی خدمت کے لیے استعمال کیا، ایک کمزور دلیل ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ثقافت سرکاری سرپرستی میں نہیں پھلتی بلکہ مزاحمت میں زندہ رہتی ہے۔ زبان اداروں سے نہیں، عوام سے زندہ رہتی ہے۔ شاعر جب دفتر کا حصہ بن جائے تو وہ طاقت کے بیانیے کا محافظ بن جاتا ہے، چاہے وہ لاشعوری طور پر ہی کیوں نہ ہو۔

ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ بھٹو نے مزاحمت کو صرف طاقت سے نہیں دبایا بلکہ اسے جذب کر کے بے اثر کیا۔ سوشلسٹوں کو وزارتیں ملیں، قوم پرستوں کو عزت و عہدے ملے، اور دانشوروں کو اداروں میں جگہ دی گئی۔ یوں مزاحمت کا زور ٹوٹ گیا اور اختلاف قابلِ قبول صورت اختیار کر گیا۔ شیخ ایاز اس حکمتِ عملی کا سب سے نمایاں ثقافتی شکار تھے۔

سندھ کی تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے سمجھوتہ نہیں کیا۔ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے دربار کی قربت کو رد کیا۔ سچل سرمستؒ نے سماجی جبر کے باوجود اپنی بات کہی۔ شاہ عنایت شہیدؒ نے ’’جو کھیتی کرے وہی کھائے‘‘ کا نعرہ لگا کر جان دی۔ حیدر بخش جتوئی نے سرکاری نوکری چھوڑ کر کسانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور زندگی سادگی میں گزاری۔ پیر پگارا نے برطانوی سامراج کے خلاف کھلی مزاحمت کی اور پھانسی قبول کی۔ ان سب میں ایک چیز مشترک تھی: طاقت سے فاصلہ اور قربانی کی آمادگی۔

برصغیر کے دیگر حصوں میں بھی یہی معیار نظر آتا ہے۔ حبیب جالب نے آمریت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور جیلیں کاٹیں۔ حسرت موہانی نے انقلابی نعرہ دیا مگر سرکاری مراعات قبول نہ کیں۔ قاضی نذرالاسلام نے بار بار قید و سنسر شپ سہی مگر بغاوت نرم نہ کی۔ سبرامنیا بھارتی نے غربت اور جلاوطنی قبول کی مگر نوآبادیاتی سرپرستی سے انکار کیا۔ ان سب کو سزا اس لیے ملی کہ ریاست انہیں خرید نہ سکی۔

یہاں ایک اصول واضح ہو جاتا ہے: ریاست ان شاعروں کو سزا دیتی ہے جنہیں وہ قابو نہیں کر سکتی، اور ان شاعروں کو انعام دیتی ہے جنہیں وہ منظم کر سکتی ہے۔ شیخ ایاز کو سزا نہیں ملی، انہیں انعام ملا۔ انہیں جلاوطنی نہیں ملی، انہیں ادارہ ملا۔ انہیں خاموش نہیں کیا گیا، انہیں شامل کر لیا گیا۔

یہ فرق محض اتفاق نہیں بلکہ تاریخی منطق ہے۔ جو شاعر واقعی خطرناک ہو، وہ اداروں میں جگہ نہیں پاتا۔ جو شاعر قابلِ انتظام ہو، وہ نظام کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔

شیخ ایاز کو مکمل طور پر رد کرنا بھی درست نہیں، مگر انہیں غیر مشروط طور پر ہیرو بنانا اس سے بھی بڑی غلطی ہے۔ وہ ایک باصلاحیت شاعر تھے، مگر ایک کمزور نظریہ دان۔ وہ جذبات کے نمائندہ تھے، مگر جدوجہد کے معمار نہیں۔ انہوں نے وہی راستہ چنا جو آسان تھا، نہ کہ وہ جو درست تھا۔

تاریخ ایسے لوگوں کو جذباتی انداز میں مجرم قرار نہیں دیتی بلکہ انہیں ان کے درست خانے میں رکھ دیتی ہے۔ سندھ کو وہ شاعر یاد ہیں جو قید ہوئے، جلا وطن ہوئے، پھانسی چڑھے یا خاموش کر دیے گئے، اور سندھ کو وہ بھی یاد ہیں جو اداروں میں سمو لیے گئے۔ فرق صلاحیت کا نہیں، جرأت کا ہے۔

جو شاعر سمجھوتہ کرتا ہے، وہ اپنی زندگی آسان بنا لیتا ہے۔
جو شاعر انکار کرتا ہے، وہ تاریخ کو بیدار رکھتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے