مورخہ 11 ستمبر 2025 کو لاہور میں ایک مختصر مگر یادگار ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ میرے بھائیوں جیسے دوست، ہم جماعت ہونے کا اعزاز رکھنے والے، ہنس مکھ، خوش مزاج اور فکری طور پر بالغ شخصیت، عبداللہ مدثر لاہور آئے ہوئے تھے۔ ان کی مصروفیات کے باوجود ملاقات کی گزارش کی تو ان کی محبت و شفقت نے وقت نکال لیا۔ ایک سادہ سے چائے کے ڈھابے پر بیٹھ کر تعلیم، میڈیا اور آئندہ کے منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔ اسی ملاقات کے اختتام پر عبداللہ مدثر نے اپنے ہاتھ سے ایک کتاب تھمائی اور مسکراتے ہوئے کہا:
“اس پر تبصرہ کیجیے گا۔”
یہ کہنا شاید رسمی تھا، مگر اس کتاب پر تبصرہ کرنا واقعی ایسا محسوس ہوا جیسے سورج کو روشنی دکھانے کی کوشش ہو۔ اس کے باوجود پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ “آہ ترکی، واہ ترکی” محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ نوجوان ذہن کی فکری تشکیل، تہذیبی شعور اور مسلم تاریخ سے وابستگی کی ایک خوبصورت دستاویز ہے۔
عبداللہ مدثر کا یہ مختصر مگر بامعنی سفرنامہ پڑھ کر یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ آج کا باشعور نوجوان دنیا، معاشرہ اور تاریخ کو کس زاویے سے دیکھتا ہے۔ مصنف نے ترکی کے مختلف مقامات، گلیوں، مساجد، چوکوں اور روزمرہ زندگی کے مناظر کو محض سیاح کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ ایک مسلم نوجوان کے دل اور دماغ کے ساتھ محسوس کیا ہے۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں، ان کا اصل زادِ راہ ان کا جذبۂ ملی ہے۔ ترکی کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ان کے ذہن میں خلافتِ عثمانیہ کا ماضی، امتِ مسلمہ کی عظمت اور موجودہ زوال کے اسباب مسلسل گردش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سفرنامہ محض آنکھوں کا نہیں بلکہ فکر کا بھی سفر بن جاتا ہے۔
اسلوب کے اعتبار سے عبداللہ مدثر کی تحریر سادہ، رواں اور گفتگو کے سے انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ کہیں تصنع نہیں، کہیں گنجلک جملے نہیں۔ بعض مقامات پر قاری یہ خواہش ضرور کرتا ہے کہ کاش مصنف یہاں کچھ اور بھی لکھتے، اور بعض جگہوں پر خود مصنف کا نہ جا پانے کا افسوس بھی تحریر میں جھلکتا ہے، جو اس سفرنامے کو اور زیادہ انسانی اور سچا بنا دیتا ہے۔
استنبول کو جس دیدہ ریزی اور حساس نگاہ سے دیکھا گیا ہے، وہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ ترکی میں موجود مشرق و مغرب، قدیم و جدید، مذہب و مادیت کی دو تہذیبوں کے امتزاج کو مصنف نے بڑی فطری نظر سے محسوس کیا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ سے محبت، چند باقی رہ جانے والے تہذیبِ قدیم کے علمبرداروں سے ملنے والی امید، نئی نسل کے بعض رویّوں سے پیدا ہونے والی تشویش، اہلِ ترکی کی مہمان نوازی، یورپی ماحول میں بزرگوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر دل گرفتگی، اور موجودہ حکومتی طرزِ فکر کے تناظر میں مستقبل کی امید، یہ سب کیفیات اس سفرنامے کے بین السطور واضح طور پر نظر آتی ہیں۔
ایک اچھے سفرنامے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ قاری کے دل میں ان مقامات کو دیکھنے کی خواہش پیدا کر دے۔ “آہ ترکی، واہ ترکی” اس معیار پر پورا اترتا ہے۔ کتاب ختم ہونے کے بعد ترکی صرف نقشے کا ایک ملک نہیں رہتا بلکہ ایک جیتی جاگتی تہذیب بن کر قاری کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔
کتاب میں طنز و مزاح کی ہلکی سی آمیزش بھی ہے، جو تحریر کی روانی کو مزید خوشگوار بنا دیتی ہے۔ ترکی کے کبابوں کا ذکر، سابق صدر ضیاء الحق سے منسوب روایت اور پاکستانی معدے پر کی گئی ظریفانہ چوٹ، قاری کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔ مگر یہ مسکراہٹ جلد ہی تہذیبی زوال، خاندانی نظام کی کمزوری، عورت پر ڈالے گئے معاشرتی بوجھ اور بڑھاپے کی تنہائی جیسے گہرے موضوعات پر سوچ میں بدل جاتی ہے۔ یہی اس کتاب کی اصل طاقت ہے کہ یہ قاری کو محض تفریح نہیں دیتی بلکہ سوال بھی دیتی ہے۔
یہ کتاب سیاحت کے ساتھ ساتھ ایک معاشرتی اور تہذیبی تجزیہ بھی ہے۔ مصنف نے ترکی کی روشن گلیوں کے ساتھ ساتھ ان تاریک گوشوں کی بھی نشاندہی کی ہے جہاں چمکتی ہوئی تہذیب کے پیچھے انسانی رشتے، خاندانی قدریں اور اخلاقی توازن دھندلا جاتا ہے۔ یہی توازن اس سفرنامے کو عام سیاحتی تحریروں سے ممتاز بناتا ہے۔
آخر میں، “آہ ترکی، واہ ترکی” نوجوان اہلِ قلم عبداللہ مدثر کی ایک کامیاب ادبی کاوش ہے۔ یہ کتاب اس بات کی امید دلاتی ہے کہ اگر یہ سلسلۂ تحریر جاری رہا تو وہ محض تاریخ کے طالب علم نہیں بلکہ تاریخ رقم کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم میں مزید اثر، فکر میں وسعت اور نظر میں گہرائی عطا فرمائے۔ اللهم زد فزد۔ آمین