ملک کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن برسوں کے مسلسل نقصانات کے بعد بالآخر نجکاری کے عمل سے گزر چکی ہے۔ کیا یہ حکومت اور عوام کے لیے ایک اچھا سودا ہے؟ میں اس سوال کے جواب تک پہنچنے سے پہلے اس لین دین کی مالیاتی تفصیل سے آغاز کروں گا: یعنی کیا بیچا گیا، کتنی رقم کا تبادلہ ہوا، اور کون سی ذمہ داریاں اب بھی باقی ہیں۔
حکومت کو کیا ملا؟
“پرانی پی آئی اے” کے تمام حصے نجکاری کے عمل میں شامل نہیں تھے۔ فروخت سے پہلے ریاست نے ایئر لائن کو دو اداروں میں تقسیم کیا۔ ایک ہولڈنگ کمپنی نے پرانے مالیاتی بوجھ کا زیادہ تر حصہ ، تقریباً 650 ارب روپے، اپنے ذمے لے لیا۔ آپریٹنگ ایئر لائن نے طیارے، روٹس اور روزمرہ کا کاروبار اپنے پاس رکھا۔ یہی وہ ایئر لائن تھی جسے حکومت نے نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کیا؛ جبکہ ہولڈنگ کمپنی بدستور ریاست کے پاس رہی۔
سال 2024 کے مالیاتی گوشوارے اس تقسیم کی منطق کو واضح کرتے ہیں۔ ہولڈنگ کمپنی کو اس مقصد سے تشکیل دیا گیا کہ وہ پی آئی اے کے اتنے پرانے واجبات جذب کر لے کہ آپریٹنگ ایئر لائن — یعنی وہ ادارہ جسے فروخت کیا جا رہا تھا — 2024 میں معمولی سطح کا آپریٹنگ منافع ظاہر کر سکے۔ یہ کوئی ظاہری نمائش نہیں تھی؛ بلکہ کسی بھی سنجیدہ بحالی کے لیے ایک بنیادی شرط تھی۔
نجکاری تبھی مؤثر ہوتی ہے جب خریدار کے پاس قدر پیدا کرنے کا کوئی قابلِ اعتبار راستہ ہو۔ اپنی سابقہ شکل میں پی آئی اے ایک کلاسیکی “قرضوں کے بوجھ” کے مسئلے کا شکار تھی: نئی انتظامیہ اگر کارکردگی بہتر بھی کر لیتی، تب بھی اضافی نقد آمدنی کا بڑا حصہ پرانی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ہی چلا جاتا۔ ایسی صورتحال میں عقلی ردعمل یہی ہوتا ہے کہ کم سرمایہ کاری کی جائے، معیار پر سمجھوتہ کیا جائے، اور کسی نہ کسی طرح کام چلایا جائے۔ آپریٹنگ ایئر لائن کو پرانی بیلنس شیٹ کے بوجھ سے الگ کر کے، حکومت نے خریدار کی ترغیبات کو بہتر بنایا اور اصولی طور پر یہ امکان بڑھایا کہ آپریشنل اصلاحات سرمایہ کاری پر قابل منافع ہو سکیں۔
حکومت نے آپریٹنگ ایئر لائن کے 75 فیصد حصص ایک ایسے اسٹرکچر کے تحت فروخت کیے جس میں ریاست کو ملنے والی نقد رقم کم تھی جبکہ کمپنی میں لگایا جانے والا نیا سرمایہ کہیں زیادہ تھا۔ تقریباً 10 ارب روپے نقد حکومت کو موصول ہوں گے، جبکہ تقریباً 125 ارب روپے نئی ایکویٹی کی صورت میں ایئر لائن میں ہی ڈالے جائیں گے تاکہ کاروبار کو سرمایہ فراہم کیا جا سکے۔ اس تخمینہ شدہ مالیت کی بنیاد پر، ریاست کی ملکیت رہنے والا 25 فیصد حصہ تقریباً 45 ارب روپے کا بنتا ہے۔ یوں حکومت کو اس لین دین سے حاصل ہونے والی فوری “مالیاتی قدر” تقریباً 55 ارب روپے بنتی ہے ،یعنی 10 ارب روپے نقد اور 45 ارب روپے کے اثاثے۔
حکومت کو کیا نہیں ملا
کچھ مبصرین نے اس فروخت کو اس طرح سراہا ہے گویا پی آئی اے کی نجکاری خود بخود مالی خسارہ روک دے گی۔ ایسا نہیں ہے۔ ریاست اب بھی ہولڈنگ کمپنی کی مالک ہے اور اس کے ساتھ تقریباً 650 ارب روپے کے پرانے قرضے بدستور موجود ہیں۔
دوسرے لفظوں میں، حکومت اس لین دین سے تقریباً 55 ارب روپے کی قدر حاصل کر رہی ہے، مگر ساتھ ہی تقریباً 650 ارب روپے کے واجبات بھی اس کے حصے میں آئے ہیں۔ دونوں کا موازنہ کیا جائے تو بیلنس شیٹ پر تقریباً منفی 600 ارب روپے رہ جاتا ہے اور یہ منفی علامت اہم ہے۔ حتیٰ کہ اگر سرمائے کی اوسط لاگت کو محتاط انداز میں 10 فیصد بھی مان لیا جائے، تو اس پرانے بوجھ کو سنبھالنے کا مطلب ہے کہ حکومت کو ہر سال تقریباً 60 ارب روپے مالیاتی لاگت (سود وغیرہ) کے طور پرادا کرنا ہوں گے۔ نجکاری ہو یا نہ ، ماضی کی خرابیوں کی قیمت حکومت کو بہرصورت ادا کرنا ہوگی۔
آگے کی سمت
ایک بدگمان شخص ان اعداد و شمار کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ نجکاری صرف “ڈیک چیئرز کی ترتیب بدلنے” کے مترادف ہے۔ مگر یہ رائے بہت سخت ہے۔ یہ معاہدہ درست سمت میں پہلا قدم ہے: یہ آپریٹنگ ایئر لائن سے قرضوں کے بوجھ کا مسئلہ ختم کرتا ہے اور اسے ایسی نئی انتظامیہ کے حوالے کرتا ہے جس کے پاس کارکردگی دکھانے کی ترغیب موجود ہے۔
تو پھر وہ تقریباً 600 ارب روپے کے واجبات جن کا بوجھ حکومت پر اب بھی ہے ،ان کا کیا ہوگا؟ پہلا سبق یہ ہے کہ “سنک کاسٹ فیلسی” سے بچا جائے: ماضی کی غلطیوں کو آج کے بہتر فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ایئر لائن کو پرانے قرض کے بوجھ سے الگ کر کے معمول کے مارکیٹ ماحول میں کام کرنے دینا درست قدم تھا ،چاہے اس سے پرانا حساب ختم نہ بھی ہو۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ ریاست درحقیقت وسیع تر معیشت کی ایک طرح سے شیئر ہولڈر بنی رہتی ہے۔ جب کمپنیاں ترقی کرتی ہیں تو حکومت ٹیکس کے نظام کے ذریعے اس کا حصہ دار بنتی ہے: زیادہ تنخواہیں، زیادہ فروخت اور بالآخر زیادہ منافع ، یہ سب زیادہ ٹیکس آمدنی میں ڈھلتے ہیں۔ اس لیے نجکاری کے بعد بہترین صورتِ حال یہ نہیں کہ 600 ارب روپے فوراً غائب ہو جائیں، بلکہ یہ کہ ایک صحت مند ہوابازی کا شعبہ اتنی تیزی سے ترقی کرے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس بوجھ کی ادائیگی میں مدد دے سکے۔
میرے خدشات
پاکستان اس سے پہلے بھی نجکاری کر چکا ہے ، بینکنگ اس کی نمایاں مثال ہے ۔لیکن اس کے باوجود بعد کے برسوں میں ترقی کی رفتار بتدریج سست ہوتی رہی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نجکاری “ناکام” ہو گئی، بلکہ یہ ایک زیادہ سخت حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے: ملکیت کی تبدیلی اس وسیع تر ماحول کا نعم البدل نہیں بن سکتی جو سرمایہ کاری، مسابقت اور پیداواری صلاحیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہو۔ اس ایکو سسٹم کے بغیر نجکاری صرف ایک “لین دین” بن کر رہ جاتی ہے، کوئی “حقیقی تبدیلی” نہیں۔
پی آئی اے کی تقسیم نے درست منطق اپنائی: پرانے خراب قرضوں کو الگ کیا گیا اور پھر چلتے ہوئے کاروبار کی نجکاری کی گئی۔ لیکن یہی نظم و ضبط کہیں زیادہ اہم توانائی کے شعبے پر کیوں لاگو نہیں کیا گیا؟ وہاں بدانتظامی کی قیمت کو “سوشلائز” کر دیا گیا ہے ۔یعنی اسے ریاست کی بیلنس شیٹ پر شفاف انداز میں صاف کرنے کے بجائے گھریلو صارفین اور کاروباروں پر کمر توڑ بجلی کی قیمتوں کے ذریعے منتقل کر دیا گیا ہے۔
پی آئی اے کا تقریباً 600 ارب روپے کا مالیاتی خلا محض ایک اکاؤنٹنگ نمبر نہیں؛ یہ دہائیوں کی کمزور حکمرانی اور ناکام ادارہ جاتی اعصابی نظام کا باقی ماندہ اثر ہے۔ کیا یہ نظام بدلے گا؟ اصل سوال یہی ہے۔
(انگریزی سے ترجمہ)