منصب فتوی کی نزاکت
فتوی محض علمی واجتہادی رائے کا اظہار نہیں ہے، نہیں یہ صرف کسی مسئلے کی تحقیق و تنقیح ہے، بلکہ ایک نہایت حساس، نازک ذمہ داری ہے، مفتی منصب شارع پر نمائندہ کی حیثیت سے جلوہ افروز ہوکر گویا حکم خداوندی پر دستخط کر رہا ہوتاہے. ابن القیم نے اپنی وقیع کتاب "أعلام الموقعین عن رب العالمين” کا نام ہی اس پس منظر میں رکھا ہے، "موقعین” کا معنی ہے دستخط کرنے والے، یہاں مراد وہ حضرات ہیں، جو فتوی پر دستخط کرتے ہیں.
ابن القيم اپنی ایک دوسری کتاب "التبيان في أيمان القرآن” میں قلم کی قسمیں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: والقلم الثالث: قلم التوقيع عن الله ورسوله، وهو قلم الفقهاء والمفتين. یعنی تیسرا قلم وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دستخط کی ذمہ داری نبھاتا ہے، وہ ہے فقہاء اور مفتیان کا قلم.
از راہ تمثیل کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح دنیاوی بادشاہوں کے دربار میں ان کے دستخط کنندگان کا منصب ہوتا ہے، وہ اپنے قلم سے دراصل بادشاہ کے حکم کو نافذ کرتے ہیں، بالکل اسی طرح اہلِ فتوی کا مقام ہے کہ ان کے قلم گویا اللہ رب العالمین کے حکم پر دستخط کرتے ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ بادشاہوں کے دستخط دنیاوی فیصلوں پر ہوتے ہیں، جبکہ مفتی کا دستخط ربانی حکم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس نزاکت کی بنا پر منصبِ افتاء کو علما نے نہایت ہی ذمہ دارانہ اور احتیاط طلب منصب قرار دیا ہے۔ گویا یہ نہایت حساس اور ذمہ داری کا کام ہے، بلکہ اس تناظر میں علماء نے قضاء اور افتاء میں حساسیت کے فرق پر بھی بات کی ہے کہ ان میں سےکس منصب کی ذمہ داری زیادہ حساس اور اہم ہے؟ شاید بعض حضرات جیسے علامہ نووی وغیرہ ان کے ہاں افتاء کی نزاکت بعض پہلوؤں سے قضاء پر فوقیت بھی رکھتی ہے۔
بہر حال اس سے پتہ چلتا ہے کہ اہل علم منصب افتاء کو غایت درجہ اہتمام دیتے ہیں، اس لیے وہ فتوی دیتے وقت نہایت احتیاط کرتے نظر آتے ہیں. فتوے کی اہمیت، شرائط، اصول، آداب اور منہج سبھی کو سامنے رکھ کر اس بھاری ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرتے ہیں. خاص طور پر اگر فتوی سے کسی کے عقیدے پر زد پڑتا ہو یا فتوی عائلی وخانگی معاملات یا باہمی نزاعات کے حل سے متعلق ہوتو اہل علم نہایت تثبت مگر غیر معمولی احتیاط اور باریک بینی سے رائے دیتے ہیں. کبھی جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہاں سوال کے ضمن میں کوئی اور مقصد حاصل کیا جاتا ہے تب وہ فتوی دینا ضروری ہی نہیں سمجھتے! ایک مثال ذہن میں آئی ہے.
نیاز فتح پوری صاحب جو برصغیر کے ممتاز انشاء پرداز، نقاد اور عقلیت پسند دانشور تھے، اپنے زمانے کے بڑے آزاد خیال، متجدد، بلکہ الحاد کے سرخیل تھے، ان کی ادارت میں ماہنامہ "نگار” نکلتا تھا، اس کے چند ناقص شمارے ہمارے ہاں لائبریری میں بھی موجود ہیں، آرکائیو پر بھی دستیاب ہیں، کئی کتابیں بھی انہوں نےتحریر کی ہیں، اپنے خاص پس منظر اور منفرد فکر ونظر کی وجہ سے مذہبی موضوعات بھی قلم فرسائی کرتے تھے، بلکہ سید سلیمان ندوی صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ اکثر ان کی نوک جھونک چلتی رہتی تھی، سید صاحب "المعارف” کے مدیر تھے، وہ”نگار” کے.
فتح پوری صاحب بنیادی طور ایمان وکفر، شرک واسلام جیسے اصطلاحات کو شی لا حاصل سمجھتے تھے، عبادات کو محض تحسینیات کا مقام دیتے تھے، اخلاق اور نیکی کے کام ہی ان کے نزدیک نجات وعذاب کا سبب تھے، اسی کی بنیاد پر وہ کہتے تھے : "کہ ایک بدکار مسلمان قطعا ناری اور ایک نیکو کار برہمن یقینا ناجی ہے”. اسی طرزِ فکر کی جھلک آج بھی بعض معاصر اہلِ فکر کے ہاں ملتی ہے جو یہ کہہ گزرتے ہیں کہ ” ان کی رائے میں بے شعور مسلمان سے باشعور ملحد بہتر ہے”۔ ظاہر ہے کہ یہ تعبیر شریعت کی میزان پر تو کہیں درست نہیں۔
بہر حال فتح پوری صاحب نے ایک فتوی لکھا، جس کا مضمون یہ تھا:
ایک شخص خاندانی مسلمان ہے اور خود بھی نہایت پابند صوم و صلوٰة ہے۔ تہجد گزار ہے، ذکر و شغل کا بھی عادی ہے، وضع ظاہری بھی بالکل شریعت اسلام کے مطابق رکھتا ہے۔ لیکن زندگی اس کی مکرو فریب کذب و افتراء ایذار سانی و قطع رحمی میں بسر ہوتی ہے۔ دوسرا شخص قوم کا برہمن، پشتینی کافر و مشرک ہے، اس کے گلے میں بتوں کی ہیکل پڑی رہتی ہے، رات دن پوجا پاٹ کرتا رہتا ہے، مگر اس کے ساتھ اس کی زندگی ابناء جنس کی خدمت، یتامی کی پرورش، بیواؤں کی ہمدردی میں بسر ہوتی ہے اور اس کی ذات یکسر امن و سکون ہے۔
براہ کرم مذہب اسلام کے نقطہ نظر سے بتائیے کہ ان دونوں میں کون ناجی ہے اور کون ناری؟ یا دونوں ناری؟
یہ استفتاء بنا کر انہوں نے ہندوستان کے بتیس علمائے کرام کو بھیجا، ظاہر ہے، یہ سوال دراصل علماء کو پرکھنے اور اور ان کے آراء جمع کرکے تضادات نمایاں کرنے کی ایک چال تھی، نہ کہ حقیقتاً کسی حکم کے حصول کی کوشش۔ جیسا کے ان کے ثبت کردہ پوری روداد پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے، یہ روداد ان کے ماہنامہ "نگار” میں ہے، اپنی کتاب "من ویزدان” میں بھی انہوں نے نقل کی ہے.
ان کے مذکورہ سوال کا 24 اکابر علماء نے جواب دیا ہے، ان میں سے حکیم الامت مولانا تھانوی رحمہ اللہ کا جواب بڑا دلچسپ اور احتیاط کا اعلی نمونہ ہے، انہوں نے صرف اتنا جواب دیا ہے: سوال تنقیح طلب ہے، جو تحریر میں خالی از تکلف نہیں، ایسے سوال کا جواب زبانی ہوسکتا ہے.
بس اتنا سا یک سطری جواب ۔
گویا انہوں نے اپنے جواب سے بتادیا کہ ایک تو سوال کی بنیاد ہی مشتبہ اور غیر حقیقی لگ رہی ہے، دوسرا یہ کہ اس نوعیت کے حساس معاملات میں قلم اٹھانے سے پہلے قضیے کی تنقیح پر غیر معمولی توجہ ضروری ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ اس کا جواب زبانی دیا جاسکتا ہے۔
یہ جواب جہاں فتوے میں حضرت کے غایت احتیاط کی علامت ہے، وہاں ہم جیسوں کے لیے منصب افتا کی نزاکت سمجھانے کی عملی تعلیم ہے۔
یہاں بطور علمی لطیفہ کے یاد آیا، علامہ ابن القیم کی جس کتاب کا تذکرہ اوپر آیا، "أعلام الموقعين” اس کا پورا نام "أعلام الموقعين عن رب العالمين” ہے. اس کے نام کے ضبط میں بڑا دلچسپ اختلاف ہے. بعض کے ہاں نام "أعلام الموقعين”، ہمزہ کے فتحے کے ساتھ، علم کی جمع ہے، "معالم ” کے ہم معنی ہے، جس طرح علامہ خطابی کی دو حدیثی شروح ہیں: ابو داود کی شرح کا نام”معالم السنن ” اور بخاری کی شرح کا نام”أعلام الحديث ” ہے، دونوں ہم معنی ہیں، صرف الفاظ کا فرق ہے.
بعض حضرات اس کو”إعلام الموقعين ” بکسر الہمزہ پڑھتے ہیں، شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ ، مولانا ظفر احمد تھانوی صاحب رحمہ اللہ کی کتاب "قواعد في علوم الحديث” پر اپنی تحقيق میں ایک جگہ اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ یہ ” بکسر الہمزہ” ہے، یعنی "إعلام الموقعين” ، فرماتے ہیں ، میں نے علامہ راغب الطباخ اور علامہ کوثری سے اس کا ضبط ایسا ہی سنا ہے.
زیادہ دلچسپ علامہ کشمیری رحمہ اللہ کا ہے، وہ "فیض الباری” میں لکھتے ہیں کہ اس کا درست تلفظ "إعلام الموفقين” ہے. بہر حال! جو بھی نام ہو، کتاب اپنی مثال آپ ہے ، ویسے تو ابن القیمؒ کی تمام تصانیف کمال کی ہیں، لیکن یہ کتاب اپنے موضوع کے لحاظ سے ان میں سرفہرست ہے۔ اصولی مباحث، فقہی استطرادات، فقہ وفتوی کی اہمیت، فقہ کی تاریخ اور قضاء جیسے مباحث پر بے مثال ذخیرہ ہے۔ قضاء کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشہور خط جو اسلام کے عدالتی نظام کےلیے دستور کی حیثیت رکھتا ہے، امام محمد رحمہ اللہ اپنی کتاب "الاصل” کی ابتداء اسی سے کرتے نظر آتے ہیں، اس کی سب سے مفصل شرح اس کتاب میں آئی ہے، کم وبیش دو جلدیں کتاب کی اس خط کی تشریح، اس سے مستنبط ہونے والے اصول وضوابط پر مشتمل ہے.
بہر حال، حاصل تحریر یہ ہے کہ افتاء کا منصب دراصل علمی اعتماد ووثوق اور کامل احتیاط وبیدار مغزی کا امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت رحمہ اللہ جیسے اکابر نے مشتبہ سوالات پر قلم روک کر، گویا اپنے عمل سے بتا دیا کہ کبھی کبھی سکوت بھی سب سے بڑا جواب ہوتا ہے۔