شبنم مناروی، جن کا اصل نام ملک محمد حسین تھا، اردو ادب کے ان شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں ادب اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو یکجا کیا۔ وہ ایک طرف انجینئرنگ کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتے تھے، تو دوسری طرف اردو شاعری میں اپنی سادہ، خلوص بھری اور فکری نظموں کے ذریعے یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت، ان کا کلام اور ان کی ادبی خدمات ایک ایسا سرمایہ ہیں جو آج بھی ادب دوستوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان کی زندگی، شخصیت، ادبی خدمات اور یادگار کلام کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ ان کی ادبی اور انسانی قدروں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
منارہ ضلع چکوال کی یونین کونسل ہے، جو تحصیل کلر کہار کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ بستی چھوٹی ضرور ہے مگر معنویت سے بھرپور ہے۔ یہاں کی مٹی دیہی زندگی کی خوشبو، کھیتوں کی سرسبزی اور پرانے درختوں کی چھاؤں میں وقت کی ٹھہری ہوئی کیفیت کو اپنے اندر سموئے رکھتی ہے۔ چکوال اپنی تاریخ، ثقافت اور مضبوط سماجی رشتوں کے لیے مشہور ہے، اور منارہ اسی منظرنامے کا ایک دلکش اور لازمی حصہ ہے۔
یکم جون 1940 کو اسی بستی میں ملک محمد حسین پیدا ہوئے بعد میں انہوں نے "شبنم مناروی” کے قلمی نام سے شہرت حاصل کی۔ یہ نام نہ صرف ان کے گاؤں کی نسبت کو زندہ رکھتا ہے بلکہ ان کی ادبی شناخت کا بھی حصہ بن گیا۔
شبنم مناروی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں اور ضلع چکوال میں حاصل کی۔ بعد ازاں وہ راولپنڈی منتقل ہوئے۔ تعلیم کے دوران ہی ان کی دلچسپی ادب اور شاعری کی طرف بڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں ادب کو کبھی پسِ پشت نہیں ڈالا۔
راولپنڈی میں شبنم مناروی نے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو آگے بڑھایا بلکہ ادبی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ وہ حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری رہے، جو اردو ادب کی تاریخ میں ایک معتبر ادارہ مانا جاتا ہے۔ اس حیثیت سے انہوں نے ادبی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حلقہ اربابِ ذوق کی محفلیں شبنم مناروی کی موجودگی سے مزید فعال ہوئیں۔ بعد میں مظہر الاسلام، رشید امجد اور دیگر نامور ادیبوں نے اس روایت کو آگے بڑھایا، لیکن شبنم مناروی کا نام اس سلسلے میں ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔
شبنم مناروی بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ ان کے تین شعری مجموعے خوابِ حیات، پانی پہ بہتا پھول اور پنکھڑی اور کائنات ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔
– خوابِ حیات: اس مجموعے میں زندگی کے خواب اور انسانی احساسات کی باریکیاں جھلکتی ہیں۔
– پانی پہ بہتا پھول: فطرت کی خوبصورتی اور وقت کی ناپائیداری کو اس مجموعے میں بیان کیا گیا ہے۔
– پنکھڑی اور کائنات: اس مجموعے میں کائنات کی وسعت اور انسانی وجود کی نازکی کو نظموں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔
ان کے کلام میں ایک سادگی، ایک خلوص اور ایک دیانت داری ہے جو ان کی شخصیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے کلام میں وہ خلوص اور سچائی ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا کے معتبر ادبی جریدے اوراق میں بھی ان کی نظمیں شائع ہوئیں۔ یہ اشاعت نہ صرف ان کے تخلیقی اظہار کی پذیرائی تھی بلکہ ان کی شاعری کو سنجیدہ قارئین اور ناقدین تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنی۔ یوں ان کی ادبی شناخت مزید مستحکم ہوئی اور ان کے فن کو ادبی حلقوں میں ایک معتبر مقام حاصل ہوا۔ اوراق جیسے جریدے میں شمولیت نے ان کے شعری سفر کو نئی جہتیں عطا کیں اور انہیں معاصر ادب کے منظرنامے میں نمایاں کر دیا۔
پیشہ ورانہ زندگی انہیں سعودی عرب لے گئی، جہاں انہوں نے بھارتی ناول نگار اور سرمایہ دار صلاح الدین پرویز کے ادارے میں خدمات انجام دیں۔ اسی دوران نقاد سراج منیر بھی ان کے رفیقِ کار رہے۔ ادبی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ شبنم مناروی نے صلاح الدین پرویز کو نظم نگاری میں مدد فراہم کی، اگرچہ اس کی قطعی تصدیق ممکن نہیں۔ یہ بات بہرحال ان کے ادبی اثر و رسوخ کی نشانی ہے کہ ان کا نام ایسے مباحث میں شامل رہا۔
ستیہ پال آنند نے شبنم مناروی کو ہمیشہ ایک مخلص دوست اور ہمدرد انسان کے طور پر یاد کیا ہے۔ ریاض میں قیام کے دوران جب وہ اپنے آبائی وطن کوٹ سارنگ کی یاد میں بے قرار تھے، تو شبنم مناروی ہی تھے جنہوں نے انہیں یہ خوشخبری دی کہ معروف شاعر علی محمد فرشی کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔ یہ معلومات ستیہ پال آنند کو برسوں بعد اپنے گاؤں کی یادوں سے دوبارہ جوڑنے کا ذریعہ بنی۔
شبنم مناروی نہایت شریف النفس، سادہ لوح اور ملنسار انسان تھے۔ ان کی شرافت اور سادگی کو ان کے ہم عصر ہمیشہ یاد کرتے ہیں۔ سعودی عرب سے واپسی پر وہ راولپنڈی کے شالیمار ریسٹورنٹ میں اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے، جہاں رشید امجد، منشا یاد، فتح ملک اور دیگر ادیبوں کے ساتھ ان کی محفلیں سجتی تھیں۔
شبنم مناروی کا انتقال 20 اکتوبر 2004 کو سعودی عرب میں ہوا۔ ان کی یادیں اور کلام آج بھی زندہ ہیں۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے پردیس میں رہ کر اردو کی شمع روشن رکھی اور اپنی نظموں کے ذریعے احساسات کو زندہ رکھا۔
نمونہ کلام
– ہم اپنے آپ سے آگے گزر جاتے تو اچھا تھا (غزل)
– پھولوں کے روبرو تھا ستاروں کے سامنے (غزل)
– دائروں کی فصیلوں سے ڈرتے ہو (نظم)
– ڈوبتی کرنیں (نظم)
– نارسائی (نظم)
ان کے کلام میں فکر و احساس کی گہرائی جھلکتی ہے۔ ان کی غزلیں اور نظمیں انسانی جذبات، فطرت کی خوبصورتی اور وقت کی ناپائیداری کو بیان کرتی ہیں۔
محمد ثاقب فاروق اعوان نے اپنے مقالے "شبنم مناروی کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ” میں ان کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ مقالہ رسالہ روشن آراء (علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد) میں شائع ہوا۔ اس مطالعے میں شبنم مناروی کی نظم و غزل کے فکری و فنی پہلوؤں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار کے مطابق شبنم مناروی نے اردو ادب کے فروغ میں بالخصوص پردیس میں نمایاں کردار ادا کیا اور اپنی سادہ، خلوص بھری اور فکری شاعری کے ذریعے اردو زبان کو نئی جہتیں عطا کیں۔
شبنم مناروی کی زندگی اور شاعری ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ادب صرف بڑے ناموں کا محتاج نہیں ہوتا۔ سادہ دل، مخلص اور خلوص بھری شخصیت رکھنے والے شاعر بھی ادب میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ شبنم مناروی نے اپنی نظموں اور غزلوں کے ذریعے اردو ادب کو ایک نئی جہت دی اور پردیس میں رہ کر اردو کی شمع روشن رکھی۔ ان کی شخصیت کی شرافت، ان کے کلام کی سادگی اور ان کی ادبی خدمات انہیں اردو ادب کی تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔
(شکریہ: جناب مرزا حامد بیگ)