ایک اور سال خاموشی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ کیلنڈر کے صفحات بدلے، تاریخیں آگے بڑھیں، اور ہم سب ایک بار پھر وقت کے ہاتھوں پیچھے رہ گئے۔
سال کا اختتام ہمیشہ ایک عجیب کیفیت لے کر آتا ہےنہ مکمل خوشی، نہ مکمل غم، بلکہ ایک گہری سوچ، ایک رک کر پیچھے دیکھنے کی خواہش۔ یہ سال میرے لیے پچھلے سال سے مختلف تھا، کئی حوالوں سے بہتر بھی، اور کئی حوالوں سے زیادہ مشکل بھی۔
اگر سچ کہا جائے تو یہ سال زیادہ مسائل لے کر آیا۔ ذمہ داریاں بڑھیں، دباؤ زیادہ محسوس ہوا، اور زندگی نے بار بار یہ یاد دلایا کہ سکون کوئی مستقل شے نہیں۔ مگر انہی مسائل کے درمیان میں زیادہ متحرک رہا، زیادہ سیکھا، اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیداواری (productive) ثابت ہوا۔ شاید یہی زندگی کا تضاد ہے: جتنا بوجھ بڑھتا ہے، انسان اتنا ہی مضبوط ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اس سال کی سب سے بڑی سیکھ یہ نہیں تھی کہ کامیابی کیسے حاصل کی جائے، بلکہ یہ تھی کہ کامیابی اور ناکامی دونوں عارضی ہیں۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، اور دوسرے ہمارے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں، آخرکار سب کچھ وقت کے دھارے میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ آج جو بات بہت اہم لگتی ہے، کل وہ محض ایک یاد بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے قبول کرنا مشکل، مگر ضروری ہے۔
قدیم یونانی فلسفی ڈیو جینیز (Diogenes) سادگی اور حقیقت پسندی کا علمبردار تھا۔ وہ کہتا تھا:
“زندگی کو سمجھنے کے لیے اسے غیر ضروری خواہشات سے آزاد کرو۔”
اس قول میں ایک گہری حکمت چھپی ہے۔ ہم اپنی زیادہ تر تکلیفیں خود پیدا کرتے ہیں ، دوسروں سے موازنہ کر کے، غیر ضروری توقعات باندھ کر، اور ان چیزوں کے پیچھے بھاگ کر جن کا ہمارے اصل سکون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ سال مجھے یہی سکھا گیا کہ کم ہونا بعض اوقات زیادہ ہونے سے بہتر ہوتا ہے۔
زندگی کا ایک تلخ مگر سچا پہلو یہ ہے کہ مسائل کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ایک مسئلہ حل ہوتا ہے تو دوسرا سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ فلسفی شوپن ہاور نے زندگی کو “خواہش اور تکلیف کا مسلسل چکر” کہا تھا۔ اس کے مطابق انسان جتنا چاہتا ہے، اتنا ہی بے چین رہتا ہے۔ مگر اس بات کا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں، بلکہ حقیقت کو تسلیم کرنا ہے۔ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ دکھ زندگی کا حصہ ہے، تو ہم اس سے لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نیٹشے کی فکر ہمیں طاقت دیتی ہے۔ اس کا مشہور قول ہے:
“جس کے پاس جینے کی وجہ ہو، وہ تقریباً ہر تکلیف برداشت کر سکتا ہے۔”
اس سال میں نے یہ سمجھا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ زندگی میں دکھ کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس مقصد کے لیے اس دکھ کو برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ اگر مقصد واضح ہو، تو مشکلات راستے کی رکاوٹ نہیں بلکہ سفر کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ خوشی زندگی کا حتمی مقصد ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خوشی ایک لمحہ ہے، کوئی مستقل حالت نہیں۔ اگر ہم صرف خوشی کے پیچھے بھاگتے رہیں، تو آخرکار خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر ہم معنی (meaning) کے پیچھے جائیں چاہے وہ سیکھنا ہو، کچھ تخلیق کرنا ہو، یا خود کو بہتر بنانا ہو تو زندگی زیادہ قابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔
رومی فلسفی مارکس اوریلئیس، جو خود ایک بادشاہ بھی تھا، لکھتا ہے:
“اگر تم کسی چیز سے پریشان ہو، تو وہ چیز نہیں بلکہ اس کے بارے میں تمہارا خیال تمہیں پریشان کر رہا ہے۔”
یہ قول اس سال میرے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اکثر ہمارے مسائل حقیقت سے کم اور ہمارے ذہن کی پیداوار زیادہ ہوتے ہیں۔ جب ہم اپنی سوچ بدلتے ہیں، تو حالات وہی رہتے ہوئے بھی مختلف محسوس ہونے لگتے ہیں۔
سال کے اختتام پر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نہ یہ سال مکمل طور پر اچھا تھا، نہ مکمل طور پر برا۔ یہ بس ایک سال تھا زندگی کے سفر کا ایک مرحلہ۔ اس میں غلطیاں بھی تھیں، سیکھ بھی، تھکن بھی، اور کچھ خاموش کامیابیاں بھی جن کا شور کبھی نہیں ہوا۔
سب سے اہم بات جو میں نے سیکھی، وہ یہ ہے کہ آخرکار سب کچھ گزر جاتا ہے۔ خوشی بھی، غم بھی، مسائل بھی، اور وقت بھی۔ ہم خود بھی اس بہاؤ سے مستثنیٰ نہیں۔ اس لیے دوسروں کی رائے، وقتی ناکامی، یا عارضی کامیابی کو اپنی پہچان بنا لینا دانشمندی نہیں۔
اگر زندگی واقعی تکلیف سے خالی نہیں، تو اس کا حل یہ نہیں کہ ہم اس سے بھاگیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کوئی ایسی چیز تلاش کریں جو اس تکلیف کو معنی دے۔ کوئی ایسا کام، کوئی ایسا خواب، یا کوئی ایسا راستہ جو ہمیں یہ کہنے کا حوصلہ دے کہ یہ سب برداشت کرنا اس کے قابل ہے۔
نئے سال میں داخل ہوتے ہوئے میرے پاس کوئی بڑے دعوے نہیں، کوئی غیر حقیقی وعدے نہیں۔ بس ایک سادہ سا ارادہ ہے:
وہی کرنا جو مجھے اندر سے مطمئن کرے،
وہی برداشت کرنا جس کے پیچھے کوئی معنی ہو،
اور یہ یاد رکھنا کہ زندگی اگر دکھ ہے،
تو ہمیں خود فیصلہ کرنا ہے کہ ہم یہ دکھ کس کے لیے چن رہے ہیں۔
یہی اس سال کی سب سے بڑی کمائی ہے،
اور یہی نیا مضمون۔