اے اللہ! ہر تعریف آپ ہی کے لیے ہے۔ آپ کی شان عالی شان، آپ کا رتبہ بلند، آپ کی عزت بے پناہ، آپ کی رحمت لا محدود، آپ میرے رب ہیں اور میں اِس پر راضی ہوں۔ آپ کا نام بڑا باتوقیر ہے۔ آپ پاک ہیں۔ آپ ربِ عظیم ہیں۔ میں گناہگار ہوں، آپ کی بخشش بے انتہا ہے۔ میں عاجز ہوں.
آپ کی صفات بے شمار ہیں۔ آپ کی قدرت لا زوال ہے۔ آپ کی ہیبت سے میں پناہ مانگتا ہوں.آپ کامل ہیں۔ آپ کی رضا ہی میری اصل کامیابی ہے۔ آپ نے زندگی دی، آپ نے وجود دیا، آپ نے روح پھونکی۔ آپ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ دنیا امتحان ہے۔ آپ کے کرم کا طلبگار ہوں۔ میں اپنے کمزور ذہن اور محدود وسائل و علم کے ساتھ کچھ کہنا چاہتا ہوں۔
آپ مہربان ہو، آپ قدردان ہو۔ آپ ہی بادشاہ ہو، شاہوں کے شاہ ہو۔ آپ حسین کے رب ہو، آپ محمد کے خالق ہو۔ آپ کی محبتوں کو زیرِ قلم لا کر کچھ ثابت نہیں کرنا، سر تسلیمِ خم ہوں۔ شکر گزار ہوں، احسان مند ہوں۔ آپ کے کرموں کا، نعمتوں کا، احسانوں کا مقروض ہوں۔ قرض ادا نہیں کر سکتا، احسان چکا نہیں سکتا، بدلہ ادا نہیں کر سکتا.
اے میرے اللہ! جب سے میں نے آئی بی سی کے ویب صفحے پر لکھنا شروع کیا ہے، تب سے آپ کے بارے میں لکھنے کے لیے پر تول رہا ہوں مگر ہمت نہیں پڑ رہی۔ اڑان اونچی ہے اور میرے پر کمزور ہیں۔ مجھے حمزہ بابا کا وہ پشتو شعر یاد آ رہا ہے جو میری ہی کیفیت ہے:
"وزَر مے د مجاز دی پرے یریږم ګنې عرش مے یو قدم ہغہ پرواز یم”
(میرے پر تو مجازی ہیں، اِس لیے ڈرتا ہوں، ورنہ میری پرواز تو ایسی ہے کہ ایک قدم میں عرش تک پہنچ جاؤں)۔
اے اللہ! میں یہ باتیں اپنی عاجزی، اپنے گناہوں پر ندامت اور دلی عقیدت کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ میرے قلم کی اتنی اوقات نہیں، نہ ہی ذہنی صلاحیت کہ آپ کے بارے میں کچھ لکھ سکوں۔ مگر آپ کی مجھ سے محبت آج مجھ جیسے ناچیز کو مجبور کر رہی ہے کہ میں دنیا کو بتا سکوں کہ آپ کی رحمت اور کریم ذات مجھ جیسے گناہگار پر کتنی مہربان ہے۔
آپ کا نام "اللہ” ہے۔ میں آپ کو محبت سے پشتو میں "اَے خُدایا” کہتا ہوں۔ اِس میں مجھے آپ سے بہت قربت محسوس ہوتی ہے۔
اے خدایا! میں آپ کو اِس دنیا میں نہیں دیکھ سکتا۔ اِن آنکھوں میں اِتنی تاب ہی نہیں۔ مگر جب آپ کو جنت میں دیکھوں گا تو کیا سماں ہوگا؟
۔ آپ جو زمین و آسمان کا نور ہیں۔ قرآنِ مجید میں آپ نے اپنی مثال کتنی خوبصورت دی ہے:
"اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ” (سورۃ النور، آیت: 35) (ترجمہ: اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہو، وہ چراغ ایک فانوس میں ہو، وہ فانوس ایسا ہو جیسے چمکتا ہوا ستارہ، وہ چراغ زیتون کے ایک مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ مشرقی ہے نہ مغربی، اس کا تیل قریب ہے کہ خود بخود بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے، نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے)۔
اللہ! آپ کی ذات بہت خوبصورت، میٹھی اور رحمت سے بھرپور ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ آپ کی رحمت آپ کے غضب پر سبقت لے گئی ہے:
"إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي” (ترجمہ: بے شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی)۔
آپ اِتنے رحیم ہیں؟ کہ جب فرعون غرق ہو رہا تھا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ہمارے آقا ﷺ کو بتایا: "اے محمد ﷺ! کاش آپ مجھے دیکھتے جب میں سمندر کی کیچڑ اٹھا کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اِس ڈر سے کہ کہیں وہ توبہ نہ کر لے اور آپ کی رحمت اُسے ڈھانپ نہ لے۔”
آپ بندے کی توبہ پر اُس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جس کی سواری کسی میدان میں کھو جائے اور پھر مل جائے۔
اور قرب کا معاملہ دیکھو: "إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً” (ترجمہ: جب بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں، اور جب وہ میری طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں)۔
آپ بِن بولے دِل کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ آنسوؤں پر راضی ہو جاتے ہیں۔ آپ کا شکر ہے میرے اللہ!
اے خدایا! آپ نے کتنی محبت سے مجھے وقتاً فوقتاً اپنے قریب کیا ہے۔
جب بھٹکا ہوں، آپ نے ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالتے ہوئے مجھے واپس راہِ راست کیا ہے۔
میں نے سوچا بھی نہیں ہوتا تھا اور آپ نے میرے لیے فل پروف (Full proof) انتظامات کیے ہوتے تھے۔
اللہ! وہ جو میرا دوست اچانک مجھے ایک مسجد میں اتار کر اوسلو سے فن لینڈ چلا گیا اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ رات کہاں گزاروں گا؟
۔۔۔ اور پھر کہیں سے ایک اور انجان شخص آیا، میں اس کا مہمان بنا۔ وہ کسی پیر کا مرید تھا.
رات دن تمہارے ذکر میں مصروف رہتا، مجھے نہ صرف اوسلو دکھا کر گیا بلکہ آگے ویانا کی ترتیب بھی بنا کر دی۔ آپ کا شکریہ۔۔۔
اور اللہ! مجھے تو آپ کے احسانات بھی نہیں یاد۔۔۔ میں جب جب سمجھا کہ سب ختم ہو گیا، آپ نے تب تب نئی شروعات دی۔ وہ جو اچانک آپ مجھے ترکی لے گئے۔
وہ جو اچانک ایک رات میں آپ نے عمرے پہ بلایا۔ وہ جو تنزانیہ سے بابا کے لیے حج کا وسیلہ بنایا۔ وہ جو بی بی کے لیے حج کے ذرائع ترتیب کیے۔
اللہ! اے میرے خدایا! آپ نے میرے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ میں بھولتا گیا، آپ نوازتے گئے۔ میں تو حیران ہوں کہ مجھ پہ یہ نوازشیں، یہ رحمتیں؟
میں ایک پھول کے پیچھے بھاگا تو آپ نے پھولوں سے بھری ٹوکری تھما دی۔
میں اکثر تذکرہ کرتا ہوں آپ کا، اے خدایا!.
آپ نے مجھے بہت محبت دی ہے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ کے بارے میں مجھے کیا پسند ہے، تو میں کہوں گا آپ کا مجھ سے پیار۔ آپ کی محبت مجھ سے بی بی سے بھی زیادہ ہے۔
میں اپنے گناہوں پہ شرمندہ۔ میں قصوروار۔ میں خطاکار۔ میں نالائق۔ میں کسی کام کا نہیں۔ آپ نے مجھے عزت دی۔ آپ نے مجھے اہلیت دی۔ آپ نے مجھے سب کچھ دیا۔ اے خدایا! آپ کا پھر شکریہ، آپ کا پھر شکریہ، آپ کا پھر شکریہ
جب میں عمرے کے دوران حجرِ اسود کے پاس زخمی ہوا اور تین سال تک گھٹنے کی تکلیف میں رہا، میں سمجھ بیٹھا تھا کہ شاید کبھی سجدے نہ کر سکوں گا، باؤلنگ نه کر سکوں گا۔ مگر آپ نے مجھے دوبارہ صحت دی۔ الحمدلہ! اب میں سجدے کر سکتا ہوں اور التحیات کی حالت میں بھی بیٹھ سکتا ہوں۔
اے اللہ!التحیات میں تھوڑی تکلیف محسوس ہو رہی ہے، وہ بھی دور فرما دے۔
جب میری بی بی فوت ہوئیں، تو آپ نے میرے دِل پر مرہم رکھا۔
میں اُن کے بعد خود کو ادھورا سمجھ رہا تھا۔ آپ نے سنبھالا۔ جب بابا چلے گئے اور میں بے سہارا ہو گیا، تو آپ نے میرا ہاتھ تھاما جب میں بے روزگاری کی حالت میں مایوس ہوا، تو آپ نے مجھے سرکاری نوکری دی۔ ایک سال سے زیادہ بے روزگاری کا وہ وقفہ عجیب تھا۔ میں باہر سے آئے ہوئے صحافیوں کے ساتھ مترجم کا کام کرتا تھا، مگر فری لانسر تھا۔
آپ نے رزق نہیں روکا۔ سرکاری نوکری دی. میں بہت خوش ہوا۔ میں وقت پر مسجد میں ہوتا تھا، لمبی لمبی دعائیں کرتا تھا۔ کیا پتا تھا کہ آپ مجھے اپنے قریب دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ آپ کا شکر ہے اے خدایا!
آپ نے مجھے 42 ممالک دکھائے، انبیاء کی سرزمینوں کی سیر کرائی۔ آپ کا شکر ہے!
پھر وہ ملاقات جب میں بھٹکتے بھٹکتے وادیِ سینا پہنچ گیا۔ جانا جبلِ طور تھا مگر راستہ بدل گیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی قبر سے ہوتا ہوا جب میں جبلِ طور پر پہنچا، تو وہاں کے پہاڑ اور پتھر ایک عجیب غرور میں تھے، جیسے کہہ رہے ہوں: "یہی وہ جگہ ہے جہاں اللہ کا جلوہ نازل ہوا تھا۔” وہاں چوٹی پر جب میں تھک کر سو گیا، تو وہ نیند بہت میٹھی تھی۔ آپ کا شکر ہے!
نیویارک پہنچنے کے بعد جب میں نے ٹائمز اسکوائر، سکرین پر پڑھا: "Welcome to the center of the universe”، خیال آیا: میرا "مرکزِ کائنات” تو کعبہ ہے۔
اگلے دن یو این کی عمارت کے سامنے پاکستانی شلوار قمیض اور پٹھانوں والی ٹوپی پہنے، تلاوت ہیڈ فون پر سن رہا تھا کہ اچانک سعودی سفارتکار ملا۔ اے اللہ! آپ نے ملوا دیا۔
اُس نے کہا: "تم پاکستانی ہو؟” میں نے فوراً جواب دیا: "ہاں، مگر عمرے پر جانا ہے۔”
پھر آپ نے اُس کے دِل میں ڈالا اور وہ مجھے واشنگٹن بھیجنے کو تیار ہو گیا۔ واشنگٹن میں جمعہ کا دن تھا، چھٹی ہو گئی تھی۔ آپ نے عمرے کا ویزا ہیوسٹن سے لگوا دیا ۔
اے خدایا! مجھے لگتا ہے جیسے آپ نے انگلی پکڑ پکڑ کر مجھے اپنی دنیا گھمائی، امریکہ دکھایا اور مقصد عمرے کا ویزا رکھا۔ آپ کا شکر ہے…
یہ واقعات یاد کرتا ہوں تو آپ پر بہت پیار آتا ہے۔ آپ کا شکر ہے!
اے اللہ! آپ بے نیاز ہیں! کسی بندے نے اپنے "صنم” کو یاد کرتے ہوئے رٹ لگائی: "صنم، صنم، صنم…”، بیچ میں زبان پھسل گئی اور بول پڑا: "صمد، صمد…”۔ آپ نے فوراً جواب دیا: "لَبَّیْکَ عَبْدِیْ” (ترجمہ: حاضر ہوں میرے بندے!)۔ امام رازی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "میرے بندے سے راستہ ڈھونڈنے میں غلطی ہوئی، مگر میری صمدیت راستہ نہیں بھولتی ۔” آپ کا شکر ہے!
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آپ کی بات چیت مجھے بہت بھاتی ہے۔ تفسیر روح البیان میں وہ واقعہ ہے کہ ایک عورت نے اولاد کے لیے دعا کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا: "میں نے اُسے بانجھ لکھا ہے۔” مگر وہ عورت پکارتی رہی: "یا رحیم، یا رحیم…”۔ کچھ عرصہ بعد وہ بچے کے ساتھ آئی۔ تب آپ نے فرمایا: "يَا مُوسَى، كُلَّمَا كَتَبْتُهَا عَقِيماً نَادَتْنِي يَا رَحِيمُ، فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ عَبْدَتِي، فَغَلَبَتْ رَحْمَتِي قَدَرِي” (ترجمہ: اے موسیٰ! میں نے جب بھی اسے بانجھ لکھا، اس نے مجھے ‘یا رحیم’ پکارا۔ پس مجھے اپنی اس بندی سے حیا آ گئی۔ چنانچہ میری رحمت نے میری تقدیر کو مغلوب کر دیا)۔ آپ کا شکر ہے!
آپ سب کچھ جانتے ہوئے بھی، رات کے آخری پہر آسمانِ دنیا کے نچلے کرّے پر آ کر پکارتے ہیں: "هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ، هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟” (ترجمہ: کیا ہے کوئی پکارنے والا کہ میں اس کی پکار سنوں؟ کیا ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ کیا ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟)
اے اللہ! فلسطین کے نہتے بہن بھائیوں اور پاکستان کے حالات سنبھال لینا۔ جب آپ آسمانوں کو لپیٹیں گے، اُس ہولناک دن مجھے بچا لینا۔ میں غلام ہوں۔ معافی چاہتا ہوں۔ لکھنا تو آپ کی عظمت کے بارے میں تھا مگر اپنی عرضیاں پیش کرنے لگ گیا۔ کیا کروں؟ آپ کے بغیر کوئی ہے ہی نہیں جو دِل کی بات سمجھ لے۔
اے اللہ! اب میں چالیس کی عمر کو پہنچ گیا ہوں۔ خود میں وہ توانائی اور وہ پاگل پن محسوس نہیں کرتا جو پہلے تھا۔ تو درخواست ہے کہ مجھے اپنے ساتھ اِسی طرح جوڑے رکھنا۔
غنی خان بابا کا یہ شعر یاد آتا ہے:
"تُو نُور کا سمندر اور میں خاک کا ذرّہ
پتا نہیں میرا اور تیرا یہ یارانہ کیسے چلے گا۔”
بس سنبھال لینا، جب کوئی سنبھالنے والا نہ ہوگا۔ معاف کر دینا، جب کوئی معاف کرنے والا نہ ہوگا۔ آپ کا عرش بہت بڑا ہے۔ میں پہاڑی آدمی ہوں۔ گرمی میں تنگ پڑ جاتا ہوں۔ اُس دن عرش کے سائے کے نیچے جگہ دے دینا
حسین ابنِ فاطمہ سے پیار کرتا ہوں۔ اُن کے پیچھے کھڑا کر دینا۔
اللہ کے نبی ﷺ کو دیکھوں تو سر جھکا نہ ہو خدایا ۔ یہ سب کچھ اِس لیے آپ کے سامنے پیش کیا کہ ثبوت کے ساتھ پیش کر سکوں
.آپ نے ہمیشہ میرے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھی ہے۔ میری صداؤں پہ لبیک کہا ہے۔ میں جب کبھی بندوں سے ناراض ہوا ہوں تو آپ نے اپنے گھر بلایا ہے۔ میں اپنے معاملات آپ کے سپرد کرتا ہوں۔
بابا اور بی بی کو جنت الفردوس میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کا خیال رکھنا۔ میں ان کو مِس کرتا ہوں۔ ان سے بہت لگاؤ تھا مجھے۔ ان کے لیے آسانی فرمانا۔
میرے اس لکھے کو میرے لکھنے سے پہلے، بلکہ یہ سب کچھ لکھنا بھی آپ ہی کی عطا کردہ توفیق ہے، اسے اپنی بارگاہ میں قبولیت بخشنا۔” کہا سنا معاف,!
۔ آئی لو یو اللہ۔
آپ کا رحیم ابنِ یوسف۔