پاکستان میں جہاں نظامِ انصاف مسلسل بحرانوں کا شکار ہے، وہاں جرگہ سسٹم ایک ایسا روایتی، مگر مؤثر متبادل ہے، جو نہ صرف فوری انصاف فراہم کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، رواداری اور باہمی تعلقات کو بحال رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
عدالتوں کی زنجیروں میں جکڑا یہ ملک روزانہ ہزاروں افراد کو تاریخ پر تاریخ دیتا ہے۔ ایک سادہ سا تنازعہ، زمین یا وراثت کا جھگڑا، اکثر کئی دہائیوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ وکیلوں کی بھاری فیسیں، عدالتوں کے چکر، گواہوں کی عدم دستیابی، جھوٹے بیانات، اور پیچیدہ قانونی موشگافیاں ، عام شہری کے لیے انصاف کا حصول ایک خواب بن چکا ہے۔ ایسے میں جرگہ سسٹم ایک قابلِ عمل، تیز، اور نسبتاً غیر مہنگا حل ہے۔
جرگہ سسٹم میں فریقین کے مسائل مقامی بزرگوں، معززین یا منتخب نمائندوں کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔ بغیر کسی فیس یا غیر ضروری تاخیر کے، مقامی روایات، شریعت اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ نہ عدالتوں کی طرح برسوں انتظار، نہ مہینوں کی پیشیاں، نہ ہی قانونی اصطلاحات کا چکر سیدھی بات، سیدھا انصاف ڈاکٹر محمد فاروق خان شہید جنہیں پاکستان کے صاحبِ فکر مفکرین میں شمار کیا جاتا ہے (سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ) وہ جرگہ سسٹم کو عوامی دانش کا عکاس قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک جرگے کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے ریاستی سطح پر منظم، تربیت یافتہ اور قانونی دائرہ کار کے اندر فعال کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ جہاں فریقین باہمی رضا مندی سے کسی معاملے کو جرگے کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، وہاں ریاست کو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ اسے روکا جائے۔
آج بھی خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں جرگہ سسٹم ہی عملی طور پر انصاف کا واحد ذریعہ ہے۔ کئی بار عدالتیں خود فریقین کو مشورہ دیتی ہیں کہ اگر معاملہ کسی جرگے یا پنچایت سے طے ہو سکتا ہے، تو ہو جائے، تاکہ وقت اور وسائل کی بچت ہو۔
البتہ، اس نظام میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود ہے۔ جرگہ سسٹم کو بدنام کرنے کے لیے بعض عناصر اسے ظلم، جبر یا طاقت کے غلط استعمال سے جوڑتے ہیں، لیکن اگر ریاستی سرپرستی، قانونی نگرانی اور تربیت یافتہ افراد کی شمولیت یقینی بنائی جائے، تو جرگے کو انصاف کے باقاعدہ نظام کے معاون کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جہاں پاکستان کا عدالتی نظام نسلوں کو انصاف سے محروم رکھتا ہے، وہاں جرگہ اکثر ایک ماہ میں فیصلہ کر کے فریقین کو سکون، عزت اور اتفاق دیتا ہے۔ یہ نظام نہ صرف انصاف دیتا ہے بلکہ رشتوں کو بچاتا ہے، برادریوں میں امن قائم رکھتا ہے، اور لوگوں کا اعتماد بحال کرتا ہے۔