ہاکی کا پاکستان

قذافی اسٹیڈیم، لاہور، کرکٹ کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔ مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اس کے پاس ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کا مرکزی دفتر فیروزپور روڈ پر واقع ہے۔

مجھے اسپورٹس رپورٹنگ میں ہمیشہ اس بات کا احساس رہتا کہ آخر ہاکی پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی۔ لہٰذا جب بھی موقع ملتا میں سردی گرمی کو بالائے طاق رکھ کر ہاکی کی ترویج پر ضرور خبروں کی رپورٹنگ بھی کرتا اور وقتاً فوقتاً ڈاکومینٹریز کی صورت میں پروگرامز بھی بناتا۔

اسی طرح 2009ء یا 2008ء کی بات ہے۔ سخت گرمی تھی۔ ہم لاہور گئے تھے کسی کرکٹ میچ کی ریکارڈنگ اور انٹرویو کے سلسلے میں۔ وہاں ساتھ ہی ہاکی کے کھلاڑیوں اور انتظامیہ سے بھی ملاقات ہوئی اور تفصیلی پروگرام ریکارڈ کروائے۔ خواہش تھی کہ میں ایک مرتبہ پھر آؤں گا اور ان تمام کھلاڑیوں اور انتظامیہ سے تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو کروں گا۔

کرکٹ کے کھلاڑیوں کا دماغ شہرت اور پیسے کی وجہ سے جتنا خراب رہتا ہے، ہاکی کے کھلاڑی اتنے ہی باادب اور عاجز ہوتے ہیں۔ چند مہینے بعد پھر لاہور جانے کا اتفاق ہوا اور میں قذافی اسٹیڈیم کے بجائے کیمرہ مین اور پوری ٹیم کو سیدھا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے آفس لے گیا۔

پانچ گھنٹے کی مسافت اور سخت گرمی کی وجہ سے پتا ہی نہیں چلا اور اس ہاکی فیڈریشن پہنچتے ہی میں میڈیا مینیجر کے آفس میں ایک صوفے پر ہی سو گیا۔ اللہ بھلا کرے ہاکی فیڈریشن کے اس وقت کے میڈیا مینیجر کا۔ سامنے مجھے سوتا ہوا پا کر بھی وہ دفتر کے کاموں میں مصروف رہے اور مجھے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اب اس دوران ان کے دفتر میں کون کون آیا ہوگا، مجھے سوتا پایا ہوگا، یہ اللہ جانتا ہے اور وہ میڈیا مینیجر۔

بہرحال جیسے ہی میری آنکھ کھلی میں نے جلدی سے کیمرہ مین کو ساتھ لیا اور گراؤنڈ پہنچ گیا۔ ان دنوں پاکستان ہاکی ٹیم ملائیشیا میں کسی ریجنل ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے کیمپ لگائے ہوئے تھی۔ سخت گرمی تھی۔ ان کی ٹریننگ پر دل ہی دل میں ان کو داد دی۔ اور پھر اس بات کا افسوس بھی کہ آخر کیوں پاکستان میں یہ ہاکی کا کھیل اس قدر زوال پذیر ہو رہا ہے۔

اسی دوران گراؤنڈ میں پھر سے وہ میڈیا مینیجر آئے اور میرے کان میں سرگوشی کی "آپ ملائیشیا، کوانٹن جانا چاہتے ہیں؟” میں یہ بات سن کر حیرت زدہ ہوا، خوش ہوا اور چہرے پر ایسے تاثرات آئے کہ میں ہی کیوں؟

مینیجر صاحب بولے "ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل آئے ہوئے تھے۔ آپ کو سوتا دیکھا پھر پوچھنے لگے یہ وہی پٹھان جو پچھلی گرمی میں بھی آئے تھے ہاکی کی ترویج کے سلسلے میں۔ مینیجر صاحب کہتے ہیں میرے ہاں بولنے پر سیکرٹری جنرل صاحب نے کہا کہ ایسا ہی صحافی ملائیشیا جانے کا حقدار ہے۔ جا کر رحیم شاہ سے کہہ دیں کہ اس دفعہ ملائیشیا ہاکی فیڈریشن کی طرف سے آپ ملائیشیا جائیں گے۔”

اللہ جانتا ہے ایک عجیب سی خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی۔ حیرت زدہ اس لیے کیونکہ میں نے قطعاﹰ یہ نہیں سوچا تھا بلکہ پتا بھی نہیں تھا کہ ہاکی والے صحافیوں کو بھی کوئی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔

چند دن بعد میڈیا مینیجر کی کال آئی اور پاسپورٹ کسی ایجنٹ کے ذریعے جمع ہوا۔ اسلام آباد سے کراچی اور وہاں سے ٹیم کے ساتھ کوالالمپور کا سفر کرنا تھا۔ جس دن فلائٹ تھی اس دن سخت کنفیوژن تھی۔ مجھ سمیت پانچ قومی کھلاڑیوں کے ویزے نہیں آئے تھے اور میں یہ سمجھ بیٹھا تھا بیگ تیار رکھ کر بھی کہ شاید وزٹ رہ گیا ہے۔

کم عمر تھا، جذباتی تھا، لہٰذا دل پر لے کر سو گیا کہ اچانک کسی پٹھان بندے نے کال کی اور پشتو میں کہا کہ آجائیں اپنا پاسپورٹ لے لیں۔

یہ 3 بجے کی بات ہے جب کہ شام 7 بجے کراچی کی فلائٹ تھی۔ بس پاسپورٹ اٹھایا اور 3 گھنٹے پہلے ہی اسلام آباد کے پرانے ایئرپورٹ پر پہنچ گیا۔ شدتِ جذبات کی وجہ سے کہ کہیں رہ نہ جاؤں۔ ایجنٹ نے میرا پاسپورٹ دیتے ہوئے ساتھ میں پاکستان کے 5 کھلاڑیوں کے پاسپورٹ بھی تھما دیے۔

کراچی پہنچنے پر حیرت میں خوشگوار اضافہ ہوا۔ تمام قومی کھلاڑی میرا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ اس وقت کے کوچ سمیت کھلاڑیوں نے بڑے اہتمام سے مجھے گلے لگایا اور بیٹھنے پر ہی چائے اور سینڈوچ کھلا دیے۔ کیوں نہ کھلاتے ان کو کہا گیا تھا کہ رحیم شاہ کے پاس ہیں سب کے پاسپورٹ اور میں جو خود 3 بجے تک اداس تھا کہ میرا پاسپورٹ آئے گا بھی کہ نہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے میرا بھائی حمید شاہ جو مجھے بسا اوقات دلاسے دیتا رہا کہ رحیم چلے جاؤ گے اللہ خیر کرے گا۔ میں ان دنوں میں M.Sc IR کے تھرڈ سمسٹر میں تھا۔ سو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جذبات کی نوعیت کیا ہوگی۔

بہرحال کراچی پہنچنے پر مجھے انتظامیہ کی طرف سے ایک لفافہ ملا جس میں TADA کے مد میں پیسے اور ایک خط تھا۔ اس خط میں مجھے سیکرٹری جنرل صاحب کی طرف سے جانے کے لیے ساری تفصیلات درج تھیں۔ یقین جانئے وہ خط آج بھی بہت محبت سے اپنے تعلیمی اسناد والے فولڈر میں سنبھال کر رکھا ہے۔

کالم لکھنے کے لیے اس خط کو آج پورے 16 سال بعد نکال کر پڑھ رہا ہوں تاکہ ٹورنامنٹ کا نام اور تاریخ بھی لکھوں اور کچھ پرانی یادوں کو بھی تازہ کروں۔

سو اس جدوجہد کے بعد ہم ملائیشیا کوالالمپور میں اترنے کے بعد کوانٹن پہنچے تاکہ 9-16 مئی 2009 کو 8th Men’s Asia Cup Hockey Tournament کی کوریج کر سکیں۔

شہزاد ملک، میڈیا مینیجر پاکستانی ہاکی فیڈریشن کے اس خط میں ایک جملہ آج بھی مجھے کافی جذباتی کر دیتا ہے: "In recognition to your services towards promotion of Hockey in the country”یہ چند دن کوانٹن، ملائیشیا میں کیا خوب گزرے۔

پاکستان نے سیمی فائنلز میں انڈیا کو ہرا دیا۔ اس وقت دل کی ٹھنڈک اور ہاکی کے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے جذبات میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں نے ان کو خوشی سے روتے ہوئے دیکھا۔ پاکستان ایک بہت سخت مقابلے کے بعد ساؤتھ کوریا سے فائنل ہار گیا مگر ہم سب خوش تھے کہ پاکستان نے انڈیا کو ہرایا ہے۔

میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اس وقت کے سیکرٹری جنرل، سلیم باجوہ کا، جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ مجھے ٹیم کے ساتھ ملائیشیا لے کر گئے۔ ملائیشیا کے اس سفر پر کسی اور کالم میں بات کروں گا مگر یہاں ہاکی کا تذکرہ بہت ضروری ہے۔

پاکستان کی ہاکی نے ہمیں وہ سب دیا جو کرکٹ یا کوئی اور کھیل اگلے سو سالوں میں بھی نہیں دے سکتا۔ ہمیں ازسرنو بحیثیت قوم اس کھیل کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔ یہ ہمارا قومی کھیل ہے۔ اس نے ہمیں بہت سے ہیرو اور فتوحات دیے ہیں۔ گوروں سے غلامی میں سیکھے ہوئے کرکٹ سے یہ لاکھ درجے بہتر اور توانا کھیل ہے۔

اللہ غریق رحمت کرے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن اِن چیف میر ظفراللہ خان جمالی کو جو مرتے دم تک ہاکی سے لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کی باتیں جو کہ ایک موقع پر اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس میں ان سے انٹرویو کے دوران ہوئی تھیں آج بھی یاد ہیں۔ کہتے ہیں "بیٹا رحیم! ہاکی کا زوال ہمارا زوال ہے”۔

اگر ہم نے قومی کھیل اور قومی وراثتوں کی حفاظت نہیں کی تو سب بے کار ہو جائے گا۔ اللہ کرے ہم سب ہاکی کی قدر کریں۔ ہم ہاکی میں اور اولمپکس میں اس کے چیمپیئن رہے ہیں۔

پاکستان زندہ باد! پاکستان ہاکی پائندہ باد!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے