فتحِ اندلس کے سالار طارق بن زیادکی ” کشتیاں جلانے ” کا واقعہ تاریخی حقیقت ہے یا افسانوی داستان، یہ سوال آج کے معاصر عرب محققین میں زیربحث ہے۔ اس موضوع پر ان کے بحوث ومقالات بھی موجود ہیں، اور "إحراق طارق بن زياد للسفن أسطورة لا تاريخ؟” کے نام سے شاید سال قبل ایک کتاب بھی دیکھی تھی۔
استاد جی مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہم اپنے سفر نامے "دنیا مرے آگے میں” اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کشتیاں جلانے کا یہ واقعہ آج کے دور کی تاریخوں میں تو بہت مشہور ہے لیکن فتح اندلس کے ابتدائی مستند مآخذ میں مجھے اس کا ذکر نہیں ملا۔ اندلس کے سب سے بڑے مورخ مقری نے فتح اندلس کا واقعہ بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن اس میں کشتیاں جلانے کا ذکر نہیں ہے، ابن خلدون اور طبری وغیرہ نے بھی اس کا ذکر نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے کہ طارق بن زیاد کا جو خطبہ آگے آ رہا ہے، اس کے ابتدائی الفاظ سے مورخین نے یہ نتیجہ نکالا ہو کہ طارق اپنی کشتیاں جا چکا تھا۔ واللہ اعلم ۔
استاد جی کی اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ عربی زبان میں "أحرقت السفن” بطور محاورہ اس معنی میں استعمال ہوتا کہ ہے کہ کہنے والے نےگویا واپسی کے تمام راستے مسدود کرکے پورے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور چونکہ واقعے کا تذکرہ پانچویں صدی ہجری تک کے مغربی مؤرخین، خصوصاً اندلس کی ابتدائی تاریخ لکھنے والوں کے ہاں نہیں ملتا، اس بنا پر یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے، دیگر بھی اس کے مویدات ہیں، تاہم بعد کے ادوار میں اس روایت کو ایسی غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ہے، کہ صرف اسلامی تاریخ ہی نہیں، طارق بن زیاد کے نام سے منسوب پہاڑ جبل طارق ، مغربی ادبیات میں بھی Gibraltar کے نام سے مشہور ہو گیا۔
اس بھی دلچسپ یہ کہ مشہور اسپینی سپہ سالا ہرنن کروتیس (Hernan Cortes) نے 1589 میں نسبتاً وہی اقدام کیا جو طارق بن زیاد سے منسوب کیا جاتا ہے، چنانچہ تاریخ میں ہے کہ وہ جب میکسیکو کے ساحل پر اترے، تو ان تمام کشتیوں کو جلا دینے کا حکم دیا جن پر اس کا لشکر اسپین سے آیا تھا۔ ظاہر بات ہے انہوں نے یہ اقدام طارق بن زیاد سے منسوب واقعے سے متاثر ہو کر کیا ہے۔
بہر حال اس کی تاریخی حیثیت جو بھی ہے، علامہ اقبال نے طارق بن زیاد کی طرف منسوب عربی خطبے کی جو شاعرانہ ترجمانی کی ہے، وہ مذکورہ تاریخی بحث سے بالاتر ہو کر خود کتنی خوبصورت ہے۔
طارق چوں برکنارۂ اندلس سفینہ سوخت
گفتند کار تو بہ نگاہ خرد خطا است
دوریم از سواد وطن، باز چوں رسیم؟
ترک سبب ز روئے شریعت کجا رواست
خندید و دست خویش بہ شمشیر برد و گفت:
ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست.
حقیقت یہ ہے کہ فتحِ اندلس اور طارق بن زیاد دونوں اسلامی تاریخ کی غیر معمولی داستانیں ہیں۔ فتح اندلس نے ہی اسلام کے لیے مغرب میں داخلے کا دروازہ کھولا، یورپ میں اسلامی اقتدار کا آغاز اسی فتح سے ہوا، ایسا اقتدار جو ساڑھے اٹھ سو سال پورے آب وتاب کے ساتھ یورپ کو علمی، ثقافتی اور تہذیبی ترقی سے روشناس کرتا رہا۔
قرطبہ بغداد کے بعد اسلامی خلافت کا دوسرا عظیم الشان مرکز بنا۔ اسلامی تہذیب وتمدن نے اندلس کو صنعت، تمدن، فنون لطیفہ اور ادبیات میں وہ مقام عطا کیا جس پر اہل عرب رشک کرنے لگے۔ اسلامی علوم کے ساتھ ہیئت، ریاضی، کیمیا، طب، نجوم، نباتات، جغرافیہ اور بے شمار صنعتی و فنی علوم نہ صرف یہاں روزمرہ زندگی کا حصہ بنے، بلکہ اس کے بانی ماہرین دنیا کو ملے، ابن طفیل، ابن باجہ ابن رشد ، ابن فلاح، المجریطی، ابن بیطار، المقری اور ابو القاسم الزہراوی سب اسی دور کے ثمرات ہیں۔
ادب کے میدان میں تیسری سے پانچویں صدی ہجری تک مغرب میں عربی نثر و نظم نے جو عروج دیکھا، اس کا موازنہ مشرقی ذخیرۂ ادب سے کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مغربی تخلیقی صلاحیت اور ادبی ٹیلنٹ کسی طرح کم نہ تھی۔ ابن عبد ربہ، ابن حیان، ابن سیدہ، ابن عربی، لسان الدین ابن الخطیب ، ابن زیدون، ابن حمدیس سب اسی ماحول کے پیداوار ہیں۔ عربی ادبیات کی تاریخ پر لکھی ہوئی کتابوں میں اس حوالے سے قابل استفادہ مواد موجود ہیں۔
اندلس کے انہی عالی دماغوں میں سے ابن حزم بھی ہیں، جو اسلامک اسپین کے نمایاں ترین فقیہ، مفکر، شاعر اور فلسفی گزرے ہیں، ان کے سیال قلم سے سینکڑوں کتابیں نکلیں، اصول فقہ میں کتاب الاحکام، النبذ، فروع میں المحلی، فرق وادیان میں الفصل اور ادب میں طوق الحمامہ ہے، اس کے علاوہ بھی ان کی کئی کتابیں مطبوع ہیں، مگر کہا جاتا ہے، ان کی کتابیں جلا دی گئیں ، مزاج میں شدت اور قلم میں تیزی تھی، ظاہری مذہب ہونے کے سبب فقہا کے خلاف ان کا قلم بہت تیز چلا، مشہور ہے: كان لسان ابن حزمٍ وسيف الحجّاج شقيقين، یعنی ابن حزم کی زبان اور حجاج کی تلوار گویا جڑواں تھیں۔
ہمارے سامنے عموما ان کی ابن حزم الفقیہ کی شخصیت ہوتی ہے، جبکہ وہ ابتدائی طور پر، منطق ، فلسفہ اور شعر وادب کے آدمی رہے ہیں، فقہ کی طرف تقریبا 26 سال کی عمر میں کسی خاص سبب سے متوجہ ہوئے ہیں، اس لیے علامہ ذہبی کی یہ حسرت بجا ہے کہ وہ فلسفہ ومنطق پر زیادہ کام کرتے تو اچھا ہوتا، ویسے عجیب تو ہے کہ فلسفی ہونے کے باوجود وہ ظاہری مذہب پر چلے ہیں، کچھ تعجب ہوتا ہے کہ فیلسوف کا عقلانی دماغ شرعی احکام میں ظاہری تشریحات پر کیسے قناعت کرسکا! حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات میں کہیں لکھا دیکھا ہے، کہ ابن حزم میں حزم نہیں ہے، استاد جی حضرت چشتی صاحب رحمہ اللہ اس کو خاص انداز میں سنا کر زوردار قہقہ لگاتے، فرماتے: حضرت تھانوی نے بات ہی ختم کردی! علامہ ذہبی نے بھی ان کی شخصیت کے اس پہلو کو زیر بحث لاتے ہوئے اسی مفہوم کے الفاظ استعمال کیے ہیں، : وأكثر معايبه – زعموا عند المنصف – جهله بسياسة العلم التي هي أعوص: یعنی اہلِ انصاف کے نزدیک ان پر جو امور بطورنقص ذکر کیے گئے ہیں، ان میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ وہ علم کی اس نزاکت آمیز سیاست سے پوری طرح واقف نہیں، جو اپنی نوعیت میں نہایت دقیق اور حساس ہے۔
بہر حال، وہ تاریخ اسلامی میں واحد فقیہ ہیں، جنہیں نے "فلسفہ حب” اور "فلسفہ موسیقی” پر باقاعدہ لکھا، ان کی تصنیف "طوق الحمامہ” غیر معمولی نوعیت کی کتاب ہے، فلسفیانہ ادب میں ڈھلی ہوئی ایسی شاہکار، جس کی ادبی چاشنی ، ساحرانہ اسلوب، نثر ونظم کی خوبصورتی سبھی قاری کے لیے مسحور کن ثابت ہوتے ہیں، اس پر مستزاد وہ قصص وواقعات جو پڑھتے ہوئے اندلس کے معاشرتی اور سماجی تقالید اور وہاں کی ثقافت کا عکس سامنے لائے۔
بندہ کے محدود مطالعے کی حد تک یہ پہلی کتاب ہے، جس میں محبت کو ایک علمی قضیے کو طور پر پیش کرکے اس اطراف وابعاد، اس کے حدود اربعہ اور اس کے انواع واقسام سے بحث کی گئی ہے۔ محبت کے رومانوی اور روحانی پہلوؤں کو بیان کیا ہے، اس کے اسباب، نفسیات اور درجات ذکر کیے ہیں۔ان کے بعد تو علامہ ابن القیم نے "روضہ المحبین” کے نام سے اس موضوع پر تفصیل سے لکھا، قریب کے زمانے میں مصر کے معروف محقق احمد تیمور باشا نے "الحب عند العرب” کے نام سے لکھا! ان تینوں نے محبت کو بطور فن موضوع بحث بنایا، ورنہ ایک نوع تو ان کتابوں کی بھی ہے ، جن میں محبت رنگ بن کر بکھرتی ہے، یا غزل بن کر بولتی ہے، ابیات واشعار میں سانس لیتی ہے، یا پھر قصوں کہانیوں میں جیتی جاگتی نظر آتی ہے۔ ابو الفرج الاصفہانی کی "الاغانی” اور داود ظاہری کے صاحبزادے احمد بن داود کی "الزہرہ” اسی نوعیت کی ہے، یہ وہ کتابیں ہیں، جن میں محبت کو سمجھایا نہیں جاتا، بلکہ محسوس کروایا جاتا ہے۔
فطری محبت کو اکثر حضرات نے ایجابی معنی میں لیا ہے، اسی لیے عشق کے لفظ کو محبت کےلیے استعمال کرنے کی بھی بعض حضرات نے اجازت نہیں دی ہے، وہ کہتے ہیں عشق محض مرض ہے،علامہ ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد علامہ ابن القيم اسی لیے اللہ تعالی اور ان کے رسول ﷺ کی محبت کےلیے عشق کے لفظ کے استعمال کو درست نہیں مانتے، اس سلسلے میں جس روایت سے ابن حزم استدلال کرتے ہیں ، "من عشق فعف فمات فهو شهيد” اس کو بھی رد کرتے ہیں، اگر چہ محدث شیخ احمد بن صدیق الغماری نے اس روایت پر "درء الضعف عن حديث من عشق فعف” کے نام سے رسالہ لکھ کر اس کا اثبات کیا ہے۔
بہر حال "طوق الحمامة” اپنی نوعیت کی نہایت ہی خوبصورتو بلند پایہ ادبی کتاب ہے۔ یہ محض محبت کے قصوں یا جذباتی کیفیات کا مجموعہ نہیں ہے ، بلکہ ابن حزم جیسی حب وتدلل میں پلی ہوئی شخصیت کی جانب سے محبت کے احوال، نفسیاتی کیفیات اور انسانی تجربات کا ایسا مطالعہ ہے جو ادب، فن اور مشاہدہ انسانی تینوں کو باہم سمیٹ لیتا ہے۔ کتاب کا اسلوب چونکہ کسی حد تک فلسفیانہ، تحلیلی اور دقیق ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی زبان عربی ادب کی اس سطح سے تعلق رکھتی ہے جس سے وہی حضرات پوری طرح لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو عربی زبان و ادب سے گہری واقفیت رکھتے ہوں، اس لیے یہ کتاب اپنی اصل صورت میں عام اردو خوان طبقے کے لیے آسانی سے قابل فہم نہیں رہتی۔
اس لیے بجا طور پر ضرورت تھی کہ اس کتاب کے مباحث کو اردو داں طبقے کے قریب لانے کے لیے کوئی سلیس اور رواں ترجمہ سامنے آئے ، جو محض مفہوم کو نہیں، اصل کتاب کے ذوق، اور ادبی شان کو بھی برقرار رکھ سکے۔ اللہ تعالیٰ مولانا اسد مشہدی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے یہ وقیع علمی خدمت انجام دی۔ یہ وقیع علمی خدمت اس لیے ہے کہ یہ محض ترجمہ نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اور ادبی فاصلے پاٹنے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہے۔
مولانا خود بھی معتبر علمی نسبتوں کے حامل، صاحب ذوق ، علم و ادب کے خوگر ہیں۔ کتاب وقلم کے آدمی ہیں، مترجم میں عربی متون سے شناسائی اور اردو اسلوب پر قدرت ہو، تو اس نوعیت کا ترجمہ محض لفظی نقل نہیں رہتا، بلکہ اس سے بلند ہو کر خود ایک ادبی متن بن جاتا ہے۔ موجودہ دور میں، جب کہ اس نوعیت کی سنجیدہ ادبی اور فکری کتابیں نہ صرف کم پڑھی جاتی ہیں بلکہ کم ہی ترجمہ کے لیے منتخب ہوتی ہیں، ایسے میں اس کتاب کا انتخاب، پھر اس پر محنت، اور اس کے بعد اس کو رواں، شستہ اور قابل فہم ترجمے کی صورت میں پیش کرنا بلاشبہ کارے دارد ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس نوعیت کی کاوشیں نہ صرف اردو ادب کے سرمائے میں اضافہ ہیں، بلکہ علمی روایت کی ایک خاموش خدمت بھی ہیں، اس لیے اس نوعیت کے کاموں کی بھر پور حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔