دیکھا نہ سنا اُس کو مگر پھر بھی یقیں ہے
وہ شخص صداقت کی روایت کا امیں ہے
ہم قائدِ اعظم اُسے یوں ہی نہیں کہتے
اُس جیسا وضع دار کہیں تھا نہ کہیں ہے
ہردل پہ حکومت ہے تری آج بھی قائد
یہ خطہ پاک اب بھی ترے زیرِ نگیں ہے
اُس کا ہی عطا کردہ عطیّہ ہے یہ خالدؔ
اِس کرّہِ ارضی پہ جو یہ خُلدِ بریں ہے