کیا امت واقعی یتیم ہو گئی ہے؟

گزشتہ دنوں حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب کا انتقال ہوا۔ یہ خبر امت کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ آج ایک اور گمنام مگر عظیم مذہبی شخصیت بھی دنیا سے رخصت ہو گئی، جنہیں دنیا کم جانتی تھی مگر ان کی زندگی اور تحریک گزشتہ برسوں میں زیړ نظر رہی۔ ان کی خاموش محنت نے امت کو حقیقی معنوں میں دین کی راہ پر لانے کی کوشش کی۔

یہ وہ عاجز شخصیت تھیں جنہیں نہ اسکرین پر دیکھا گیا نہ شہرت کے چرچے میں، مگر ان کے شاگرد اور نسبت رکھنے والے ہی ان کا اصل تعارف ہیں۔ "البرہان” جیسی نرسری ان کی تیار کردہ ہے، جو نوجوانوں کو فتنوں کے دور کی دلدل سے نکالنے کی خوبصورت محنت کر رہی ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر F-10 کی ختمِ نبوت مسجد میں اس کا عملی منظر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں نوجوان دین کے جذبے کے ساتھ اپنی جوانی کو ایک مقصد میں لگا رہے ہیں۔ ان کا علم، رویہ اور زندگی کا نظم و ضبط ایسا شاندار ہے کہ رشک آتا ہے۔

حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب بھی اسی فکر کے حامل تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ دوسرا سانحہ ہے جو امت کے سر پر ایک بڑا سایہ تھا، وہ اٹھ گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا امت یتیم ہو گئی؟ کیا سہارا ختم ہو گیا؟ اسلام کا جواب واضح ہے۔ سب سے بڑا صدمہ نبی کریم ﷺ کی وفات تھی۔ مگر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا: "جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ وفات پا گئے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ ہمیشہ زندہ ہے۔” اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو قیامت تک ہر شعبۂ زندگی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں دین کی تکمیل کا اعلان ہو چکا تھا۔ اب دین کسی ایک شخصیت پر منحصر نہیں، بلکہ قرآن و سنت پر قائم ہے۔

امت کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ "امت یتیم ہو گئی” جیسے جملے کہنے کے بجائے دین کی محنت کو جاری رکھا جائے۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے امت کو حوصلہ دینا چاہیے۔ دین کا ڈھانچہ ہمارے پاس موجود ہے، اس کے مطابق محنت کرنا ہی اصل فریضہ ہے۔

یقیناً ایسی ہستیوں کا چلے جانا امت کے لیے ایک مشکل مقام ہوتا ہے، لیکن اصل نقصان یہ ہے کہ دین کی محنت میں کمزوری آ جائے۔ امت یتیم نہیں، کیونکہ اللہ ہر دور میں اپنے بندے چنتا ہے جو دین کو زندہ رکھتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے