قائداعظم محمد علی جناحؒ، شخصیت، کردار، پیدائش اور وفات

قائداعظم محمد علی جناحؒ برصغیر کی تاریخ کی ایک ایسی عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی بصیرت، اصول پسندی اور مضبوط کردار کے ذریعے ایک آزاد ریاست، پاکستان، کا خواب حقیقت میں بدل دیا۔ آپؒ 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے اور 11 ستمبر 1948ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی فکر، کردار اور جدوجہد آج بھی زندہ ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شخصیت کردار سے بنتی ہے۔ قائداعظمؒ کی پوری زندگی اس قول کی عملی تصویر تھی۔ان کی سیاست محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ ایک مقدس امانت تھی جسے انہوں نے دیانت، سچائی اور اصولوں کے ساتھ نبھایا۔انہوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر قوم اور ملت کے مفاد کو مقدم رکھا۔

قائداعظمؒ کی زندگی میں محنت،نظم و ضبط اور خود اعتمادی نمایاں نظر آتی ہے۔وہ جو فیصلہ کرتے،پورے یقین کے ساتھ اس پر قائم رہتے۔ان کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں دیکھتا کہ کون سی بات عوام کو پسند آئے گی بلکہ یہ دیکھتا ہوں کہ کون سی بات درست ہے۔یہی وجہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ عوام خود ان کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔

ان کی صحت اکثر خراب رہتی تھی، خاص طور پر قیامِ پاکستان کے بعد،مگر اس کے باوجود انہوں نے قومی فرائض سے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔ ایک موقع پر محترمہ فاطمہ جناحؒ نے ان سے آرام کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے جواب دیا کہ جب ایک قوم کی بقا کا سوال ہو تو ذاتی صحت کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔یہ جذبہ ان کی بے مثال قربانی اور احساسِ ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔

قائداعظمؒ اصولوں کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔چاہے معاملہ سیاست کا ہو یا ذاتی زندگی کا، وہ قانون اور ضابطے کی مکمل پاسداری کرتے تھے۔آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنماؤں نے انہیں تاحیات صدر بنانے کی تجویز دی، مگر انہوں نے اسے رد کر دیا اور کہا کہ وہ ہر سال اعتماد کا ووٹ لینا پسند کریں گے۔ یہ جمہوری سوچ ایک عظیم لیڈر کی پہچان ہے۔

سیاسی میدان میں وہ صاف و شفاف سیاست کے علمبردار تھے۔ رشوت، دھاندلی اور سازش کی سیاست سے وہ سخت نفرت کرتے تھے۔1946ء کے انتخابات کے دوران انہوں نے واضح ہدایت دی کہ کسی ووٹر کو ایک روپیہ بھی رشوت نہ دی جائے، کیونکہ وہ بددیانتی سے جیتنے کے بجائے ہار کو ترجیح دیتے تھے۔
قائداعظمؒ نہایت بردبار اور بااخلاق انسان تھے۔اگر کسی موقع پر وہ سختی کر بیٹھتے تو بعد میں معذرت کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنے عملے، ساتھیوں اور عام لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے تھے۔خوشامد کے بجائے اختلافِ رائے کو پسند کرتے اور دلیل سے بات منوانے پر یقین رکھتے تھے۔

ان کی دیانت داری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کبھی کسی قسم کی مالی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا۔پارٹی فنڈز، خطوط اور حسابات خود دیکھتے تھے۔ وہ اس بات کو قیادت کی ذمہ داری سمجھتے تھے، نہ کہ بداعتمادی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان پر کرپشن یا ذاتی مفاد کا الزام نہ لگا سکے۔

قائداعظمؒ کی شخصیت صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب اور قوموں کے لیے قابلِ احترام تھی۔ ہندو،عیسائی اور پارسی رہنماؤں نے بھی ان کی حب الوطنی، سچائی اور اصول پسندی کا اعتراف کیا۔

انہیں ہندو مسلم اتحاد کا بہترین سفیر قرار دیا گیا اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم ستون مانا گیا۔
قائداعظمؒ کی وفات پاکستان بنے صرف ایک سال ہوا تھا۔ان کی وفات قوم کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی،مگر انہوں نے اپنی مختصر حکمرانی میں ریاست کے خدوخال واضح کر دیے۔انہوں نے ہمیں ایک ایسا راستہ دکھایا جو انصاف، مساوات، قانون کی بالادستی اور دیانت پر مبنی تھا۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ان کی پیدائش سے لے کر وفات تک کا ہر لمحہ قوم کے لیے وقف تھا۔اگر آج ہم ان کے کردار، اصول اور فکر کو اپنا لیں تو پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ ریاست بنایا جا سکتا ہے۔ قائداعظمؒ تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جو کبھی ماند نہیں پڑے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے