ہمارے ملک میں سرکاری امتیازات، تمغوں اور اعزازی ڈگریوں کے ساتھ ایک تلخ روایت ہمیشہ وابستہ رہی ہے۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اعزازات اپنی معنویت اور وقار کھو بیٹھے ہیں، یہاں تک کہ ان کے ذکر سے بھی ایک ہلکی سی بدذوقی کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ اسی عمومی تناظر میں دیکھا جائے تو بظاہر ایسے اعزازات کی کوئی خاص حیثیت باقی نہیں رہتی، کیونکہ ہمیشہ ان اعزازات اور ڈگریوں کیساتھ "وطی” گئی ہے یعنی نااہل لوگوں کو دی گئی ہیں ۔
لیکن تاریخ کا ایک مستقل اصول یہ بھی ہے کہ کبھی کبھی کوئی”اعزاز” کسی شخصیت کی وجہ سے معتبر ہوتا ہے، اور کبھی کوئی شخصیت کسی اعزاز کو اپنی نسبت سے عزت بخش دیتی ہے۔ یوں بعض اعزازات ایسے بھی ہوتے ہیں جو لینے والے کی وجہ سے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔
اسی تناظر میں جب مولانا فضل الرحمن صاحب کو کراچی کی ایک نجی یونیورسٹی(سرسید یونیورسٹی) کی جانب سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری عطا کیے جانے کی خبر سامنے آئی تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ اعزازی ڈگری انہیں "قیادت اور سیاست” کے میدان میں ان کی طویل، مسلسل اور اثر انگیز خدمات کے اعتراف میں دی گئی ہوگی۔
اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس شخصیت کے دامن میں آ کر اس "اعزازی ڈگری” نے خود اپنا کھویا ہوا وقار بحال کر لیا ہے۔ کیونکہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست محض وقتی نعروں یا اقتدار کی کشمکش کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک طویل فکری تسلسل، پارلیمانی جدوجہد، دینی شعور اور سیاسی بصیرت کی علامت رہی ہے۔
مجھے اس بات میں کوئی تردد نہیں کہ مولانا کی سیاست اور قیادت پر اب تک درجنوں پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہوں گے، اور اگر اب تک کسی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا تو بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں مولانا فضل الرحمن کی سیاسی حکمت عملی، قیادت کی صلاحیتوں اور فکری اثرات پر سینکڑوں پی ایچ ڈی مقالے تحریر کیے جائیں گے۔ ان شا اللہ!
کیونکہ کچھ شخصیات محض اعزازات کی محتاج نہیں ہوتیں،بلکہ "اعزازات اور ڈگریاں” ان کی نسبت سے معتبر ہوا کرتیں ہیں۔
احباب کیا کہتے ہیں؟