کسی بھی پیشہ ور فرد کے سونے کا ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے۔ کوئی رات کو جلدی سونے والا ہوتا ہے، کوئی ذرا دیر سے۔ البتہ صحافی یا رپورٹر کے سونے کا نہ کوئی وقت ہوتا ہے نہ کوئی شیڈول۔ میں یہ اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ محض میٹرک کی کلاس میں ہی اللہ پاک نے صحافت کے بہت تجربہ کار اور با صلاحیت صحافیوں سے سیکھنے کا موقع دیا۔
2004-05 میں اچانک الیکٹرانک میڈیا کی بھرمار ہوئی۔ خیبر ٹی وی، بعد میں خیبر نیوز اور اے وی ٹی گروپ آف چینلز کا بھی آغاز ہوا۔ یہ پشتو زبان کا پہلا ٹی وی چینل تھا۔ پشتونوں میں اس چینل کا ہر جگہ دھوم مچا ہوا تھا۔ ٹی وی کے پروگراموں کا گلی گلی، گھر گھر چرچا تھا۔
میں نے سنا کہ ہمارا ایک رشتہ دار بھی وہاں کام کرتا ہے۔ نام تک نہیں پوچھا تھا کہ کیا ہے، مگر میں خیبر ٹی وی پہنچ گیا، جن کا دفتر چائنا چوک اسلام آباد میں تھا۔ وہاں پہنچنے پر میری ملاقات بہت محترم جناب مبارک علی صاحب سے ہوئی (آج کل وہ خیبر نیوز میں سینئر کنٹرولر یا اس سے بڑی پوزیشن پر ہیں)۔ کیا شائستہ شخصیت کے مالک انسان ہیں۔ میں نے جیسے ہی کہا کہ میں دیر سے ہوں، تو انہوں نے فوراً بٹھایا، چائے پلائی۔
مجھے محترم عامر متین صاحب (جو ڈائریکٹر نیوز تھے) سے ملوایا۔ عامر متین صاحب نے کہا: "اسے کام میں اتنا رگڑ لگاؤ کہ یہ بھاگ جائے۔” میں بھاگنے کے لیے تیار نہیں آیا تھا۔ عامر متین صاحب نے کہا: "صبح سب سے پہلے آفس کا تالا آپ کھولیں گے اور سب سے بعد میں جائیں گے۔” اللہ جانتا ہے انہیں یہ بات ابھی یاد بھی ہوگی یا نہیں، مگر میں نے ویسا ہی کیا جیسا انہوں نے کہا۔
یہ میری ایک قسم کی انٹرنشپ تھی۔ مگر کچھ کمانے کے لیے مجھے ہفتہ وار ایک پروگرام کو ہوسٹ کرنے کا موقع بھی دیا گیا، جس کی مد میں مجھے ہفتہ وار 500 روپے ملتے تھے۔ بہت تھے۔ اسٹوری کیا ہوتی ہے، رپورٹ کیسے بنتی ہے، اسپورٹس نیوز کیسے بنتی ہے، نیوز پیکیج کیسے بنتا ہے، بیپر کیا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب تکنیکی باتیں جاننے کا موقع ملا اور خوب پشتو لکھنے اور سیکھنے کی صلاحیتوں سے مستفید ہوا۔ قابلِ قدر پشتو زبان سے وابستہ ادیب، شعرا، فلسفی، غرض ہر قسم کے لوگ آتے تھے۔
وہاں چار مہینے کام کرنے کے بعد، میرے پاس کچھ وقت تھا، اس لیے میں نے ریڈیو ایف ایم 99 سے وابستگی اختیار کر لی، تاکہ ٹی وی کے ساتھ ساتھ ریڈیو میں بھی تجربہ ہو سکے۔ اللہ بلا کرے، ایف ایم ریڈیو 99 والے منتظمین آگے پیچھے ورکشاپس میں بھیجتے، خبریں رپورٹس وغیرہ اکٹھا کرتا اور یوں سلسلہ چلتا رہا۔ ان ورکشاپس میں سب سے اہم ورکشاپ جو مجھے ابھی یاد پڑتی ہے، وہ تھی ‘War and Disaster Reporting’۔ یہ خصوصاً 2005 کے قیامت خیز زلزلے کے بعد رکھی گئی تھیں۔ کچھ انگریز اور کچھ سینئر مقامی صحافیوں سے ورکشاپ میں کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔
میرے کیرئیر میں مبارک علی جیسے اساتذہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ شاید ان کی کیرئیر روٹین کو اپنانا ہی میرا سب سے اچھا فیصلہ تھا۔ 2006 میں مبارک علی صاحب اسپورٹس نیوز سے رخصت لینے کے بعد مین بلیٹن کی طرف آئے تو انہوں نے اپنی جگہ اسپورٹس نیوز کے لیے میرا نام اس وقت کے ڈائریکٹر نیوز کو پیش کیا۔ اور کچھ وقفے کے بعد میں دوبارہ خیبر نیوز سے وابستہ ہوا بطور اسپورٹس نیوز اینکر اور رپورٹر۔
یہ دور میرے صحافتی دور کا سب سے بہترین دور تھا۔ اگرچہ 2007 میں پاکستان ورلڈ کپ میں بری طرح ہارا اور باب وولمر (جو اس وقت پاکستان کے کوچ تھے) بھی فوت ہو گئے، مگر اس دوران میں نے تقریباً 51 دن "کیریبین فیور” کے نام سے ایک لائیو کرکٹ شو کیا، جو کافی مقبول ہوا۔ عمران خان، پی سی بی چیئرمین، کھلاڑی، ماہرین پتا نہیں کس کس کو انٹرویو کیا۔ اسپورٹس منسٹر سے لے کر قائمہ کمیٹی برائے اسپورٹس کے چیئرمین تک سب شو میں مہمان بنے۔ چبھتے ہوئے سوالات سے لے کر تجزیوں تک، ہر قسم کی مباحثوں سے بھرپور ایک متوازن اسپورٹس شو۔
اس کے بعد خیبر ٹی وی کے سی ای او نے کیا زبردست آئیڈیا پیش کیا کہ روایتی کھیلوں پر پروگرام بنائے جائیں۔ میں نے بھی تھام لی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انتظامیہ کی بھرپور رہنمائی بھی میسر رہی۔ تقریباً بیس دستاویزی فلمیں بنائیں، جن میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے روایتی کھیلوں پر نہ صرف تحقیق کی، بلکہ اسے اس انداز میں پیش کیا کہ جو ملک روایتی کھیلوں سے وابستہ ہوتا ہے، وہ دہشت گردی کے رجحان میں کم از کم نہیں ہو سکتا۔ اس نکتے کو بعد میں 2010 میں گریٹ اناطولیائی میٹنگ آف ورلڈ کلچرز اینڈ یوتھ میں پیش کیا، جس میں دنیا بھر سے وفود انقرہ اور استنبول میں اکٹھے ہوئے تھے۔ کسی دن یہ تفصیل بھی ضبط تحریر میں لاؤں گا اس فیسٹیول میں گزرے دنوں کے احوال بہت دلچسپ ہیں۔
ان کھیلوں کی تدوین کے لیے بلا خوف و خطر صوابی، مردان اور دوسرے شہروں کا رخ کیا۔ وہاں کے دستور اور طور طریقوں سے بھی آگاہی ملی اور کھیلوں کا اچھا خاصا مواد اکٹھا کیا۔ خوشحال خان خٹک کی کتابوں سے لے کر پشاور پشتو اکیڈمی کی لائبریری تک جو ہاتھ لگا، زیرِ قلم اور زیرِ بحث لایا۔ مزید برآں انگریزی خبریں بھی پڑھتا، جو شام کو سات بجے نشر ہوتیں۔
اس دوران بیرونِ ممالک میں بھی تربیت اور تحقیق کے لیے خیبر ٹی وی کے منتظمین بھیجتے۔ پاکستان کے ان روایتی کھیلوں پر، جیسے کبڈی، گھڑسواری یا مزید بچوں اور بڑوں کے جو کھیل ہیں، ان پر تفصیل سے لکھنے کی کوشش کروں گا۔ میں انہیں پاکستان کا تاریخی اثاثہ سمجھتا ہوں اور خواہش ہے کہ لوک ورثہ جیسے ادارے ان کو ختم ہونے سے بچائیں، یا کوئی ایسا ادارہ بنے جیسا ڈیلفک کونسل، جو ان کھیلوں میں بھی مقابلے کروائے۔ پاکستان کتنا خوشحال ملک ہے ان کھیلوں کے حوالے سے۔ بس ہماری نظر کرکٹ سے ذرا ہٹے تو ہم دیکھیں گے کہ کیا کیا ہیرے ہیں اس زرخیز مٹی کے سینے میں۔
خیبر نیوز کے ساتھ ساتھ میں اکثر و بیش تر غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ بطور مترجم کام کرتا۔ ان میں 2010 کے سیلاب زدہ لوگوں کی ترویج کے دوران فرانس ریڈیو اور فرانس 24 ٹی وی چینلز شامل ہیں۔ اسی طرح اسپورٹس جرنلزم کے حوالے سے وقتاً فوقتاً وائس آف امریکہ پشتو سروس اور مشعل ریڈیو پراگ میں بھی بطور تجزیہ نگار اور کھیلوں کے ماہر کے طور پر دعوت دیتے رہے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اب ہر بندہ صحافی بنا پھرتا ہے۔ مجھے سب کا احترام، مگر صحافت پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت اور اجتماعی احساس سے بھرپور شعبہ ہے۔ خبر دینے کے لیے سب سے اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ تحقیق لازمی ہے۔ کسی استاد کے زیرِ نگرانی، زیرِ سایہ صحافت سے جُڑے ہوئے حساس معاملات کا تجربہ کرنا ضروری ہے۔ خبر دینا آسان، مگر اس کی ذمہ داری کے ساتھ ترویج، اس سے بھی کہیں بڑھ کر اہم ہے۔
پہلے صرف اخبار، ریڈیو اور بعد میں ٹیلی ویژن سے وابستہ صحافت ہوتی تھی، مگر اب سوشل میڈیا نے جہاں خبر دینے کو آسان بنایا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ عمل اتنا ہی غیر متوازن اور غیر ذمہ دار بھی رہا ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی بات کو یا جدید اے آئی ٹولز سے ایڈٹ کر کے جو غلط رنگ دینے کا رواج چل پڑا ہے، یہ بہت خطرناک ہے۔
مجھے اکثر اوقات دوست احباب کہتے ہیں کہ تم کیوں نہیں کرتے یہ سب کام۔ میرا یہی جواب ہوتا ہے کہ صحافت ایک ذمہ داری ہے، اسے ٹک ٹاک سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ میں تو اتنا کہوں گا کہ قیامت کے دن ہر انسان ہر لکھنے اور رپورٹ کرنے والی خبر کا ذمہ دار ہوگا جو اس نے نشر کی ہوگی۔ غلط خبر کا غلط نتیجہ ہوتا ہے ہمیشہ۔ دعا ہے اللہ ہمارے معاشرے میں صحافت کے معیار کو بلند رکھے۔
صحافت سے میرے گھر کا چولہا سالہا سال جلا ہے۔ میں مرتے دم تک صحافت کے اساتذہ اور صحافت کے شعبے کا قدردان رہوں گا، ان شاء اللہ۔