کراچی ایسا شہر ہے جس کا ذکر سنتے ہی دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔ ہم بچپن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں ہر سال حیدرآباد سے کراچی جاتے اور خوب مزے کرتے تھے۔
یہ ہے لوگوں کا شہر کراچی
صبح کو نزلہ، شام کو کھانسی
کراچی کی لوکل بسوں میں ٹوفیاں بیچنے والے اکثر یہ شعر پڑھتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ٹوفیاں، جو گلے کی خراش کے لیے ہوتی تھیں، بک جاتیں۔ مجھے تو ہمیشہ سے کراچی پسند تھا اور آج بھی ہے۔
پھر وہ وقت بھی آیا جب ہمارے والد صاحب، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملازم تھے، کا تبادلہ کراچی ہو گیا اور ہم کراچی منتقل ہو گئے۔ کراچی میں ہمارا خاندان بھی رہتا ہے، اس لیے وہاں کی شادیوں میں بھی خوب جانا ہوتا اور بڑا مزا آتا۔ مایوں، مہندی کے فنکشن ہوتے اور شادیاں واقعی دیکھنے والی ہوتی تھیں۔
وقت گزرتا گیا۔ ہم حیدرآباد اور کراچی کے درمیان سینڈوچ بن گئے۔ کئی مرتبہ کراچی شفٹ ہوئے اور پھر کئی مرتبہ واپس حیدرآباد آنا ہوا، لیکن مجھے تو کراچی ہی پسند تھا اور میں ایک بار پھر کراچی جا پہنچا۔
کراچی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کو یہاں سے کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہر چیز اور ہر آسائش یہاں دستیاب ہے۔ بڑی بڑی سڑکیں، اونچی اونچی عمارتیں، بڑے بڑے شاپنگ مال، ریسٹورنٹس، گھومنے کے لیے بے شمار مقامات، میلے، ٹھیلے، ہفتہ بازار، مارکیٹیں، اور سب سے دلکش چیز جو اپیل کرتی ہے وہ سمندر ہے۔
سمندر کا یہ خاص تحفہ اللہ نے کراچی کو عطا کیا ہے، جس سے اس شہر کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ کراچی کی زندگی حیدرآباد اور دوسرے شہروں کے مقابلے میں یقیناً مشکل ہے، مگر جس چیز یا جگہ سے آپ کو محبت ہو تو راستے کی کوئی مشکل، مشکل نہیں رہتی۔
مجھے کراچی شہر سے عشق ہے۔ میں گھنٹوں لوکل بس میں کھڑے ہو کر سفر کر سکتا ہوں، بلکہ کرتا ہوں۔ مجھے تھکن بھی محسوس نہیں ہوتی بلکہ اچھا لگتا ہے۔
جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ مجھے کراچی شہر سے عشق ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک عاشق اپنے معشوق کی برائی سن لے۔ پچھلے دنوں ہماری پسندیدہ اداکارہ صبا قمر نے کراچی کے لیے جو جملہ استعمال کیا، وہ اچھا نہیں لگا۔ صبا قمر نے کہا:
“استغفراللہ، مجھے کراچی پسند نہیں۔”
اب اندازہ لگائیے کہ کراچی سے محبت کرنے والوں کو یہ جملہ کتنا برا لگا ہوگا، اور وہ بھی ایک خوبرو اداکارہ کے منہ سے جو آج چھوٹی اسکرین کی سپر اسٹار کا درجہ رکھتی ہیں۔ پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ صبا قمر کی ترقی میں کراچی شہر کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ بڑے شہر میں کام کرنے سے فنکار کی ترقی ہوتی ہے اور ترقی کے مزید دروازے کھل جاتے ہیں۔
ایک پروگرام میں سینئر اداکار نعمان اعجاز نے بھی نظامت کے دوران کہا تھا کہ کراچی کے مقابلے میں لاہور کے لوگ پہلے کھانے کا پوچھتے ہیں، اس کے بعد کام کی بات ہوتی ہے۔ بات یہ ہے کہ انسانوں کی طرح شہروں کے بھی اپنے مزاج ہوتے ہیں۔
سارے شہر ہمارے ہیں۔ ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا چاہیے۔ جس طرح بہت سی باتیں لاہور والوں کو کراچی والوں کی پسند نہیں، اسی طرح بہت سی باتیں کراچی والوں کو بھی لاہور والوں کی پسند نہیں ہوتیں۔ کراچی اور لاہور کی بحث تو ہوتی ہی رہتی ہے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ ایک غیر ضروری بحث ہے۔
ہاں، یہ ضرور ہے کہ ایک دوسرے کے شہر کو برا بھلا کہنے سے بلا وجہ فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جب ایک آدمی کو کسی شہر سے شہرت، عزت، کام اور نام ملے تو اسے اس شہر کا احترام بھی کرنا چاہیے۔
کراچی شہر کی بدنصیبی دیکھیے کہ یہاں کام کرنے والے شکایت بھی کرتے ہیں اور فائدہ بھی خوب اٹھاتے ہیں، اور یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی شہر ان کو نام، پیسہ، عزت اور شہرت دے رہا ہے۔
اسی طرح ہمارے حیدرآباد میں رہنے والوں کی اکثریت بھی کراچی شہر کو پسند نہیں کرتی۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید میں حیدرآباد میں واحد آدمی ہوں جو کراچی سے محبت کرتا ہے۔
آپ کسی بھی شہر سے محبت کریں، یہ آپ کا حق ہے، مگر کسی شہر کی برائی کرنا مناسب نہیں، خاص طور پر اس شہر کی جو منی پاکستان ہو اور ملک بھر میں رزق تقسیم کر رہا ہو۔
کراچی اس وقت آرٹ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ فلم اور ٹی وی انڈسٹری کا کام یہیں ہو رہا ہے۔ ملک بھر کے فنکار چاہتے ہیں کہ انہیں کام ملے، اور کام کراچی میں ملتا ہے۔ جہاں کام ملے، وہاں شکایت کیسی؟ یہ تو آپ کی اپنی چوائس ہے۔ آپ کام کی تلاش میں کراچی آ رہے ہیں، کراچی آپ کے پاس تو نہیں جا رہا۔
پچھلے دنوں ہمارے ایک اور پسندیدہ اور مشہور اداکار جان ریمبو، جن کا ڈراما گیسٹ ہاؤس ہم بچپن میں بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے، کا بیان بھی سامنے آیا کہ کراچی کے لوگ مہمان نواز نہیں ہیں۔ دراصل جان ریمبو بھی کام کے سلسلے میں کراچی شفٹ ہو گئے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں کسی نے انہیں ویلکم نہیں کیا، سوائے ان کے پرانے دوست اداکار سعود کے، جبکہ پنجاب میں وہ روزانہ پارٹی کیا کرتے تھے۔
میں جان ریمبو سے پوچھنا چاہوں گا کہ کراچی کے بارے میں آپ کو پہلے ہی معلوم ہوگا کہ یہاں لوگوں کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ یہ ممبئی کی طرح کا کمرشل شہر ہے۔ پھر آپ نے کراچی آنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اور اگر آپ آ ہی گئے ہیں تو شکر کیجیے، شکایت تو اللہ کو بھی پسند نہیں۔
یہاں کراچی اور لاہور کا کوئی مقابلہ نہیں ہو رہا۔ شہر تو سب اللہ کے ہیں، ان سے شکایتیں کیسی؟ ہمارے شہر حیدرآباد سے محمد علی اور مصطفیٰ قریشی فلموں میں کام کرنے کے لیے لاہور گئے۔ فلم انڈسٹری نے انہیں کام دیا، بے تحاشا نام دیا، اور بدلے میں انہوں نے بھی لاہور کی عزت کی، کبھی شکایت نہیں کی۔ تو لاہور کے فنکار ایسا رویہ کیوں رکھتے ہیں؟
کراچی کی بدقسمتی تو یہ ہے کہ سب اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، شہرت کما رہے ہیں، اور جب پوچھا جاتا ہے کہ کراچی کیسا شہر ہے تو جواب ملتا ہے: “استغفراللہ!”
پروین شاکر نے اپنی نظم کراچی میں درست کہا تھا:
کراچی ایک ایسی بیسوا ہے
جس کے ساتھ
پہاڑوں، میدانوں اور صحراؤں سے آنے والا
ہر سائز کے بٹوے کا آدمی
رات گزارتا ہے
اور صبح اٹھتے ہی
اس کے دائیں رخسار پر
ایک تھپڑ رسید کرتا ہے
اور دوسرے گال کی توقع کرتے ہوئے
کام پر نکل جاتا ہے
اگلی رات کے نشے میں سرشار