اجتماعی انصاف (جرگہ / Mediation) بمقابلہ عدلیہ

اجتماعی انصاف، جسے عام طور پر جرگہ / Mediation کہا جاتا ہے، برصغیر میں ہزاروں سال پرانا نظام ہے۔ یہ نظام معاشرتی فہم، تجربے اور اخلاقی ذمہ داری پر مبنی ہے۔ نوآبادیاتی دور سے پہلے، لوگ اپنے اختلافات اور تنازعات کو جرگہ کے ذریعے جلدی اور مؤثر انداز میں حل کرتے تھے۔ یہ نظام کتابی قوانین یا رسمی اداروں کا محتاج نہیں تھا بلکہ سماجی تعلقات اور اعتماد پر مبنی تھا۔ اس کے برعکس، عدلیہ ۱۹ویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی اور اس کے بعد سے عدلیہ کی پیچیدگی، مہنگائی اور تاخیر نے تنازعات کو زیادہ مشکل بنا دیا۔

جرگہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہر فریق دو معزز اور معتبر نمائندے نامزد کرتا ہے، جو دونوں طرف قابل قبول ہوں۔ یہ نمائندے فریقین کی طرف سے بات کرتے ہیں، مقدمہ شائستگی اور احترام کے ساتھ پیش ہوتا ہے، اور حل صرف اس وقت منظور ہوتا ہے جب دونوں فریق رضامند ہوں۔ کوئی فیصلہ زبردستی نہیں لگایا جاتا۔ اس طریقے سے نہ صرف انصاف ملتا ہے بلکہ تعلقات بھی برقرار رہتے ہیں۔ ایک برطانوی مصنف نے لکھا ہے کہ راجپوت جنگ میں بہادر اور سخت تھے، لیکن بات چیت اور نفاذ میں انتہائی مہذب اور شائستہ معاشرہ دکھاتے تھے۔ یہی منظر جڑگہ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

موجودہ عدلیہ مہنگی، پیچیدہ اور وقت طلب ہے۔ مقدمات کئی دہائیوں تک چل سکتے ہیں اور اس دوران خاندانوں اور کمیونٹیز کے درمیان دشمنی بڑھ جاتی ہے۔ عدالتیں کبھی کبھی تنازعات کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ تاخیر شدہ انصاف، حقیقت میں انصاف کی عدم موجودگی کے مترادف ہے، لیکن عدلیہ کی اس ناکامی پر کم لوگ آواز اٹھاتے ہیں۔ جڑگہ کے برعکس، عدالتوں کی خرابیوں پر عام طور پر تنقید نہیں کی جاتی۔

دنیا آج Mediation اور متبادل تنازعہ حل (ADR) کی طرف بڑھ رہی ہے، اور کئی ممالک نے اسے قانونی نظام کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ بھی کہہ چکی ہے کہ Mediation قانونی نظام کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ لیکن موجودہ عمل میں عدالت پہلے فریقین کو Mediation بھیجتی ہے، اور اگر مسئلہ حل نہ ہو تو دوبارہ عدالت میں واپس آتا ہے۔ اس عمل میں وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے، اور اصل مقصد یعنی فوری انصاف متاثر ہوتا ہے۔

میری رائے میں ہر صوبے کے سیکرٹری قانون ہدایت جاری کریں کہ ہر یونین کونسل (UC) کو پہلی کمترین سطح کی کمیونٹی عدالت بنایا جائے۔ UC کے چیئرمین مقامی رہائشی ہوتے ہیں، علاقے کے لوگوں کو جانتے ہیں اور مسئلہ حل کرنے کے لیے معتبر افراد کو شامل کر سکتے ہیں۔ اگر مسئلہ کامیابی سے حل ہو جائے تو UC کے چیئرمین کو مخصوص مالی فوائد دیے جائیں۔ اس طرح مقدمات عدالت تک پہنچنے سے پہلے حل ہو جائیں گے، وقت اور پیسہ بچیں گے، اور سماجی ہم آہنگی مضبوط ہوگی۔

جرگہ کے دیگر فوائد بھی نمایاں ہیں۔ عدالتوں میں جو مقدمات دہائیوں لیتے ہیں، وہ دنوں یا ہفتوں میں جڑگہ کے ذریعے حل ہو جاتے ہیں۔ کسی مہنگے وکیل یا پیچیدہ کارروائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زور سزا پر نہیں بلکہ مفاہمت پر ہے، اس لیے تعلقات اور سماجی رشتے برقرار رہتے ہیں۔ فیصلے دونوں فریقوں کی رضا سے ہوتے ہیں، اور سماجی اعتبار و اخلاقیات کا تحفظ ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں Mediation اور ADR کو قانونی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔ افریقہ، امریکہ، ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں متعدد ممالک عدالت سے پہلے ثالثی یا Mediation کو لازمی یا حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ افریقہ میں نائجیریا کی ملٹی ڈور کورٹ ہاؤس اور روانڈا کا ابونزی نظام عدالت سے پہلے ثالثی کو لازمی کرتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا، ایکواڈور اور پیرو مقامی تنازعات کے حل کو فروغ دیتے ہیں۔ ایشیا میں بھارت کا لوک عدالت، فلپائن کا کٹارونگ پمبرانگائی، سنگاپور اور ہانگ کانگ کے عالمی ثالثی سینٹرز اور چین کے ثالثی کمیشن موجود ہیں۔ یورپ میں برطانیہ، اٹلی، ناروے، پولینڈ اور دیگر ممالک عدالت سے پہلے ثالثی کو لازمی یا حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اردن، ایران اور مصر میں گھریلو اور دیہی تنازعات کے لیے ثالثی لازمی ہے۔ یہ تمام ADR نظام جڑگہ کے اصولوں پر مبنی ہیں: شراکت، رضا، تیزی اور تعلقات کو برقرار رکھنا۔

جرگہ کو نظرانداز کرنا اور صرف بیرونی ADR یا عدالتوں پر بھروسہ کرنا معاشرتی انجینئرنگ کا حصہ لگتا ہے۔ سماج جو اپنی روایتی حکمت کو رد کرے اور صرف عدلیہ یا بیرونی Mediation پر بھروسہ کرے، وہ آسانی سے کمزور ہو سکتا ہے۔ حقیقی انصاف صرف فیصلہ دینے میں نہیں بلکہ معاشرے اور فرد کے درمیان اعتماد اور اخلاقی معاہدے میں ہے۔

جرگہ کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اجتماعی انصاف صدیوں پرانا سماجی تجربہ ہے۔ نمائندگی، رضا، مفاہمت اور سماجی جوابدہی کے اصول عالمی ADR نظام میں بھی نظر آتے ہیں۔ ان روایتی طریقوں کو تسلیم، منظم اور جدید قانونی نظام میں شامل کرنے سے عدالتوں کا بوجھ کم، سماجی ہم آہنگی مضبوط اور سماج کی اخلاقی بنیادیں محفوظ رہتی ہیں۔

دنیا پہلے ہی تسلیم کر چکی ہے جو ہم صدیوں سے کر رہے ہیں۔ Mediation، ثالثی اور رضا پر مبنی حل مستقبل کا نظام ہیں۔ جڑگہ پیچھے نہیں ہے، یہ جدید تنازعہ حل کا پیشرو ہے، جسے عالمی تجربہ بھی تسلیم کرتا ہے۔ اب وقت ہے کہ اسے مانا جائے، اصلاح کی جائے، اور جدید قانونی نظام میں شامل کیا جائے تاکہ عدالتیں بوجھ سے آزاد ہوں، سماجی ہم آہنگی مضبوط رہے اور معاشرہ انصاف پر قائم ہو۔

یونین کونسل (UC) کے چیئرمین اس نظام کا کلیدی ستون ہیں۔ وہ مقامی باشندوں کو جانتے ہیں، معتبر افراد کو شامل کر سکتے ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے روزمرہ کی نگرانی فراہم کرتے ہیں۔ اگر UC چیئرمین کو کامیابی سے مسئلہ حل کرنے پر مالی فوائد دیے جائیں تو وہ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کریں گے، اور عدالتی بوجھ کم ہونے کے ساتھ معاشرتی تعلقات مضبوط رہیں گے۔

حقیقت میں عدالتیں، جڑگہ اور UC چیئرمین کا مربوط نظام سماجی انصاف کے لیے بہترین حل فراہم کر سکتا ہے۔ عدالت صرف نگرانی اور شفافیت کی ذمہ داری لے، جبکہ جڑگہ اور UC چیئرمین فوری، مؤثر اور رضامندانہ حل فراہم کریں۔ اس طرح معاشرہ نہ صرف انصاف پر قائم ہوگا بلکہ سماجی ہم آہنگی، اخلاقیات اور ثقافتی اقدار بھی برقرار رہیں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے