کتابیں اور آنسو: افغان بچوں کی خاموش جدائی

کچھ مناظر انسان کو خاموش کر دیتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دل کے اندر شور مچا دیتے ہیں۔ ان دنوں ایک ایسا ہی منظر بار بار آنکھوں کے سامنے آ رہا ہے وہ ننھے ہاتھ جن پر معصومیت سے پاکستان زندہ باد لکھا ہوا ہے اور وہ آنکھیں جو آنسوؤں کے ساتھ ایک ایسے سفر پر روانہ ہیں جس کا راستہ تو معلوم ہے مگر انجام نہیں۔

ایمان اور ایشال سچ دهج کے بال میں داخل ہوئیں۔ اسکول بیگ سے کتابیں نکال کر انہوں نے اپنی سہیلیوں کے حوالے کیں۔ یہ ان کی رخصتی کا دن تھا۔ پس منظر میں پشتو کا گیت چل رہا تھا جس کے بول جدائی کے دکھ کو اور گہرا کر رہے تھے۔ ننھے ہاتھوں پر لکھا پاکستان زندہ باد اور آنکھوں میں بے بسی یہ منظر الفاظ سے بڑا تھا۔

سہیلیاں نم آنکھوں کے ساتھ الوداع کہہ رہی تھیں اور بال میں موجود علاقہ عمائدین کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔ ایک معمر شخص آگے بڑھا بچيوں کے سروں پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور آنسو ضبط نہ کر سکا تو وہ آنسو کسی رسم کا حصہ نہیں تھے بلکہ وہ انسان ہونے کی گواہی تھے۔

ایمان اور ایشال خیبر پختونخوا کے واڑی ضلع دیر میں قائم علامہ اقبال پبلک اسکول اینڈ کالج کی چوتھی جماعت کی طالبات تھیں۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئیں، یہیں پلی بڑھیں مگر ان کے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان سے تھا۔ ان کی یادیں، بچپن اور خواب اسی سرزمین سے جڑے تھے جہاں سے وہ رخصت ہو رہی تھیں۔

سرحدوں کی سیاست نے انہیں مزید تعلیم کا حق نہ دیا۔ اسی پس منظر میں واڑی ضلع دير کے ہال میں الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔ کتابوں کا تحفہ دراصل کتابوں کی نہیں مستقبل کی حوالگی تھی,ایک ایسا مستقبل جو اب ان کے لیے دھندلا ہوتا جا رہا تھا۔

ان دو معصوم بچیوں کی رخصتی پر دل بے اختیار درد سے بھر جاتا ہے کيونکہ وہ اس سرزمین کی طرف جا رہی تھیں جسے شاید ان کے والدین نے بھی نہ دیکھا ہو۔ یہ محض واپسی نہیں تھی یہ ایک ایسی جدائی تھی جس میں شناخت، وابستگی اور اپنائیت سب پیچھے رہ گئی۔

ويسے تو افغان انقلاب کے بعد لاکهوں لوگوں نے ہجرت کی مگر 15 اگست 2021 کے بعد افغانستان میں حالات نے اچانک رخ بدلا۔ تعلیم کی راہیں مسدود ہو گئیں خاص طور پر لڑکیوں کے لیے۔ فن خاموش ہو گیا، قلم خوف میں آ گیا اور لوگوں نے جان بچانے کو ہی نجات سمجھا۔ انہی حالات میں بڑی تعداد میں افغان خاندان پاکستان آئے جہاں انہیں وقتی پناہ اور سکون نصیب ہوا۔

وقت گزرا حالات بدلے اور واپسی کا عمل شروع ہوا۔ 31 اکتوبر کو طورخم اور چمن بارڈر پر ہزاروں افغان خاندان ایک بار پھر ہجرت پر مجبور دکھائی دیے۔ یہ صرف لوگوں کی نقل مکانی نہ تھی یہ یادوں، رشتوں اور برسوں کی محنت کا بکھر جانا تھا۔

اس عمل میں سب سے زیادہ متاثر وہ بچے ہوئے جو نہ افغانستان کو جانتے ہیں نہ وہاں کے ماحول سے واقف ہیں۔ جن کے والدین بھی پاکستان میں پیدا ہوئے اور وہ خود بھی یہیں کے تھے۔ وہاں انہیں “پاکستانی” کہہ کر پکارا جاتا ہے اور یہاں وہ ہمیشہ مہاجر رہے نہ پورے ادھر کے اور نہ پورے ادھر کے۔

خاص طور پر وہ لمحہ جب ننھی بچیاں پختونخوا کی بچیوں کو اپنی کتابیں تحفے میں دیتی ہیں جو دل کو دہلا دیتا ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کی علامت ہے کہ جہاں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہو وہاں مستقبل خود بخود تاریکی میں چلا جاتا ہے۔ یہ صرف دو بچیوں کا دکھ نہیں یہ ایک نسل کی خاموش بے بسی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغان بچے اپنے اساتذہ اور کلاس فیلوز سے روتے ہوئے گلے مل رہے ہیں۔ بچے بھی رو رہے ہیں استاد بھی۔ یہ آنسو احتجاج نہیں، یہ سوال ہیں علم کے، انسانیت کے، اور ضمیر کے۔

اسی تناظر میں خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کے ادبی، ثقافتی اور صحافتی حلقوں نے انسانی بنیادوں پر آواز اٹھائی کہ فنکار، شاعر، صحافی اور طالب علم ایسے لوگ ہیں جنہیں سکون اور تحفظ کی ضرورت ہے خوف کی نہیں۔ ان کے لیے ویزہ یا کسی قانونی انسانی راستے کا انتظام، صرف ان کے لیے نہیں پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

یہ مسئلہ کسی ایک پالیسی یا فیصلے کا نہیں یہ مستقبل کا سوال ہے اور مستقبل ہمیشہ بچوں سے شروع ہوتا ہے۔ یہی وہ بچياں ہیں جو علامہ اقبال پبلک اسکول و کالج واڑیِ ضلع دیر جیسے اداروں میں پڑھتے رہے اُس علامہ اقبال کے نام پر جس نے بچوں، خوابوں اور آنے والے کل سے بے پناہ محبت کی۔ اقبال کو افغانستان اور افغانوں سے گہرا قلبی لگاؤ تھا اور یہی وجہ ہے کہ افغانیت ان کی شاعری میں وقار، خودداری اور حریت کی علامت بن کر ابھرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں:

“آسیا یک پیکرِ آب و گل است، قومِ افغان در آں پیکر دل است”۔

(یعنی: ایشیا مٹی اور پانی کا ایک جسم ہے، اور اس جسم میں افغان قوم دل کی حیثیت رکھتی ہے)

اگر ان بچوں کو تعلیم، شناخت اور تحفظ مل جائے تو وہ جہاں بھی رہیں معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ بن جاتے ہیں۔ کیونکہ جب بچوں کے ہاتھوں میں کتاب ہو تو قوموں کے ہاتھ میں مستقبل آ جاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے