علماء کا منصب ہمیشہ سے امت کے لیے رہنمائی کا چراغ رہا ہے۔ ان کا اصل فریضہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا ہے، مگر آج کے پاکستان میں یہ سوال شدت سے ذہنوں میں گردش کرتا ہے کہ کیا ہمارے علماء واقعی اس ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں؟
عوامی سطح پر یہ سوال ایک کنفیوژن پیدا کرتا ہے، کیونکہ مختلف طبقات کے علماء مختلف رویے اور وابستگیاں رکھتے ہیں۔ کچھ مزاحمت کی علامت ہیں، کچھ اقتدار کے قریب، اور کچھ سوشل میڈیا کے شور میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تنوع نے عوام کو مزید الجھا دیا ہے کہ اصل حق پر کون ہے۔
اسلامی نظریہ کے مطابق عالم وہ ہے جو قرآن و حدیث پر عبور رکھتا ہو، امت کی رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہو، فتویٰ دیتے وقت قرآن و سنت سے استدلال کر سکے، تدریس میں منطقی انداز اپنائے اور سیاست میں قوم کو وقت کی ضرورت کے مطابق صحیح راستہ دکھا سکے۔ اس معیار کے بغیر عالم کا دعویٰ ادھورا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو علماء کی پہچان کے لیے ان کی تعلیم، کردار اور عملی تجربے کو پرکھنا چاہیے، نہ کہ محض شہرت یا سیاسی وابستگی کو۔
پاکستان میں علماء کے تین بڑے طبقات سامنے آتے ہیں۔
پہلا طبقہ وہ ہے جو حکومت کے خلاف کھڑا ہے اور عوام کو قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی نظام کے نفاذ کا روڈ میپ دیتا ہے، جیسے مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ ہے اور اکثر ان کی پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے، جیسے مفتی عبدالرّحیم، مفتی طارق مسعود اور علامہ طاہر اشرفی۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جو سوشل میڈیا پر شہرت پانے والے غیر روایتی افراد پر مشتمل ہے، جو خود انجینئر یا ڈاکٹر ہوتے ہیں اور علماء کو چیلنج کرتے ہیں، عوام کو باور کراتے ہیں کہ ترقی کی راہ میں علماء رکاوٹ ہیں۔
حق ہر دور میں موجود ہوتا ہے مگر اسے پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔ عوامی ذمہ داری ہے کہ وہ حق کو پہچاننے کے لیے علم، کردار اور تجربے کو معیار بنائیں۔ جس طرح مریض ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے اس کی تعلیم اور کردار دیکھتا ہے، اسی طرح عوام کو چاہیے کہ علماء کی تلاش میں بھی ان کی قابلیت اور عملی تجربہ کو پرکھیں۔
لاعلمی کی وجہ سے ہم حق کو پہچان نہیں پاتے اور سوشل میڈیا یا سطحی ذرائع سے مذہبی رہنمائی لینے لگتے ہیں۔
اصل عالم وہی ہے جو قرآن و حدیث کی بنیاد پر امت کی رہنمائی کرے اور باطل کے مقابلے میں حق کو واضح کرے۔