مولانا صاحب کی شخصیت، اعتراضات کے آئینے میں

مولانا فضل الرحمن صاحب پر لگائے جانے والے الزامات دراصل پاکستان کی اس سیاست کا عکس ہیں جہاں شخصیات کو پورے سیاق و سباق کے بغیر پرکھا جاتا ہے۔ کسی بھی طویل سیاسی سفر کو چند جملوں میں سمیٹ دینا آسان ہوتا ہے، مگر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ مولانا کا عروج محض مزاحمتی سیاست کا نتیجہ نہیں بلکہ پارلیمانی جدوجہد، انتخابی سیاست، اتحاد سازی اور تنظیمی استقامت کا حاصل ہے۔ انہوں نے احتجاج کو ہمیشہ ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا، منزل کے طور پر نہیں، اور یہی فرق انہیں وقتی ابال سے الگ کرتا ہے۔

یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ لچک دار موقف اختیار کر کے انہوں نے باقی قیادتوں کو پس منظر میں دھکیل دیا۔

حالانکہ سیاست میں لچک کوئی اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ حالات کو سمجھ کر راستہ نکالنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ دینی سیاست کا ایک بڑا حصہ اگر آج بھی قومی سیاست میں موجود ہے تو اس کے پیچھے یہی حکمت عملی کارفرما ہے۔ جو جماعتیں اٹل نعروں کے ساتھ چلتی رہیں، وہ اکثر وقت کی گرد میں گم ہو گئیں۔

مشرف دور میں مولانا کی مخالفت اور ساتھ ہی ریاستی نظام میں موجودگی کو تضاد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ آئینی سیاست میں یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ آئین شکنی کی مخالفت کرنا اور اس کے باوجود پارلیمنٹ کے اندر رہ کر کردار ادا کرنا دراصل اسی سیاسی فہم کا اظہار ہے جسے بالغ نظری کہا جاتا ہے۔ سیاست دروازے بند کرنے کا نام نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود مکالمے کو زندہ رکھنے کا عمل ہے۔

ان کی سیاست کو جذباتی اور مذہبی قرار دیا جاتا ہے، مگر یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ مذہبی پس منظر رکھنے والا رہنما اگر اپنی زبان اور استعارے اسی ماحول سے لیتا ہے تو یہ فطری امر ہے۔ اس کے باوجود ان کا پارلیمانی کردار، آئینی نکات پر گفتگو اور قومی معاملات میں موقف یہ واضح کرتا ہے کہ جذبات کے ساتھ ساتھ دلیل بھی ان کی سیاست کا حصہ رہی ہے۔

مدارس کے حوالے سے انہیں نام نہاد محافظ کہنا بھی ایک آسان الزام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن، اسناد کی قانونی حیثیت، ریاست کے ساتھ مذاکرات اور دینی طبقے کو دیوار سے لگنے سے بچانے کی کوششیں ان کے سیاسی کردار کا نمایاں حصہ رہیں۔ اس پر اختلاف ہو سکتا ہے کہ مزید کیا ہونا چاہیے تھا، مگر سرے سے کردار ہی کا انکار حقیقت سے فرار ہے۔

جماعتی انتخابی نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، اور اس میں اصلاح کی گنجائش سے انکار نہیں۔ مگر جمعیت کا مزاج روایتی دینی جماعتوں جیسا ہے، جو مکمل طور پر جدید جمہوری ماڈل پر پورا نہیں اترتا۔ اس کے باوجود جماعت کے اندر اختلاف، مشاورت اور تنقید کی مثالیں موجود رہی ہیں، جو کسی فرد واحد کی آمریت کے تصور کو کمزور کرتی ہیں۔

خاندانی سیاست کا الزام بھی اکثر دہرایا جاتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں یہ رجحان عمومی ہے اور اسے صرف ایک شخصیت تک محدود کرنا دیانت دارانہ تجزیہ نہیں۔ اگر کوئی فرد عوامی تائید اور انتخابی عمل کے ذریعے آگے آتا ہے تو محض رشتہ اس کی نااہلی کا ثبوت نہیں بن جاتا۔ سیاست میں اصل فیصلہ بہرحال عوام ہی کرتے ہیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ پرانے دوست رخصت ہو گئے اور چاپلوس باقی رہ گئے۔ مگر سیاست میں رفاقتیں مستقل نہیں ہوتیں۔ اختلافات جنم لیتے ہیں، راستے جدا ہوتے ہیں، اور بعض اوقات وہی لوگ نئے کرداروں میں سامنے آ جاتے ہیں۔ اسے محض اخلاقی زوال کا نام دینا سیاسی فطرت کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔

ملاقاتوں اور ضیافتوں پر پیسے لینے جیسے الزامات اگر ثبوت کے بغیر ہوں تو وہ محض کردار کشی بن کر رہ جاتے ہیں۔ سنجیدہ سیاست الزام سے نہیں، دلیل اور شواہد سے سمجھی جاتی ہے۔

یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ مولانا ایک طرف اسٹیبلشمنٹ اور دوسری طرف عمران خان کے درمیان کھڑے ہیں۔ حالانکہ ان کی سیاست کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے طاقت کے ہر مرکز سے اپنے وقت پر اختلاف کیا۔

عمران خان سے مخالفت کسی پوشیدہ اشارے کا نتیجہ نہیں بلکہ طرز حکمرانی، پارلیمانی رویے اور سیاسی اسلوب پر اصولی اختلاف کا اظہار تھی، اب جب نون لیگ اور پی پی اسٹبلشمنٹ کی گود میں بیٹھی ہیں تو اس پر نقد بھی اسی اصولی موقف کا اظہار ہے۔

سیاست میں بسا اوقات دو شروں میں سے کونسا شر کم درجہ کا ہے اس کو اختیار کرنا ہوتا ہے تاکہ بڑے شر سے بچ سکیں .

جبکہ عام لوگ آئیڈیل ماڈل کو سامنے رکھ کر اس پر تنقید کرتے ہیں یہ زمینی حقائق سے نا واقفیت کی دلیل ہوتی ہے مولانا صاحب کی سیاست پر سطحی لوگ ہی تنقید کرتے رہتے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے