انسان کی عزت، انسان کا حق
تعلیم، انصاف، تحفظ کا سبق
نہ سیکولرزم، نہ فیمینزم کی راہ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاماڈل، انسانیت کی پناہ
انسان کرۂ ارض پر سب سے اہم وجود ہے۔ اس کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، رہائش، تعلیم، انصاف اور تحفظ ہیں۔ اور اس کے مسائل جیسے غربت، ناانصافی، عدم تحفظ وغیرہ ہیں۔ ان مسائل کا حل دینے والے نظام کی ضرورت ہے۔ ایسا نظام جو پوری انسانیت کے لیے بنیادی ضروریات بہترین طریقے سے فراہم کرے اور مسائل کا بہترین حل پیش کرے، لازمی ہے۔
دنیا میں مختلف نظریات پر مشتمل نظام نافذ کیے گئے اور انسان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی، لیکن اوسطاً 100 سال میں بھی کوئی نظام عالمی سطح پر قبول نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نظام کسی خاص خطے یا قوم کی ضروریات اور مسائل کے حل کے لیے بنایا گیا تھا۔ مثلاً یورپ میں سیکولرزم عیسائیوں کو مذہبی ظلم سے نجات دلانے کے لیے آیا، یا فیمینزم مردانہ غلبے والی معاشرت میں عورتوں کو حقوق دینے کی جدوجہد تھی۔ لیکن عالمی سطح پر ہر نظام ناکام ہوا کیونکہ ایک حصے کے لیے تو حل ملا مگر دنیا کے باقی حصے کو نقصان پہنچا۔
2025 تک کوئی بھی نظام عالمی سطح پر انسان کی عزت قائم رکھنے، بنیادی ضروریات فراہم کرنے اور مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ کوئی نظام یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے عالمی سطح پر بنیادی حقوق محفوظ رکھنے کا ڈھانچہ دیا اور عملی طور پر کامیاب ہوا، کہ ہر انسان کو تعلیم دی، طبی مسائل حل کیے، مذاہب کو تحفظ دیا، اور انسانوں کے جان، مال اور عزت کا دفاع کیا۔
لیکن اگر ہم تاریخ کو انصاف کی آنکھ سے دیکھیں تو 1450 سال پہلے ایک وقت تھا جب دنیا کو تہذیب نام کا علم بھی نہیں تھا۔ اس زمانے میں ایک مثالی شخصیت حضرت محمد ﷺ کی صورت میں ایک ایسا ماڈل پیش ہوا جو عالمی سطح پر ہر انسان، مرد و عورت، کی ضروریات کو ان کے مقام اور حیثیت کے مطابق پورا کرتا تھا۔ اور پچاس سال سے بھی کم عرصے میں انسان کو وہ عظمت دی جو آج بھی کوئی پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
غربت کے خاتمے کے لیے زکوٰۃ کی پالیسی دی گئی، جس کے نتیجے میں چند سالوں میں ایسا وقت آیا کہ لوگ زکوٰۃ لینے کے لیے تلاش کرتے مگر لینے والا کوئی نہ ملتا۔ گناہوں کے کفارے کے طور پر غلام آزاد کرنے اور باندیوں سے نکاح کرنے کی پالیسی دی گئی، جس کے نتیجے میں چند دہائیوں میں غلامی ختم ہوگئی۔ مزدور کو یہ عزت دی گئی کہ اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اجرت ادا کی جائے۔ عورت کو باپ اور شوہر کی وراثت میں حصہ دیا گیا اور ملکہ جیسی حیثیت دی گئی۔ اصحابِ صفہ کو تعلیم دے کر بتایا گیا کہ تعلیم کا نظام بہترین انداز میں سمجھا جائے اور ہر امیر و غریب کے لیے مفت تعلیم ہونی چاہیے۔ دفاع کے لیے مختلف غزوات لڑ کر حکمتِ عملی بتائی گئی۔ اور چند سالوں میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس عالمی ماڈل نے انسان کو بنیادی حقوق دیے اور مسائل کا حل فراہم کیا۔
لہٰذا مجھے یہ کہنے دیجیے کہ موجودہ تمام نظام، جدید ٹیکنالوجی کے باوجود، بنیادی حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل میں ناکام ہو چکے ہیں۔ تو کیا ہمیں 1450 سال پیچھے جا کر اسی مثالی ماڈل کا مطالعہ نہیں کرنا چاہیے، اسے عالمی سطح پر نافذ نہیں کرنا چاہیے، تاکہ انسانوں کو حقوق اور مسائل کا حل دیا جا سکے۔