تین ملکوں کی چار عورتیں ، ایک کہانی

جنوبی ایشیا کی سیاست کو اگر پچھلی نصف صدی میں کسی ایک قدرِ مشترک نے سب سے زیادہ متعین کیا ہے تو وہ طاقت، خاندان اور تاریخ کا باہم گتھم گتھا رشتہ ہے۔ اس خطے میں جمہوریت صرف اداروں کا نام نہیں رہی بلکہ اکثر ایک وراثتی داستان بن کر ہی سامنے آئی۔ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کی سیاست میں چار عورتیں ایسی ابھریں جنہوں نے نہ صرف اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کی بلکہ اپنی اپنی قوموں کی اجتماعی نفسیات پر گہرے نقوش بھی چھوڑے۔ اندرا گاندھی، بے نظیر بھٹو، خالدہ ضیاء اور حسینہ واجد، بظاہر یہ چار الگ زندگیاں ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں۔

ان چاروں کا سب سے پہلا اور نمایاں مشترک پہلو سیاست میں ان کا داخلہ ہے۔ کوئی بھی خالصتاً نچلی سطح کی سیاسی جدوجہد سے اوپر نہیں آئی۔ اندرا گاندھی جواہر لال نہرو کی بیٹی تھیں، بے نظیر بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی وارث، خالدہ ضیاء جنرل ضیاء الرحمن کی اہلیہ اور حسینہ واجد شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی۔ جنوبی ایشیا میں عورت کا اقتدار تک پہنچنا اکثر اسی وقت ممکن ہوا جب اس کے پیچھے ایک مقتدر مرد کا سایہ موجود تھا۔ یہ حقیقت ان کی کمزوری نہیں بلکہ اس سماجی اور سیاسی ڈھانچے کی عکاس ہے جہاں عورت کے لیے قیادت کا دروازہ خاندانی شناخت کے بغیر شاذ و نادر ہی کھلتا ہے۔

تاہم ان کا دوسرا مشترک پہلو یہ ہے کہ اقتدار انہیں وراثت میں ضرور ملا، مگر اسے سنبھالنا اور برقرار رکھنا ایک کڑی آزمائش ثابت ہوا۔ اندرا گاندھی کو داخلی بغاوتوں، معاشی دباؤ اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا۔ بے نظیر بھٹو نے فوجی اسٹیبلشمنٹ، عدالتی مداخلت اور مسلسل سیاسی عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضا میں حکومت کی۔ خالدہ ضیاء اور حسینہ واجد کی سیاست تو باقاعدہ ایک مستقل محاذ آرائی میں تبدیل ہو گئی جہاں ریاستی ادارے بھی دو حصوں میں بٹے دکھائی دیے۔ یہ عورتیں محض علامتی سیاست دان یا وزیر اعظم نہیں رہیں بلکہ انہیں روزانہ اقتدار کی جنگ لڑنا پڑی۔

ان چاروں کی جدوجہد میں ذاتی صدمات کا عنصر بھی غیر معمولی طور پر مشترک ہے۔ اندرا گاندھی نے اپنے بیٹے سنجے گاندھی کو حادثے میں کھویا اور بالآخر خود قتل ہوئیں۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کو تختہ دار پر چڑھتے دیکھا، بھائیوں کی پراسرار اموات کا صدمہ سہا اور آخرکار خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنیں۔ حسینہ واجد نے اپنے والد، والدہ اور خاندان کے بیشتر افراد کو ایک ہی دن میں قتل ہوتے دیکھا۔ خالدہ ضیاء نے اپنے شوہر کو قتل ہوتے دیکھا اور بعد ازاں قید، بیماری اور سیاسی تنہائی جھیلی۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والی یہ عورتیں دراصل ذاتی المیوں کی زندہ دستاویز تھیں۔

ایک اور اہم مشترک پہلو یہ ہے کہ ان سب پر آمرانہ طرزِ حکمرانی کے الزامات لگے۔ اندرا گاندھی کا ایمرجنسی کا دور آج بھی بھارتی جمہوریت کا سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔ بے نظیر بھٹو پر کرپشن اور گورننس کی کمزوری کے الزامات لگتے رہے۔ حسینہ واجد پر مخالفین کو کچلنے اور اداروں کو کمزور کرنے کے الزامات ہیں، جبکہ خالدہ ضیاء کو بھی اسی نوعیت کی تنقید کا سامنا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان الزامات میں کچھ حقیقت ہو یا نہ ہو، مگر یہ بات طے ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیاست میں عورت کو طاقتور دیکھنے کا ردعمل ہمیشہ زیادہ سخت اور بے رحم رہا ہے۔

ان کے اپنے مسائل بھی کم نہ تھے۔ یہ عورتیں مسلسل اس سوال کا سامنا کرتی رہیں کہ آیا وہ واقعی قائد ہیں یا محض کسی مرد سیاست دان کا تسلسل۔ خود کو منوانے کے لیے انہیں اپنے فیصلوں کو دوگنا ثابت کرنا پڑا، اپنی سختی کو قیادت اور مرد حکمرانوں کی سختی کو ریاستی ضرورت کہا گیا۔ ان کی کمزوریوں کو عورت ہونے سے جوڑا گیا اور ان کی مضبوطی کو غرور یا آمریت قرار دیا گیا۔ یوں ان کی سیاست صنفی تعصب کے مستقل امتحان سے گزرتی رہی۔ اندرا گاندھی ، بے نظیر بھٹو اور خالدہ ضیاء اپنے اپنے ملکوں میں پہلی خواتین وزرائے اعظم بنیں ۔

ان چاروں کی کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں جمہوریت محض آئینی عمل نہیں بلکہ جذبات، کہانیوں اور المیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ عوام نے ان عورتوں میں کبھی ماں، کبھی بیٹی اور کبھی لیڈر کی علامت دیکھی۔ یہ علامتی سیاست ان کی طاقت بھی بنی اور کمزوری بھی۔ طاقت اس لیے کہ عوامی ہمدردی انہیں بار بار اقتدار کے قریب لے آئی، اور کمزوری اس لیے کہ ادارہ جاتی اصلاحات پس منظر میں چلی گئیں۔

سوال یہ نہیں کہ اندرا، بے نظیر، خالدہ اور حسینہ کامیاب تھیں یا ناکام، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کے بعد جنوبی ایشیا کی سیاست عورت کے لیے زیادہ آسان ہوئی؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جواب اب بھی واضح نہیں۔ یہ چار عورتیں راستہ ضرور دکھا گئیں، مگر یہ راستہ ابھی تک کانٹوں سے خالی نہیں ہوا۔

ان تین ملکوں کی یہ چار عورتیں دراصل ایک ہی بے وزن کہانی کے کردار ہیں۔ طاقت کی، قربانی کی، وراثت کی اور اس خطے کی سیاست کی جہاں عورت کو اقتدار تو مل سکتا ہے، مگر سکون اور قبولیت اب بھی ایک خواب ہے۔

27 دسمبر 2007 جمعرات کی شام راولپنڈی کے لیاقت باغ میں میری آنکھوں کے سامنے گولیوں کی آواز گونجی ، خود کش دھماکہ ہوا اور رات اندھیری ہونے سے پہلے پاکستان کی سیاست میں بے نظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سے اندھیرا چھا گیا تاہم فروری کا صبح بے نظیر بھٹو کی پارٹی کے لیے اقتدار کا سورج لیکر طلوع ہوئی ۔ 30 دسمبر کو ڈھاکا میں خالدہ ضیاء کا مردہ جسم اسپتال سے گھر منتقل کیا جارہا تھا اور میں سوچ رہا ہوں کہ کیا فروری کے انتخابات بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے لیے ایسا ہی سورج لیکر طلوع ہوں گے ۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد بھی کہا گیا تھا کہ پارٹی ختم ہو جائے گی اور آج خالدہ ضیاء کی وفات کے بعد بھی یہی تبصرے ہورہے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے