ہم گنہگار عورتیں: کشور ناہید کی ادبی و سماجی جدوجہد

کشور ناہید پاکستان کی ممتاز فیمینسٹ اردو شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو اپنی جرات مند آواز، منفرد اسلوب اور فکری گہرائی سے ایک نئی سمت دی۔ ان کی شاعری سماجی ناانصافی، صنفی برابری، آزادیِ اظہار اور انسانی وقار جیسے موضوعات کا جرات مندانہ اظہار ہے۔ ان کی متعدد شعری تصانیف شائع ہو چکی ہیں، جو اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ ادب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف اعزازات سے نوازا گیا، جن میں حکومتِ پاکستان کا اعلیٰ سول اعزاز ستارۂ امتیاز بھی شامل ہے۔

کشور ناہید 18 جون 1940ء کو بلندشہر (اتر پردیش، بھارت) ایک سادات گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں ہی میں انہوں نے تقسیم ہند کے المیے کو قریب سے دیکھا۔ تقسیم ہند کے بعد 1949ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے لاہور، پاکستان آ گئیں۔ تقسیم کے دوران ہونے والے تشدد خصوصاً عورتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی وہ عینی شاہد رہیں۔ اس دور کی خونریزی نے کم عمری ہی میں ان کے ذہن اور شخصیت پر گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا جو بعد میں ان کی شاعری اور ادبی اظہار کا بنیادی محرک بنے۔

تقسیمِ ہند کے چند ہی مہینوں بعد جب ان کا خاندان بلند شہر سے لاہور منتقل ہونے والا تھا. کشور ناہید نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے ان کے ذہن اور دل پر گہرا اور دائمی اثر چھوڑا۔ تقسیم کے فسادات کے دوران بلند شہر کی کچھ مسلم لڑکیاں اغوا ہو گئی تھیں۔ یا تو وہ خود اپنے اغواکاروں سے بھاگ نکلیں یا پھر بازیاب کرائی گئیں، اور بعد ازاں واپس بلند شہر پہنچیں۔ ان میں سے بعض لڑکیاں ان کے خاندان کی جان پہچان کی تھیں۔ کشور ناہید اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ ان سے ملنے گئیں۔ وہ لڑکیاں نہایت خستہ حال، تھکی ماندی اور ٹوٹی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ ایک بڑے کمرے میں وہ فرش پر لیٹی ہوئی یا دیواروں سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں، اور اردگرد موجود عورتیں انہیں تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان لڑکیوں کے پاؤں بری طرح زخمی تھے اور خون سے تر تھے۔ کشور ناہید کے مطابق وہی لمحہ تھا جب وہ محض ایک بچی نہیں رہیں بلکہ ایک لڑکی سے عورت بن گئیں۔ آج بھی انہیں وہ خون آلود پاؤں یاد ہیں اور وہ کہتی ہیں. دنیا میں کہیں بھی عورتوں اور لڑکیوں کے پاؤں خون میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ دہائیوں میں بہت کم بدلا ہے۔ اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

لڑکپن میں کشور ناہید اُن لڑکیوں سے بے حد متاثر ہوئیں جو اس زمانے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جا رہی تھیں۔ سیاہ برقعے کے نیچے سفید کرتا اور سفید غرارہ پہنے ان طالبات کا وقار اور اعتماد انہیں بہت بھاتا تھا۔ یہی منظر ان کے دل میں کالج جانے اور تعلیم حاصل کرنے کی شدید خواہش پیدا کرنے کا باعث بنا۔

انہوں نے اردو میں ادیب فاضل کی ڈگری حاصل کی اور فارسی زبان بھی سیکھی۔ نوعمری ہی میں وہ ایک شوقین قاری بن چکی تھیں اور جو کچھ ان کے ہاتھ آتا، پڑھ ڈالتی تھیں, خواہ وہ دوستوئیفسکی کی تحریریں ہوں یا نول کشور پریس سے شائع ہونے والی انگریزی لغت۔

اس دور میں جب لڑکیوں کا اسکول جانا معیوب سمجھا جاتا تھا، کشور ناہید نے تعلیم کے حصول کے لیے سخت جدوجہد کی۔ انہوں نے گھر پر رہ کر تعلیم حاصل کی اور بذریعہ خط و کتابت ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے بعد کالج میں داخلے پر خاندان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان کے بھائی سید افتخار زیدی نے ان کی فیس ادا کی اور انہیں باقاعدہ تعلیم جاری رکھنے میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔

پاکستان میں انہوں نے 1958ء میں پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور 1960ء میں معاشیات میں ایم اے مکمل کیا۔ اسی سال ان کی شادی اپنے دوست اور شاعر یوسف کامران سے ہوئی۔ اس جوڑے کے دو بیٹے ہیں۔ 1984ء میں شوہر کی وفات کے بعد کشور ناہید نے نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کی بلکہ خاندان کی ذمہ داریاں بھی خود سنبھالیں۔

کشور ناہید نے بہت کم عمری میں شاعری شروع کی۔ سات سال کی عمر میں پہلی نظم لکھنے کے بعد ان کا ادبی سفر مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "لبِ گویا” 1968ء میں شائع ہوا اور آدم جی ادبی ایوارڈ کا حقدار ٹھہرا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی شعری مجموعے تحریر کیے جن میں "دیوار کے پیچھے، چاروں عناصر کی ہوا، ننگے پاؤں چلنے کی آواز، بے نام مسافت، گلیاں دھوپ دروازے، ورق ورق آئینہ اور آباد خرابه” شامل ہیں۔ ان مجموعوں نے انہیں اردو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔

ان کی شاعری کا بنیادی محور عورت کی شناخت، آزادی اور سماجی ناانصافی کے خلاف احتجاج ہے۔ انہوں نے پدرسری نظام کو چیلنج کیا اور عورت کی ذات کی تلاش اور شناخت کے مسائل کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ ان کی مشہور نظم ہم گنہگار عورتیں نسائی تحریک کا ترانہ بنی اور عالمی سطح پر پہچانی گئی۔ اس نظم نے عورتوں کو اپنی آواز بلند کرنے کا حوصلہ دیا اور انہیں معاشرتی جبر کے خلاف کھڑا ہونے کی ترغیب دی۔

کشور ناہید کے شعری مجموعوں کی تعداد بارہ ہے جو پاکستان اور بھارت دونوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی اردو شاعری دنیا کے مختلف ممالک میں غیر ملکی زبانوں میں بھی ترجمہ ہو کر شائع ہوئی ہے۔ ان کی مشہور نظم "ہم گنہگار عورتیں” پاکستانی نسائی تحریک سے وابستہ حلقوں میں عورتوں کا ترانہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی نظم کے عنوان پر معاصر اردو نسائی شاعری کا ایک انقلابی انتخاب مرتب کیا گیا، جس کا ترجمہ اور تدوین رخسانہ احمد نے کی، اور جو 1991ء میں لندن سے دی ویمنز پریس کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔

کشور ناہید نے بچوں کے لیے بھی آٹھ کتابیں تحریر کیں اور بچوں کے ادب میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں یونیسکو کا باوقار اعزاز عطا کیا گیا۔ بچوں سے ان کی محبت اتنی ہی گہری ہے جتنی عورتوں کے مسائل سے ان کی وابستگی۔ وہ اس حساسیت کا اظہار اپنی نظم "اسیں بریاں وے لوگو” میں کرتی ہیں، جو موجودہ مردانہ بالادست معاشرے میں عورت کی حالتِ زار کو نہایت مؤثر اور درد مندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔
کشور ناہید نے مختلف قومی اداروں میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ ریٹائرمنٹ سے قبل وہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک معتبر ادبی رسالے "ماہِ نو” کی ادارت بھی کی۔ انہوں نے "حوّا (ایو)” کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد ایسی عورتوں کو معاشی طور پر خود مختار بنانا ہے جن کی اپنی آمدنی نہیں، تاکہ وہ گھریلو صنعتوں اور دست کاری کے ذریعے روزگار حاصل کر سکیں۔

بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے بھی انہوں نے قابلِ ذکر خدمات انجام دیں اور پاکستان نیشنل سینٹر فار چلڈرنز لٹریچر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

کشور ناہید اپنی تیز، گہری اور کاٹ دار شعری اظہار کے باعث وسیع پیمانے پر سراہی جاتی ہیں۔ ان کی شاعری جرات، صاف گوئی اور سچائی کی علامت ہے، جس میں مساوات، انصاف اور آزادی کے لیے انسانی جدوجہد کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ روزنامہ جنگ میں باقاعدگی سے ہفتہ وار کالم بھی لکھتی ہیں، جس کے ذریعے وہ سماجی، ادبی اور فکری موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں۔ ناقدین اور مبصرین کے مطابق وقت کے ساتھ ان کی آواز مزید مضبوط، زیادہ پُراصرار اور کسی حد تک زیادہ ذاتی اور گہری ہوتی چلی گئی ہے۔

کشور ناہید کی نمایاں تصانیف: اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت

(منتخب تصانیف)

• 1968: لبِ گویا پہلا شعری مجموعہ، آدم جی ادبی ایوارڈ حاصل کیا
• 1978: گلیاں دھوپ دروازے
• 1996: خواتین افسانہ نگار
• 2001: دشتِ قیس میں لیلیٰ – کلیات
• 2001: The Distance of a Shout – اردو نظموں کا انگریزی ترجمہ
• 2006: ورق ورق آئینہ
• 2010: عورت مرد کا رشتہ
• 2011: رات کے مسافر
• 2012: چند کی بیٹی
• 2012: جادو کی ہنڈیاں
• 2012: شیر اور بکری
• 2016: آباد خرابه
• بری عورت کی خطا – خود نوشت سوانح
دیگر زبانوں میں تراجم (Selected Works)
• 2010: A Bad Woman’s Story – مترجم: دردانہ سومرو، اصل کتاب: بری عورت کی کتھا، انگریزی ترجمہ
• We Sinful Women – اصل کتاب: ہم گنہگار عورتیں، کئی زبانوں میں ترجمہ
• Lips that Speak – اصل کتاب: لبِ گویا، انگریزی ترجمہ
• Leaves of Reflections – اصل کتاب: ورق ورق آئینہ، انگریزی ترجمہ

تراجم (منتخب)

• عورت ایک نفسیاتی مطالعہ – اصل کتاب: The Second Sex (Simone de Beauvoir)، اردو ترجمہ

رسائل (منتخب)

• 2012: چہار سو – مدیر: گلزار جاوید، ناشر: فیض الاسلام پرنٹنگ پریس، راولپنڈی

بچوں کا ادب (منتخب)

• آنکھ مچولی
• بطخ اور سانپ
• چڑیا اور کوئل
• گدھے نے بجائی بانسری
• کتے اور خرگوش
• دیس دیس کی کہانیاں – یونیسکو انعام یافتہ

کشور ناہید نے بحیثیت قوم پاکستان کے نشیب و فراز، جدوجہد اور امنگوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان کی تخلیقی تحریریں ایک ایسی عورت قلم کار کے تجربات کی داستان ہیں جو تخلیقی اور سماجی میدانوں میں سرگرم رہی، اور جسے ذاتی، سماجی اور سرکاری سطح پر ردِعمل اور مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

جنوبی ایشیا کی ترقی پسند ادبی تحریک اور سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہو کر کشور ناہید نے بڑے عالمی سیاسی انقلابات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان میں مارشل لا نافذ تھا اور اردو ادب میں نئے خیالات اور اسالیب متعارف ہو رہے تھے اور سراہے جا رہے تھے۔ کشور ناہید اور ان کے دوست ہر سرگرمی میں شریک ہوتے۔ ایک دن وہ جمال عبدالناصر اور نہرِ سویز پر مصر کے حق میں جلوس نکالتے، اور اگلے دن ویتنام، فلسطین یا لاطینی امریکہ کے حق میں مظاہرے کرتے۔

پاکستانی ماہنامہ دی ہیرالڈ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کشور ناہید نے سنسرشپ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

“ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ تخلیق کار اور فنکار کسی خلا میں نہیں جیتے۔ جس سیاسی اور سماجی ماحول میں انسان رہتا ہے، اس پر ردِعمل ظاہر کرنا اور اس پر اظہارِ خیال کرنا فطری بات ہے۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ تخلیقی لوگ زیادہ حساس اور باشعور ہوتے ہیں، اور دوسری طرف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انہیں صرف اپنے باطن اور ذاتی احساسات تک محدود رہنا چاہیے۔ باطنی احساسات پر لکھنا درست ہے، مگر جب ملالہ یوسفزئی کو گولی ماری گئی یا سوات میں لڑکیوں کے اسکول جلائے گئے، تو وہ بھی میرے اندر کے احساسات ہی تھے جن پر میں نے لکھا۔ میری نظمیں اب سماجی تنقید سمجھی جائیں گی اور بعض لوگ انہیں سیاسی شاعری کہیں گے، مگر دراصل یہ میرے اندر کی آواز ہیں۔ تخلیق کو نہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی رکھنا چاہیے۔ اس حقیقت کو ایک عورت قلم کار یا فنکار سے بہتر کون جان سکتا ہے، جو پوری زندگی اپنے احساسات اور خیالات کے اظہار کے لیے جدوجہد کرتی رہتی ہے، تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اور اپنے منفرد انداز میں دنیا کے سامنے خود کو پیش کر سکے۔”

وہ مزید کہتی ہیں:
“اظہار اور تحریر کی یہ آزادی آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔”

کشور ناہید جنوبی ایشیا میں امن کی علمبردار بھی ہیں۔ انہوں نے پاکستان انڈیا پیپلز فورم اور سارک رائٹرز فورم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ عالمی ادبی اور ثقافتی تحریکوں میں بھی شریک رہی ہیں، جہاں ایسے قلم کار اور فنکار جمع ہوتے ہیں جو ایک منصفانہ اور مساوی عالمی سیاسی نظام پر یقین رکھتے ہیں۔ انتہاپسند مذہبی نظریات، تشدد اور دہشت گردی کے خلاف ان کی توانا شاعری، اور شدت پسندی کے باعث عورتوں اور لڑکیوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف ان کی آواز نے ملکی اور عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

کشور ناہید کی غزلیں اور نظمیں جذبات، احساسات اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی غزلوں میں محبت، جدوجہد اور زندگی کے تلخ تجربات کی جھلک ملتی ہے، جبکہ نظموں میں نسائی جدوجہد، سماجی انصاف اور انسانی آزادی کی جری آواز سنائی دیتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں اردو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔

منتخب غزلیں

• اے رہِ ہجرِ نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے
• اپنے لہو سے نام لکھا غیر کا بھی دیکھ
• کبھی تو آ مری آنکھوں کی روشنی بن کر
• مجھے بھلا کے مجھے یاد بھی رکھا تو نے
• تمہاری یاد میں ہم جشنِ غم منائیں بھی
• میری آنکھوں میں دریا جھلکتا ہے
• تیری قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے
• عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں

منتخب نظمیں

• آخری فیصلہ
• آخری خواہش
• ایک نظم اجازتوں کے لیے
• گھاس تو مجھ جیسی ہے
• ہم گنہگار عورتیں (پاکستانی نسائی تحریک کا ترانہ)
• خداوں سے کہہ دو
• قید میں رقص
• سونے سے پہلے ایک خیال

کشور ناہید کی ادبی اور سماجی خدمات کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مختلف اداروں نے تسلیم کیا۔ ان کی شاعری، بچوں کے ادب، تراجم اور خواتین کے حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے اعتراف میں انہیں کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔

• 1968: آدم جی ادبی ایوارڈ (لبِ گویا)
• یونیسکو انعام برائے بچوں کا ادب (دیس دیس کی کہانیاں)
• کولمبیا یونیورسٹی کا بہترین ترجمہ ایوارڈ
• 1997: مینڈیلا پرائز
• 2000: ستارۂ امتیاز (پاکستان حکومت کا اعلیٰ ترین اعزاز)
• 2015: کمالِ فن ایوارڈ (پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز)
• 2016: پریم چند فیلوشپ (ساہتیہ اکادمی، بھارت)

اللہ تعالیٰ کشور ناہید کو صحتِ کاملہ، ذہنی سکون اور باوقار طویل عمر عطا فرمائے۔ ان کے قلم میں وہی جرات، سچائی اور فکری روشنی برقرار رکھے جس کے ذریعے انہوں نے نسلوں کو سوچنے کا حوصلہ دیا۔ اللہ انہیں ہر طرح کی تکالیف سے محفوظ رکھے، ان کے دن علم و وقار سے بھر دے، اور ان کی زندگی کو ادب، انسان دوستی اور خیر کے کاموں کے لیے مزید بابرکت بنائے۔ ان کا وجود اردو ادب کے لیے نعمت ہے، اللہ انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور آنے والی نسلوں کے لیے ان کی آواز کو مزید مضبوط بنائے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے