اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے عہد میں توازن اور کامیابی

نوجوان دوستو !
سال 2026 شروع ہو رہا ہے اب دس سال پہلے والی دنیا نہیں ہے بہت کچھ بدل چکا ہے، اے آئی تمام ہی شعبوں میں انقلاب برپا کر رہا ہے، آپ نے نئے برس میں اے آئی سیکھنی ضرور ہے۔ لیکن اے آئی سے متاثر نہیں ہونا جو کچھ دکھے ہو گا حقیقت میں وہ نہیں ہو گا، بلکہ دیوار کے پیچھے بالکل حقیقی دنیا مختلف ہو گی۔

آپ کو اگر اے آئی یا جدید علوم پر عبور بھی حاصل ہو جائے تو کبھی اپنی طاقت سے کٹنا نہیں ہے۔ انسان کی طاقت تقویٰ، توکل، یقین اور اُمید ہیں اگر ان کو قائم رکھا، تو کبھی مایوس نہیں ہوں گے۔

اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی جب آئے گی تو لوگ فطری زندگی کی طرف بھی جائیں گے، اس لیے آپ نے شروع سے ہی زندگی میں توازن ، میانہ روی اختیار کرنی ہے۔ اگر آپ کا کام جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی سے جڑا ہوا ہے ، یا آپ فری لانسر ہیں تو ہر وقت اپنے کام کو اپنے اوپر سوار نہ کریں ، بلکہ تھوڑی دیر کے لیے بھی آپ غوروفکر کے ساتھ اپنے کام پہ فوکس کر لیں۔ تو آپ کی توجہ سے کئی دنوں کا کام کچھ گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔

اے آئی سیکھنی بھی ہے، توازن بھی برقرار رکھنا ہے اور اپنے اندر کسی ناکامی کا خوف بھی نہیں آنے دینا، خوف کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اے آئی دور میں بھی مطالعہ ، سفر اور دیگر مثبت سرگرمیوں میں خوب حصہ لینا ہے۔

جدید دور میں آپ جتنا مرضی ہے دنیوی سطح پر بُلند مقام حاصل کر لیں لوگوں کو آپ کے غائب ہو جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس لیے ہمیشہ اپنا مقام اپنی منزل کا تعین کر کے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آپ کی منزل کیا ہے؟ آپ نے کہاں پہنچنا ہے ؟ یہ طے کر کے محنت شروع کریں۔

اپنے ساتھ ملنے والے ہر شخص کو دل سے خوش آمدید کہیں، دل سے شکریہ ادا کریں، اگر آپ کسی کی مدد کر سکتے ہیں تو دیر نہ کریں۔ مدد آپ دوسرے شخص کی کریں گے لیکن درحقیقت اس وقت آپ اپنی مدد کر کے ایک ایسے بُلند مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جو آپ کے لیے ہمیشہ کامیابی و کامرانی کے دروازے کھولے گا۔

اے آئی اور میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز، خصوصاً سوشل میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا کے رنگینی و روشنیوں کی ایک مٹی کے ذرّے کے برابر بھی اہمیت نہیں، اس بات کا اندازہ لگانا تھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن زندگی کے کسی موڑ میں یا زندگی کی آخری سانسوں میں اس کا اندازہ ضرور ہو جاتا ہے۔

انسان کے چہرے کی روشنی اور اس کی اہمیت بھی تب ہی رہے گی، جب وہ اپنے مالک کی رضا کے لیے ہر کام کا آغاز اور عزم کرے گا۔ نہیں تو یہ چہرے اور زندگی کی روشنی بھی موت کے ساتھ ہی قبر کی لحد میں چلی جائے گی۔

لوگوں سے امیدیں وابستہ نہ کریں ، مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فلاں شخص آپ کا کوئی کام کروا سکتا ہے تو یہ کوشش ضرور کریں ۔ اگر کسی کے توسط سے کوئی کام ہو جائے تو اس شخص کا شکریہ ادا کریں اس کے لیے دل سے دعا کریں، بلکہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو اپنی دعا میں شامل کر لیں۔ اور اپنے مالک کے حضور سربسجود ہو جائیں جس نے آپ کے لیے راستے ہموار کیے۔

اپنے راز کسی سے بھی شئیر نہ کریں، اپنا راز صرف اس ذات سے شئیر کریں جو آپ کے تمام رازوں کو جانتا ہے اسی سے مانگیں، وہ کبھی خالی نہیں لوٹائے گا۔

کسی بھی موڑ پہ آپ کی حوصلہ شکنی کرنے والے افراد کا ہجوم آپ کو نظر آئے گا جب کہ حوصلہ افزائی کرنے والے چند افراد ہی ملیں گے ، حوصلہ شکنی کرنے والوں کی طرف دیکھ کر مسکرائیں اور آگے بڑھیں ۔ حوصلہ افزائی کرنے والوں کی دل سے قدر کریں۔ اُن سے ہاتھ ملائیں اور اُنہیں اپنا حقیقی دوست سمجھیں۔

جو دوست آپ کے ساتھ ہمیشہ اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔ آپ کی قدر کریں، محافل میں عزت و تکریم سے پیش آئیں۔ مشکلات میں آپ کے ساتھ کھڑے رہیں ۔ آپ کے کسی بھی مشکل کام کو اپنا ذاتی کام سمجھ کر آپ کی مدد کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے تحائف ہیں ان کی آپ بھی دل سے قدر کریں۔ اللّٰہ کریم سے جب بھی مانگیں، ان دوستوں کے لیے بھی ضرور مانگیں۔ ان کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ کے لیے شامل کر لیں۔

زندگی کبھی خواہشات کے مطابق مت ڈھالیں، ضروریات کے مطابق اسے ڈیزائن کریں۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ کسی انسان کی تمام خواہشات آج تک پوری نہیں ہو سکیں، حتیٰ کہ کسی بادشاہ کی بھی۔

زندگی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ”شکر ادا کرنا“ ہے آپ ہمیشہ اس راز کو استعمال میں لاتے ہوئے زندگی بسر کریں۔ ہمیشہ اپنے سے کم حیثیت والے افراد کو دیکھ کر اپنی روح کو شکر گذارای کے احساس کے ساتھ سرشار رکھیں۔ آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے۔

یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ پہلے کہاں تھے اور اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔ اگر آپ وہیں ہیں جہاں پہلے تھے تو آج سے ہی آغاز کیجیے۔ اپنی منزل کا تعین کریں اور چلنا شروع کر دیجیے۔ آپ مندرجہ بالا نکات ذہن میں رکھ کر جس سفر پہ بھی نکلیں گے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کبھی نا کام نہیں ہوں گے۔ اگر آپ پہلے سے بہتر ہیں، منزل کی جانب بڑھ چکے ہیں۔ تو شکر گذاری کو اپنی عادات میں شامل کیجیے اور آگے بڑھتے جائیے۔

نوٹ : مندرجہ بالا تحریر ایک سال قبل لکھی گئی تھی، چند نکات میں حالاتِ حاضرہ کے مطابق مصنف نے تبدیلی کر کے قارئین کی دلچسپی و رہنمائی کے لیے دوبارہ شائع کی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے