پچھلے کالم میں راقم نے جرگہ کی اہمیت کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا بلکہ اس تاریخی مصالحتی نظام میں وقت کے ساتھ رونما ہونے والی منفی تبدیلیوں اور عدل و انصاف کی فراہمی کے حوالے سے خامیوں اور ان کے مضر اثرات کو واضح کیا تھا۔ تاہم، پورا نقطہ نظر سمجھے بغیر ہی بعض افراد نے جرگے کے محض کتابی فضائل بیان کرتے ہوئے زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کیا اور نظام انصاف (عدلیہ) کے کردار کو مشکوک ظاہر کیا۔ اس لئے ضروری سمجھا کہ ایک مزید کالم کے ذریعے حقائق پیش کیے جائیں۔
بے شک تب تک جرگہ فوری اور سستے انصاف کا مقامی ذریعہ تھا جب تک باقاعدہ ریاستی نظام انصاف قائم نہیں ہوا۔ لیکن جب ریاستی سرپرستی میں منظم عدالتی نظام قائم ہو گیا، تو جرگہ کا کردار محدود ہو گیا کیونکہ ریاستی عدالتیں زیادہ قابل اعتبار، شفاف، اور معاشرتی دباؤ یا طاقتور وڈھیروں کے اثرات سے محفوظ ہیں۔
نظام انصاف میں موجود خامیوں کو “مہنگے انصاف” کے تناظر میں جرگے کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرنا منطقی طور پر درست نہیں۔ اگر مراد رشوت ہے تو اس میں قصور صرف لینے والے کا نہیں بلکہ دینے والے کا بھی ہوتا ہے۔ اور اگر رشوت نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاستی اہلکاروں کی نیت پر شک کیا جا سکتا ہے، تو غیر منظم جرگہ داروں کی نیت پر کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
راقم نے تجاویز پیش کی تھیں کہ
جرگہ پولیس افسران یا ریاستی نمائندوں کی نگرانی میں ہو تاکہ وڈھیرے یا طاقتور افراد کسی کو سماجی یا معاشرتی دباؤ میں نہ لا سکیں۔
صحافتی نمائندگی موجود ہو تاکہ کسی مظلوم کو انصاف سے محروم نہ کیا جا سکے۔
جرگے کی حدود معاملات کی نوعیت کے مطابق واضح ہوں۔
مثال کے طور پر: قتل، اغوا، خواتین یا بچوں پر جنسی و جسمانی تشدد جیسے حساس معاملات پر جرگہ انصاف فراہم نہیں کر سکتا اور آئینی طور پر بھی ناقابل قبول ہے۔ ایسے معاملات میں آرٹیکل 4، 10-A، 14، 25، 34، اور 35 آئین پاکستان شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحت منصفانہ اور شفاف ٹرائل کا حق دیتے ہیں۔
البتہ زمین، لین دین، رشتوں کے تنازعات اور دیگر غیر حساس معاملات جرگے کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
جرگہ مختلف علاقوں کے رسوم و رواج کے مطابق ہوتا ہے۔ سندھ، بلوچستان، پنجاب، اور خیبرپختونخواہ میں جرگے کے طریقے مختلف ہیں۔ لہذا راقم کی بیان کردہ خامیاں صرف ہزارہ اور مانسہرہ کے بالائی علاقوں کے تجربے کی بنیاد پر ہیں۔ ممکن ہے دیگر علاقوں میں جرگہ ان خامیوں سے پاک ہو یا مختلف خامیاں ہوں، جو مقامی لوگ بیان کر سکتے ہیں۔
راقم کے مشاہدات کے مطابق ہزارہ اور مانسہرہ میں جرگے کے فیصلے اکثر طاقت ، رشتہ داری ، سیاسی یا سماجی اثرات کے تابع ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کمزور فریق انصاف کے بجائے ناانصافی کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں جرگہ آئین اور قانون کی راہ مسدود کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
کتابی فضائل کی بنیاد پر جرگے کی حمایت کرنے والے حضرات اگر حقیقی مثال پیش کر دیں، کہ کسی قتل، زیادتی یا دیگر سنگین جرم میں جرگے نے مظلوم کو انصاف فراہم کیا ہو، تو راقم اپنی رائے بدلنے کو تیار ہے۔ تب تک، راقم کے لیے جرگہ، حدود و قیود کے تعین اور سرپرستی کے بغیر عملی طور پر معاشرتی انصاف کے لیے ناقابلِ اعتماد ہے۔