27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کا قتل محض ایک سیاسی رہنما کی جان لینے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان میں شہری سیاست کی حیثیت، ریاستی طاقت کے ڈھانچے اور سچ کو دبانے کی روایت کا ایک کھلا مقدمہ تھا۔ برسوں گزر جانے کے باوجود یہ سانحہ آج بھی حل طلب ہے، اور شاید اسی لیے اسے مختلف بیانیوں کے نیچے دفن کرنے کی مسلسل کوشش کی گئی۔
ابتدا میں الزام اسامہ بن لادن اور القاعدہ پر عائد کیا گیا۔ یہ تاثر دیا گیا کہ بینظیر بھٹو ایک ایسی رہنما تھیں جو اقتدار میں آ کر شدت پسند تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی تھیں۔ مگر یہ دعویٰ پاکستان کے سیاسی و ریاستی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان میں خارجہ پالیسی، افغانستان اور کشمیر سے متعلق فیصلے، اور سلامتی کے معاملات کبھی بھی منتخب شہری قیادت کے اختیار میں نہیں رہے۔ یہ تمام شعبے ہمیشہ عسکری اور سلامتی کے اداروں کے دائرۂ اختیار میں رہے ہیں۔ اس حقیقت سے نہ صرف عالمی طاقتیں واقف ہیں بلکہ شدت پسند تنظیمیں بھی اسے بخوبی سمجھتی ہیں۔
یہ سوال فطری ہے کہ اسامہ بن لادن ایک ایسی سیاسی رہنما سے کیوں خوفزدہ ہوتا جو نہ فوج کی کمانڈر تھیں، نہ کسی خفیہ ادارے پر ان کا کنٹرول تھا، اور نہ ہی وہ اقتدار میں تھیں۔ مزید یہ کہ اسامہ بن لادن کا برسوں تک ایبٹ آباد جیسے حساس فوجی شہر میں موجود رہنا اس دعوے کو مکمل طور پر بے معنی بنا دیتا ہے۔ اگر وہ وہاں محفوظ رہ سکتا تھا تو بینظیر بھٹو اس کے لیے کس طرح خطرہ بن سکتی تھیں؟
جب اس بیانیے کی کمزوری واضح ہوئی تو الزام تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کے سربراہ بیت اللہ محسود پر منتقل کر دیا گیا۔ بظاہر یہ موقف زیادہ قابلِ قبول دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ بھی اتنا ہی کمزور ہے۔ طالبان سے متعلق پالیسی، چاہے وہ مذاکرات ہوں یا فوجی آپریشن، ہمیشہ عسکری اداروں نے ترتیب دی۔ شہری سیاست دانوں کا ان معاملات میں کوئی عملی کردار نہیں رہا۔ بینظیر بھٹو کے پاس نہ فاٹا میں کارروائی کا اختیار تھا اور نہ ہی وہ ریاستی طاقت کی اصل فیصلہ ساز تھیں۔ پھر ایک ایسی خاتون سیاست دان کو نشانہ بنانے کا محرک کیا تھا جو خود نظام کے اندر محدود حیثیت رکھتی تھیں؟
اس مقدمے کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر واقعی طالبان یا ٹی ٹی پی ذمہ دار تھے تو بعد میں کیا ہوا؟ 2008 سے 2013 تک پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی۔ صدر، وزیرِ اعظم اور وزارتِ داخلہ سب ان کے پاس تھے۔ اگر قاتل معلوم تھے تو ان کا تعاقب کیوں نہ کیا گیا؟ سہولت کاروں کو بے نقاب کیوں نہ کیا گیا؟ اور سیکیورٹی کی ناکامی کے ذمہ داروں سے حساب کیوں نہ لیا گیا؟ یہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان ہے، جو اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ اصل سچ کو چھونا سیاسی طور پر ممکن نہیں تھا۔
اس کیس سے جڑے کئی افراد کا پراسرار طور پر مارا جانا بھی تشویش ناک ہے۔ سابق پولیس افسر خالد شہشاہ سمیت کئی نام ایسے ہیں جو ممکنہ طور پر اہم معلومات رکھتے تھے، مگر وہ یا تو مارے گئے یا منظر سے غائب ہو گئے۔ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب ریاستی ڈھانچے میں کہیں نہ کہیں طاقتور مفادات سرگرم ہوں۔ عسکریت پسند تنظیمیں گواہوں کو عدالتی نظام سے یوں غائب نہیں کر سکتیں۔
لیاقت باغ میں جرم کی جگہ کو فوری طور پر دھونا شاید اس پورے معاملے کی سب سے واضح علامت ہے۔ یہ فیصلہ کسی دہشت گرد نے نہیں کیا، بلکہ انتظامی سطح پر کیا گیا۔ اس اقدام نے فرانزک شواہد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ یہ نااہلی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا عمل معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد سوالات کو ختم کرنا تھا، نہ کہ ان کے جواب تلاش کرنا۔
اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ پہلا موقع نہیں جب کسی بڑے سیاسی قتل کے بعد حقیقت تک پہنچنے کی راہیں بند کی گئیں۔ لیاقت علی خان کے قتل سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی انجام تک، جنرل ضیاء الحق کے طیارہ حادثے سے لے کر دیگر سیاسی و صحافتی اموات تک، ایک ہی نمونہ بار بار سامنے آتا ہے: تحقیقات ادھوری، ذمہ داری غیر واضح، اور ادارے محفوظ۔
بینظیر بھٹو کا قتل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہیں اس لیے نہیں مارا گیا کہ وہ طاقتور تھیں، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک علامت تھیں—ایسی علامت جو ایک منظم، محدود اور کنٹرولڈ سیاسی نظام کے لیے غیر یقینی پیدا کر سکتی تھی۔ اسامہ بن لادن یا ٹی ٹی پی پر الزام رکھ کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دی گئی، جبکہ ریاستی ناکامی، غفلت اور ممکنہ شمولیت پر پردہ ڈال دیا گیا۔
جب تک پاکستان یہ تسلیم نہیں کرتا کہ شہری قیادت نہ بااختیار ہے اور نہ ہی اصل فیصلوں کی ذمہ دار، اور جب تک سیاسی قتلوں میں ادارہ جاتی احتساب ممکن نہیں ہوتا، تب تک بینظیر بھٹو کا قتل ایک معمہ نہیں بلکہ ایک مستقل فردِ جرم بنا رہے گا .ریاست کے خلاف، اور ہمارے اجتماعی ضمیر کے خلاف۔