پاکستانی کرکٹ: نوجوانوں کا مستقبل اور زمینی حقائق

اگر میں اپنی یادداشت پر زور دوں تو 1992ء کی بات ہے، جسے آج 2025ء میں ہوبہو لکھنا تو مشکل ہے مگر اتنا یاد ہے کہ بابا نے ریڈیو لگایا ہوا تھا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے فائنل یا سیمی فائنل کے بارے میں کچھ تذکرہ ہو رہا تھا۔ بابا ایک پریکٹیکل آدمی تھے، میں نے انہیں پہلی دفعہ کرکٹ میں اس طرح دلچسپی لیتے دیکھا تھا۔ باہر غالباً بارش ہو رہی تھی اور مجھ سے بڑے بھائی حلیم شاہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئے تھے کیونکہ بابا بیٹھے تھے۔

مجھے زیادہ کچھ سمجھ تو نہیں آ رہا تھا لیکن حلیم شاہ، جو شروع سے ہی ‘مشروت ہیں پشتو میں ہم ایسے بچے یا بندے کو ‘مشروت’ کہتے ہیں جو ذرا تیز، شاطر کیوٹ شرارتی ٹائپ کا ہو وہ بابا کے ساتھ ہار جیت پر کچھ بات چیت کر رہے تھے۔

حلیم شاہ بھائی کی شرارتوں کا یہ عالم تھا کہ ہمارے گاؤں میں ایک ڈاکٹر صاحب تھے جو ذرا اونچا سنتے تھے۔ حلیم شاہ نے ایک دن ان کے بالکل کان کے قریب جا کر بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا کہ "ڈاکٹر صاحب! کیا آپ واقعی بہرے ہیں؟” اسی طرح کا ایک اور شرارتی واقعہ مجھے یاد ہے کہ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے اور سب دسترخوان پر کھانا کھا رہے تھے۔ حلیم شاہ نے عین کھانے کے دوران ایک مہمان کی طرف دیکھ کر بڑے دھڑلے سے کہہ دیا کہ "گوشت تو سارا تم کھا گئے!”، بیچارے مہمان کے حلق میں لقمہ پھنس گیا اور وہ ہکا بکا رہ گیا۔ حلیم شاہ بھائی پر میں ایک دن ضرور پورا کالم لکھوں گا، کیونکہ ان کے بارے میں والدہ صاحبہ اکثر فرماتی ہیں کہ اس کی شخصیت ایسی ہے جیسے دونوں ماں باپ۔ سچ پوچھیے تو وہ صرف نام کے ہی ‘حلیم’ نہیں بلکہ واقعی صبر کا پیکر اور پورے خاندان کی جان ہیں۔ دوسروں کے لیے ہو نہ ہو، میرے لیے تو وہ واقعی ماں باپ دونوں کی جگہ رکھتے ہیں۔ بہرحال، حلیم شاہ بھائی پر کالم لکھ کر ہی قلم کی پیاس بجھے گی، فی الوقت واپس کرکٹ کی طرف آتے ہیں۔

یہ ایک فطری امر ہے کہ زندگی میں انسان کسی نہ کسی کھیل کے ساتھ وابستہ ہو ہی جاتا ہے۔ مجھے بھی ایسا ہی لگاؤ کرکٹ، بالخصوص فاسٹ باؤلنگ کے ساتھ ہوا۔ اور لگاؤ کیوں نہ ہوتا جب بابا جیسے پریکٹیکل آدمی بھی 92 کے ورلڈ کپ کے سحر سے نہ نکل سکے، جو کرکٹ کو کبھی توجہ نہ دیتے تھے تو مجھ جیسے بچے کا کرکٹ کی طرف آنا ایک قدرتی سی بات تھی۔ وقار یونس کو دیکھ کر مجھے بھی ان کی طرح باؤلنگ کرنے کا شوق ہوا۔ گاؤں میں تو پہاڑوں میں کھیلتے تھے مگر اسلام آباد شفٹ ہونے کے بعد ہارڈ بال کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ ہم آئی ٹین (I-10) میں رہتے تھے اور اظہر محمود ہمارے پڑوس میں رہتے تھے۔ 98ء میں پنڈی میں ساؤتھ افریقہ کے خلاف پہلے ہی ٹیسٹ میں انہوں نے دونوں اننگز میں سینچریاں اسکور کر ڈالیں۔ جس گراؤنڈ میں وہ کھیلتے ہوئے ٹیم میں گئے تھے، وہاں میں بھی کھیلتا تھا۔ اسی دوران مجھے ان کو باؤلنگ کرانے کا موقع ملا۔

میں اس وقت ٹین ایجر تھا؛ میں نے اپنی جاندار باؤلنگ سے ان کو متاثر کیا اور ایک دفعہ انہوں نے کہا کہ اگر میں محنت کروں تو ٹیم میں جا سکتا ہوں۔ یہ بات مجھے بالکل دیوانہ کر گئی اور میں صبح شام کرکٹ کھیلنے لگ گیا۔

میٹرک میں، میں اپنی ٹیم کا کیپٹن تھا۔ اسلام آباد لیگ کھیلی۔ اسی سال اسلام آباد کی انڈر 19 کے لیے ٹرائلز دیے اور میں سلیکٹ ہو گیا۔ مگر اسی دوران بابا کا دھیان میری طرف گیا کہ میں کرکٹ میں بہت زیادہ وقت ضائع کر رہا ہوں۔

انہی دنوں کا ایک واقعہ ابھی تک ذہن میں نقش ہے کہ ایک دن میں فجر پڑھ کر صبح 6 بجے گراؤنڈ میں ٹینس میچ کھیلنے گیا ہوا تھا۔ والد صاحب اپنی 1993ء ماڈل کی مٹسوبیشی پجیرو میں آئے، سر پر پشتونوں کی روایتی پگڑی (پاکول) پہنے ہوئے تھے۔ ان کی نیلی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں۔ گاڑی میرے پاس رکی اور کچھ دیر گھورنے کے بعد وہ چلے گئے۔ اگلا واقعہ جمعے کا ہے کہ میں نے اسکول سے چھٹی لی اور میچ کھیلنے چلا گیا۔
جمعے کی نماز پڑھ کر والد صاحب نکلے تو انہوں نے مجھے دیکھ لیا۔ انہوں نے مجھے گھر بلایا اور میری اچھی خاصی چھترول کی۔ پھر نصیحت کی کہ "بیٹا پڑھو! کرکٹ ساری زندگی کھیلتے رہو گے، لیکن اگر اب پڑھائی نہیں کرو گے تو بعد میں نہیں پڑھ پاؤ گے۔”

سچ پوچھیے تو مجھے مار سے زیادہ نصیحت دل پر لگی۔ اسی دن میں نے کرکٹ کو خدا حافظ کہہ دیا اور اپنی پڑھائی پر توجہ دی۔ میٹرک میں 850 میں سے 649 نمبر آئے اور پری میڈیکل میں داخلہ لیا۔ والد صاحب نے کیا خوب نصیحت کی تھی! اس بات کو آج 29 سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے، جہاں کہیں کرکٹ دیکھی، کھیل لی، لیکن اسے کبھی کیریئر نہیں بنایا۔ میری نئے نوجوان نسل کو وہی نصیحت ہے کہ کرکٹ سارے عمر کھیلی جاسکتی ہے مگر پڑھائی ایک دفعہ چھوٹ جائے پھر بہت مشکل۔

اس سارے تناظر میں میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ کرکٹ کو بطور ہوبی رکھا جائے مگر اسے پاکستان جیسے ملک میں پیشہ نہ بنایا جائے۔ پاکستانی نوجوانوں کی پڑھائی تباہ کرنے میں کرکٹ نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا میں جتنی کوریج کرکٹ کو دی جاتی ہے اس میں بھی کمی ہونی چاہیے۔ بعض اوقات میں سینئر کھلاڑیوں کی گفتگو سنتا ہوں جس میں بدزبانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، اس سے سننے والے کرکٹرز ایگریسو ہونے کو فخر سمجھتے ہیں۔

جہاں تک کرکٹ اور پڑھائی کے توازن کا تعلق ہے، تو کرکٹ ایک کل وقتی کام ہے، آپ کو اپنی زندگی کرکٹ کو دینی پڑتی ہے، ورنہ دوسرے آپ سے آگے نکل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان قیمتی سال کرکٹ کو دے دیتے ہیں اور ان پڑھ رہ جاتے ہیں۔ آپ پاکستان ٹیم کو دیکھ لیں، وہاں 95 فیصد کھلاڑی ان پڑھ ہیں۔ اس لیے "اسٹوڈنٹ ایتھلیٹ ماڈل” (Student-Athlete Model) اپنانا چاہیے تاکہ تعلیم لازمی قرار دی جائے۔

علاوہ ازیں کرکٹ کے مسائل پر بات کی جائے تو میدانوں کی ابتر حالت، انجریز کا خطرہ اور چھوٹے لیول پر جوا یا بیٹنگ نے نوجوانوں کی زندگی تباہ کر دی ہے۔ آپ پاکستان ٹیم کی تاریخ دیکھ لیں، وہ فکسنگ کے داغوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہمیں اگر واقعی کرکٹ میں استقامت دکھانی ہے تو ڈومیسٹک کرکٹ کو ترتیب دینا ہوگا۔ پاکستانی ٹیم کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ ایک خطرناک مگر ایوریج ٹیم ہے جو کسی بھی وقت حیران تو کر سکتی ہے لیکن مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔

حرفِ آخر یہ کہ پاکستان 25 کروڑ سے زائد لوگوں کا ملک ہے۔ لوگوں کے جذبات سے کھیلنے سے بہتر ہے کہ کھلاڑیوں کے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کرکٹ میں تُکے کی بنیاد پر کھیلتا ہے۔

اگر ملک میں ہاکی سمیت دیگر کھیلوں کی طرف بھی دھیان دیا جائے، تو نوجوانوں کو ان منفی اثرات سے بچایا جا سکتا ہے جن میں تیزی سے مبتلا ہو رہے ہیں کیونکہ یہ ملک کے مستقبل کی بات ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے