دسمبرجب بھی آتا ہے

اُردو کی حُزنیہ شاعری میں دسمبر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ہر شاعر نے دسمبر کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کہہ رکھا ہے۔ دسمبر کو جدائی کا پیمبر بھی کہا گیا ہے کیونکہ دسمبر کی سرد اور تند و تیز ہوائیں جب زرد پتوں پر حملہ آور ہوتی ہیں تو نحیف و ناتواں پتے شاخوں سے جدا ہو کر زمیں کا رزق بنتے ہیں۔اسی لئے بہت سے شعرا نے دسمبر کو بچھڑنے کی رُت سے بھی تعبیر کیا ہے۔ دسمبر کی لمبی راتوں میں یادوں کے لشکرجب انسانی دل ودماغ پر حملہ آور ہوتے ہیں تو کئی پرانے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔شعراء نے تو اپنی تخلیقات میں اپنے ذاتی المیوں کو دسمبر کے حوالے سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اہلِ پاکستان پر جو قومی سانحے قیامت بن کر ٹوٹے وہ بھی زیادہ تر دسمبر میں رونما ہوئے اس لئے ہم قومی حوالے سے بھی دسمبر کو جدائی کا پیمبر کہہ سکتے ہیں۔

مشرقی اور مغربی پاکستان میں پیدا ہونے والی تلخیاں آخر کار دسمبر 1971 میں دونوں ملکوں کی جدائی پر منتج ہوئیں۔آج بھی جب 16 دسمبر کا سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی حدّت سے لطف اندوز ہونے کی بجائے ہم اس کی تپش سے اپنے زخموں کو سہلاتے ہیں۔ دسمبر کے آتے ہی ڈھاکہ کے گلی کوچے ہمیں یاد آنے لگتے ہیں۔ وہ گلی کوچے جن میں ہمارے اجداد نے محبت کے پھول بکھیرے تھے لیکن انہیں گلی کوچوں سے ہم نے ایک دوسرے پر نفرت کے پتھر برسائے۔ یہ محبت نفرت میں کیوں تبدیل ہوئی اس سازش کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ تھا ہمیں معلوم تو ہو گیا لیکن اس مرض کی تشخیص میں ہم نے بہت دیر کر دی تھی۔ ہمارا دیرینہ دشمن اپنی چال چل چکا تھا۔

دسمبر 2007کی شام ایک دفعہ پھر ہمارے لئے عذاب بن کر اُتری۔جُدائی کی ایک اور شام جس شام کو لیاقت باغ 27 راولپنڈی کے میدان کو بھی پلٹن میدان ڈھاکہ کی طرح ہمارے لئے کرب و الم کی علامت بنا ڈالا گیا۔ دو دفعہ ملک کی وزیر اعظم رہنے والی خاتون بے نظیر بھٹو کو ہزاروں جاں نثاروں کی موجودگی میں گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ دسمبر 1971کو ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہمارے ارمانوں کا خون ہوا اور دسمبر2007کو لیاقت باغ کا میدان ملک کے لئے سیاسی جدوجہد کرنے والے لوگوں کے خون سے تر ہو گیا۔اس بار بھی ہمیں معلوم ہوگیا کہ گولی چلانے والوں کو ورغلانے والا کون ہے لیکن ہمارے صاحبانِ اقتدار اُن کا نام لینے کے لئے ابھی تک مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔

سال2009کا دسمبر شروع ہوتے ہی ہمارے دل میں خدشے پلنے شروع ہو گئے کہ کہیں اس سال کا دسمبر بھی دکھ کی کوئی سوغات لے کر نہ آ رہا ہو۔4 دسمبر کی شام نے اس خدشے کو یقین میں بدل دیا۔راولپنڈی کی پریڈ لین کی مسجدکا میدان بھی لیاقت باغ کے میدان کی طرح خون سے بھر دیا گیا۔مگر افسوس یہ ہے کہ اس بار ہماری تین نسلوں کو نشانے پر رکھا گیا۔ہمارے بزرگ، جن کے بوسے ہمارے گالوں پر جڑے ہوئے تھے،اُن کو نشانہ بنایا گیا۔ہمارے افسر اور جوان جو عزم وہمت کا پیکر تھے انہیں اس وقت للکارا گیا جب وہ اللہ کے حضور سر بسجود تھے اور ہماری تیسری نسل یعنی ہمارے بچوں کو اسوقت خون میں نہلایا گیا جب وہ اپنی پہلی اور دوسری نسل کی اقتدا میں محوِعبادت تھے۔یہ نسل ہماری وہ نسل تھی جسے ہماری زندہ روایات کا امین ہونا تھا۔لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہماری تینوں نسلوں کے نمائندوں نے ایک ہی وقت اور ایک ہی میدان میں خالی ہاتھ ہونے کے باوجود صف بہ صف لڑ کر بہادری اور شجاعت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا اور دوسری طرف بزدلوں نے مسجد کے آنگن میں نہتے اور مصروفِ عبادت نمازیوں کے جسموں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے بزدلی کے نئے ریکارڈ قائم کئے ۔

دسمبر2009 کی شام اہلِ لاہور پر قیامت بن کر ٹوٹی۔لاہور کی مون مارکیٹ میں خرید وفروخت میں مصروف عورتوں7 اور بچوں پر بارُود کی بارش برسا دی گئی۔50سے زیادہ لوگ شہادت کے رُتبے پر فائز ہوئے جبکہ 200سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔تاریخ میں اس سے قبل کسی ایسی جنگ کا تذکرہ نہیں ملتا جس میں کسی دشمن نے اس قدر بزدلی کا مظاہرہ کیا ہوکہ مسجدوں میں مصروفِ عبادت اور بازاروں میں خریدوفروخت کرتے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔جنگیں مسجدوں کے آنگنوں اور بازاروں کی گلیوں میں نہیں جنگ کے میدانوں میں لڑی جاتی ہیں اور آپس میں نبردآزما ہونے والے فریقین اسلحے سے لیس ہوتے ہیں۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک طرف اسلحہ بردار لشکری ہوں اور دوسری طرف خالی ہاتھ لوگ اور وہ بھی بوڑھے اوربچے۔

دسمبر2014 کو انسانی تاریخ کا بد ترین واقعہ آرمی پبلک سکول پشاورپر ہونے والا حملہ تھاجس میں132بچوں سمیت16 تقریباَ150 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔

بات دسمبر کے حوالے سے ہونے والی حُزنیہ شاعری سے شروع ہوئی تھی اس لئے بات کا اختتام بھی دسمبر کے حوالے سے لکھی گئی ایک نظم پر ہی کرتے ہیں۔

دسمبر جب بھی آتا ہے
تو یخ بستہ ہواؤں کا، وہ لشکر ساتھ لاتا ہے
جولشکر زرد پتوں کودرختوں سے جدا کر کے
زمیں پر لا گراتا ہے
بلندی سے یہ پستی کا سفر صدیوں سے جاری ہے
ہمیشہ زرد پتوں نے
بقا کی جنگ ہاری ہے
دسمبر جب بھی آتا ہے
تو اپنوں سے بچھڑنے کا سندیسہ لے کے آتا ہے
کسی شہرِسخن کی شاہ زادی کا بچھڑنا ہو
ہمارے دیس کے دو لخت ہونے کی کہانی ہو
کہ میدانِ سیاست کی کسی ملکہ نے
ہم سے رُوٹھ کر جانے کی ٹھانی ہو
تمہارے کوچ کر جانے کا قصہ ہو
کہ گاؤں سے مری نقل ِمکانی ہو
یہ سارے سانحے ہم پر دسمبر ہی میں گزرے ہیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے